Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

فاٹا کے دکھ- شاہسوار حسین

Print Friendly, PDF & Email

فاٹا یعنی قبائلی علاقہ جات جو سات ایجنسیوں پہ مشتمل ہے جس کا کل رقبہ 27220 مربع کلومیٹر اور 1998ء کے مردم شماری کے مطابق کل آبادی 3176331 افراد پہ مشتمل ہیں. سب سے پہلے ظلم تو یہ ہے کہ مردم شماری آج تک قبائلی علاقہ جات میں صحیح طرح سے نہیں ہوئی ہے جس کی ایک واضح مثال ضربِ عضب کے آپریشن میں بے گهر ہونے والوں کی تعداد ہیں جو کہ صرف ایک ایجنسی کی نصف آبادی تهی پهر بهی چودہ لاکھ افراد گھروں سے نکل گئے تھے. تو کل آبادی کتنی ہوگی؟ یہی حال باقی ایجنسیوں کا بهی ہیں.
قبائلی علاقہ جات وفاق کے زیر انتظام ہے اور اسلام آباد کے بعد یہ دوسری اکائی ہے . گو کہ ان کو وفاق کے زیر انتظام اس لیے رکها گیا تها کہ یہ جلد ترقی کرکے باقی پاکستان کے برابر ہو جائے لیکن افسوس کہ ترقی تو دور کی بات ہے آج بھی وہی پرانے زمانے کے انگریز کے کالے قانون ایف سی آر (فرنٹیئر کرائم ریگولیش) کے تحت عوام کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر رکها گیا ہے. جس میں تین چیزوں کی عوام کو حق ہی حاصل نہیں. وه تین چیزیں 1: اپیل 2: وکیل 3: دلیل ہیں
یعنی ہم فاٹا والوں کو نہ کسی کیس میں اپیل کا حق ہے نہ کوئی وکیل کر سکتے ہیں اور نہ ہی ثبوت دے سکتے ہیں. عدالتوں تک ہمیں رسائی ہی حاصل نہیں. مطلب ایک بار انتظامیہ نے سر پر جرم تھوپ دیا تو آپ کئی سال یا عمر بهر سلاخوں کے پیچھے سڑتے رہو گے اب انتظامیہ کے ساتھ با اثر افراد سے مقدمہ کرنا خود کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دینے کے مترادف ہے.
دوسرا ظلم یہ ہے کہ اگر کوئی جرم کرے اور فرار ہوجائے تو اس جرم کی سزا یا تو باپ یا بهائی کو بھگتنا پڑے گا. اگر ان میں سے کوئی ہاتھ نہ لگا تو قریبی رشتے دار بهی اس آفت سے نہیں بچ سکتے. بھلا دنیا کے کون سے حصے میں ایسا ہوتا ہے یا کون سی دین میں یہ اجازت ہے کہ جرم ایک انسان کرے ان کی سزا دوسرا شریف النفس اور بے گناہ انسان بھگتے؟
ہر انسان کے اندر وقت کے مطابق تبدیلی آتی رہتی ہیں کب وه کیا جرم کرے کس کو غیب کا علم ہے؟ اگر جرم کرے تو انہی کو پکڑ کر سزا دی جائے نا ، خاندان کے باقی بے قصور لوگوں کو کیوں اذیت ناک مراحل میں سے گزرنا پڑتا ہے؟

شاید کوئی یقین ہی نہ کریں لیکن آج بھی فاٹا میں اکثر علاقوں میں نیٹ کی سہولت بھی ختم کر دی گئی ہے کیونکہ سوشل میڈیا تک فاٹا عوام کی رسائی، سیاسی شعور کی بیداری اور اپنے حقوق کے حصول سے حکمران خوفزدہ ہیں. اب اس سے بڑی منافقت اور کیا ہوگی جو فاٹا کو ترقی دینے کی باتیں کرتے ہیں.
یہاں پر جو پولیٹیکل ایڈمنسٹریشن نظام ہے وه صرف اور صرف چند مخصوص با اثر خاندان کے لئے ہے. پولیٹیکل ایجنٹ کو یہاں پر مکمل اختیار دیا گیا ہے اور ان کی مرضی کے بغیر پتا بهی نہیں ہل سکتا. با اثر افراد تو اپنے اثر و رسوخ کے سبب مقدمات سے بری تو کیا ان کے خلاف مقدمہ درج ہی نہیں کیا جاتا لیکن عام غریب کسان، مزدور اور چرواہے جیسے لوگ اگر ایک بار شکنجے میں آگئے تو سالوں سال پرسان حال کوئی نہیں ہوتا.
میڈیا آزاد نہیں وه اپنی مرضی سے خبر نہیں چلا سکتی. جو خبر نشر کرنا ہو تو ایڈمنسٹریٹر کے تصدیق اور اجازت کے بعد ہی نشر ہوتی ہے. ورنہ کوئی بھی وہاں کے مسائل کو کهل کر پیش کریں اور بعد میں ان کا رد عمل بهی دیکھیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوگا.
میں جو یہ تحریر لکھ رہا ہوں یہ بھی ایک بہت بڑی رسک ہے. اگر ان کے علم میں یہ تحریر آگئی تو شاید ہم بھی سلاخوں کے پیچھے سڑتے رہیں گے اور کوئی پوچهنے اور چھڑانے والا بهی نہیں ہوگا لیکن کب تک غلامی کی زنجیریں پاؤں میں پائل کی طرح باندھ کر جئیں گے؟ آج ہم تو باہر ممالک میں آ کر محفوظ ہیں اور جاب سے اچھی خاصی رقم بهی مل جاتی ہے لیکن وه بے کس اور لاچار لوگ کیا کریں جن کے چولہے کبهی جلتے ہیں کبهی نہیں جلتے. دو وقت کی روٹی کے لیے ترستے ہیں. ایسے میں ہمارے حلق سے حلوہ اور بریانی کیسے اترے؟
آج ہم یونہی اپنی جان کی فکر کر کے خاموش رہیں گے تو آنے والی نسلوں کو کیا دیں گے؟ وه بهی ہمیں معاف نہیں کریں گے .
ایجنسیوں کے افغانستان کے ساتھ حدود ہونے کی وجہ سے اچھی خاصی آمدنی ملتی ہے جو ایڈمنسٹریشن اور فاٹا سیکرٹریت کے جیبوں میں چلی جاتی ہے. ان کی واضح ثبوت یہی کافی ہے کہ ایک پولیٹیکل ایجنٹ کسی ایجنسی میں تبادلے پر آج کل ستر لاکھ سے لیکر ایک کروڑ روپے تک دیتا ہے. جب وه یہاں آتا ہے تو پہلے اپنا ایک کروڑ وصول کرتا ہے اس کے بعد بھی جتنا کما سکتا ہے کما لیتا ہے اور یہ رقم آگے اوروں کے جیبوں میں بھی جاتا ہے تو وه بهی خاموش ہونے کے ساتھ ساتھ ایڈمنسٹریشن سے خوش بهی ہوتے ہیں.
سب سے زیادہ پاراچنار یعنی کرم ایجنسی کو ترقی یافتہ کہتے ہیں لیکن وہاں بھی ہسپتال، سکول اور کالج چالیس سال پہلے بنے ہوئے ہیں اور آج بھی وہی ہے بلکہ آج کل ان کی حالت بہت خراب ہے. سرکاری ہسپتال میں دوائیاں مفت میں تو ملتی نہیں البتہ پیسوں سے بھی کبهی کبهی نہیں ملتی. سرکاری ادویات انتظامیہ کی ملی بھگت سے باہر فروخت کر دی جاتی ہیں اور اکثر افغانستان کو سمگل کی جاتی ہیں اور وہاں سے بھی بہت سی چیزیں سمگل ہوتی ہیں اور ان سے اچها خاصا منافع ایڈمنسٹریشن کو ملتا ہے کیونکہ سمگلنگ کا کام ہر کوئی نہیں کر سکتا بلکہ صرف وہی با اثر افراد کرتے ہیں جو مقامی انتظامیہ کو بهی اپنا حصہ دیتے ہیں. اس سمگلنگ میں صرف عام چیزیں نہیں ہوتی بلکہ اسلحے سے لیکر منشیات تک ہوتی ہیں.
آج فاٹا کی نئی نسل نے تعلیم کی اہمیت کو جانا ہے وه تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں وه اپنے جائز حقوق مانگنا چاہتے ہیں لیکن کچھ سرکاری وڈیرے ان کے مطالبات کے آگے ڈھال بنے ہوئے ہیں کیونکہ ان کو باقاعدہ علاقائی انتظامیہ سے جیب خرچ ملتا رہتا ہے اتفاق سے ان مشران یعنی لیڈران میں سوائے ایک دو کے باقی سب ان پڑھ ہیں. یقین نہ آئے تو جا کر ان کے فیصلوں اور جرگوں میں دستخط کی بجائے انگوٹھیوں کے نشان دیکھیں.
اب سوال یہ ہے کہ وفاق کب تک قبائلی علاقہ جات کو یونہی پسماندہ رکھ کر ان کو اندھیروں میں رکھے گی؟
آج فاٹا کے نوجوان چالیس سال پہلے کے نوجوان نہیں رہے ہیں ان کو اپنے حقوق کا تحفظ کرنا آتا ہے اور اگر یونہی آوازیں دبائی جاتی رہی تو آنے والا وقت شاید بھیانک نتائج کا حامل ہوگا. فاٹا کی اگر مکمل شفاف مردم شماری کی جائے تو میں شرطیہ کہہ سکتا ہوں کہ تقریباً ستر لاکھ سے لیکر اسی لاکھ تک آبادی پہنچ گئی ہیں لیکن وفاق کبهی آزاد اور شفاف مردم شماری نہیں کرے گی.
آج اگر فاٹا کے عوام ایف سی آر جیسے کالے قوانین کا خاتمہ اور پختون خواہ صوبے میں ضم ہونا چاہتی ہیں تو اس میں برائی کیا ہے؟ کیوں گنتی کے چند مخصوص ان پڑھ افراد کے فیصلے کو اکثریت کے آواز پر ترجیح دی جاتی ہے؟ صاف صاف بات ہے کہ ان ان پڑھ افراد سے انتظامیہ اور وفاق اپنا مفاد حاصل کرتی ہے اور فاٹا کے عوام کو زر خرید غلام سے زیادہ کچھ اہمیت حاصل نہیں.

Views All Time
Views All Time
505
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   صبح کا بھولا-عتیق کیانی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: