Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

الفاظ اب بارود بن کر برستے ہیں – شاہسوار حسین

by فروری 10, 2017 بلاگ
الفاظ اب بارود بن کر برستے ہیں – شاہسوار حسین
Print Friendly, PDF & Email

ایم ایس کے دفتر کی گھنٹی بجی تو خدا بخش چائے کا کپ وہیں چهوڑ کر دفتر کی طرف تیزی سے لپکا. اندر داخل ہوتے ہی "جی ڈاکٹر صاحب” کہہ کر سینہ تان کر سیدھا کهڑا رہا. پنشن ہونے کے بعد بهی خدا بخش خود کو ایک نئے تازہ دم سپاہی سے کم نہیں سمجھتا تھا اور ہر وقت وہی انداز اپنائے رکھتا۔
” خدا بخش ذرا ڈاکٹر سیمی کو بلا لیجیے” ڈاکٹر وجاہت بولے. ڈاکٹر وجاہت دماغی امراض کے اس چھوٹے سے ہسپتال کے ایم ایس تهے. اور ایک مخصوص عملے کے ساتھ مریضوں کا علاج کیا کرتے اور انچارج بهی تهے. یہاں مریضوں کو باقی ہسپتالوں کی طرح زیاده الیکٹرک شاک نہیں دیئے جاتے تھے. چهوٹا سا ہسپتال تها عمارت کچھ یوں بنی ہوئی تھی کہ چاروں طرف کمرے ، دفاتر اور لیبارٹری وغیرہ تهیں بیچ میں صحن تها چاروں طرف ایک مضبوط جالی لگی تھی ایک گیٹ تها مریضوں کو دن میں وہاں لایا جاتا جس کا مقصد انہیں دھوپ سینکنے اور کھیلنے اور تفریح کرنے کی اجازت دینا تها۔ اندر کیاریاں اور ان میں رنگ برنگے پهول، چند چھوٹے چھوٹے درخت تهے اس صحن پر چاروں طرف سے نظر رکھی جا سکتی اور کچھ ڈاکٹر اور نرس اندر ان کے ساتھ کھیل کود اور بات چیت کرتے اور ہر مریض کی ذہنی کیفیت درج کی جاتی.
ڈاکٹر سیمی فائل ہاتهوں میں لئیے ایم ایس کے دفتر میں آئی ” جی سر آپ نے مجهے بلایا؟ ” ہاں ڈاکٹر سیمی، مجهے ذرا مریضوں کے بارے میں پوچھنا تها کہ آج کل کیا پروگریس ہے کسی میں کچھ بہتری کے آثار ہیں؟ "
"جی سر، کئی مریض اب پہلے کی طرح تنگ نہیں کرتے اور اب اپنے کھوئے ہوئے ماضی کو یاد کرنے کی کوشش میں ہیں” ڈاکٹر سیمی نے بتایا. "اوه، بہت خوب، مجهے امید ہے کہ آپ اور دیگر عملے کے زیر نگرانی انہیں جلد صحتیابی ملے گی. ٹھیک ہے اب آپ جا سکتی ہیں ” . ” شکریہ سر” ڈاکٹر سیمی پر عزم لہجے میں کہہ کر چہرے پر مسکراہٹ لے کر باہر نکل گئی.
ان مریضوں میں اکثر ایسے تھے جو کسی نہ کسی سانحے کے بعد اپنے ہوش و حواس کھو چکے تھے یا یوں سمجھیں کہ ان سے ان کے حواس چھین گئے تھے . انہی میں ایک وسیم بهی تها جو کبهی اتنا کھویا رہتا کہ کئی دنوں تک چپ کا روزہ نہیں توڑتا لیکن ڈاکٹر سیمی خاص توجہ بهی اسی پہ دیتیں اور کوشش کرتی کہ وه کچھ بولے.
آج وه پھولوں کو سونگھتا جاتا غور سے دیکهتا پهر چوم کر پیار کرتا پهر ہوا میں گھور کر ایک ہلکی سی مسکراہٹ سے اگلے پهول کی طرف بڑھ جاتا.
ڈاکٹر سیمی اس تبدیلی کو محسوس کرتی رہی دیکھتی رہی اور آخر اس کے قریب جا کر بیٹھ گئی. ” آپ کو پهول پسند ہیں؟” ڈاکٹر سیمی نے بات کرنا چاہی.
وسیم چھوٹے بچے کی طرح اچھلتا ہوا اس کے قریب آ کر بیٹھ گیا اور کہا” پتہ ہے مجهے بچپن سے رنگ برنگے پھول اور اس کی مہک، خوبصورت تتلیوں کی اڑان، شور مچاتی آبشاروں اور پرندوں کے سریلے گیتوں سے عشق تھا. مجهے یہ سب کچھ لکھنے کا بہت شوق تھا” پهر چہرے پر افسردگی چھا گئی اور خاموش ہوا میں گھورتا رہا.
” اچها؟ آپ نے کیا لکھا ہے؟ آپ کو لکھنا پسند ہے تو میں آپ کو قلم کاغذ لادیتی ہوں آپ لکھیں اور میں اسے ایک کتاب میں ترتیب دوں گی” ڈاکٹر سیمی اس پہ زور دیتی رہی اور اس کو باتوں میں مصروف رکهتی رہی.
” اب نہیں لکھ سکتا، پہلے تو الفاظ میرے ساتھ کھیلتے تھے ہوا میں گردش کرتے ہوئے خود سامنے آتے اور مجھ سے چلا چلا کر کہتے مجهے اپنی زبان پہ سجا لو مجهے اپنے قلم کی سیاہی میں محفوظ کرو. میں ان سے کھیلتا ہوا میں انگلی سے کسی کو اشارے سے بلاتا کسی کو دور جانے کا کہتا کہ اگلی بار بلاؤں گا”
” ماریہ کو جب بھی میں خط لکھتا تو وہ جواب میں شکوہ کرتی "کتنا مشکل لکھتے ہو؟ ذرا عام فہم انداز میں نہیں لکھ سکتے؟ ایک خط کو پڑھتے پڑھتے شام ڈھل جاتی ہے رات کو لالٹین جلا کر پهر سے پڑھتی ہوں اور رات ختم ہو جاتی ہے. میں اگلے خط میں لکھتا یہ اس لیے تاکہ تم میرے خط کو کئی بار پڑھو لفظوں کے دریا میں غوطہ لگا کر اس کو اپنے جسم و جاں پہ محسوس کر سکو اور وہ جواب میں لکھتی اگر ساده لفظوں میں بهی لکھو گے توبھی میں کئی دن تک پڑھتی رہوں گی.”
چہرے پر سکتہ اور آنکهوں میں جھلملاتے چند قطرے دیکھ کر ڈاکٹر سیمی بولی "اچها پهر؟”
” اب لفظ روٹھ گئے ہیں پہلے ان کے ساتھ ڈوب کر تیراکی کیا کرتا۔ فضاء میں مہک لئے مجھ پر ہلکی بارش کے مانند برستے، میرے جسم و جاں اور روح کو معطرکیا کرتے. اب تو دریا میں طغیانی ہے مجهے بہا کر لے گئی ہے اب فضاء میں بارود کی بو میری روح کو چھلنی کرتی ہے، اب لفظ گیت نہیں گاتے، آه و بکا، سسکیوں اور رونے پیٹنے کی آواز سے مجهے تڑپاتے ہیں، اب لفظ پهول نہیں پتھر بن کر برستے ہیں. کہیں بارود کے دھوئیں سے اٹھتی چیخ بن کر، کبهی کسی معصوم بچی کی ویرانے میں ہوس زدہ وحشی حیوان کے خونخوار پنجوں کے تلے سسک سسک کر دب جاتے ہیں۔ وه بنت حوا کی اذیت ناک صدائیں جو ہمیں سنائی نہیں دیتیں، ان کے لٹتے ہوئے خواب اور ارمان بے بس و لاچار لاشیں بن کر نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں”
ایک نفرت انگیز چہره لے کرپاگل وسیم کو اپنے کمرے کی طرف جاتا دیکھ کر ڈاکٹر سیمی کے آنکهوں سے ٹپ ٹپ آنسوؤں کی برسات برستی رہی وسیم کو دیکھ کر سوچتی رہی اگر یہ پاگل ہے تو ہم کس قسم کے پاگل ہیں؟

Views All Time
Views All Time
294
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   آخر کب تک؟
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: