عورت ایک کھلونا – شہسوار حسین

Print Friendly, PDF & Email

کچھ لوگوں کے ایماء پر اپنی رائے بیان کروں گا.
بہت سے لوگ عورت کی آزادی و پابندی، حقوق و استحصال کے بارے میں لکھتے ہیں بولتے ہیں. ہمیں اتنی فہم و فراست تو نہیں کہ حقیقی معنوں میں حقوق کی تشریح کر سکیں لیکن اپنی رائے بیان کروں گا جو کہ محسوس کرتا ہوں.
اول ہمارے معاشرے میں جس طرح کی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں یا آزادی سلب کر لی گئی ہے وه سب کے سامنے ہے.
میرے خیال میں عورت کو مکمل نہ تو ہمارے معاشرے میں اور نہ ہی یورپی ممالک میں اپنی اصلی تشخص کے ساتھ حقوق حاصل ہیں.
یورپ وغیرہ میں اگر حقوق دیئے گئے ہیں لیکن وه بهی فقط مرد کے لئے زیادہ اور عورت کے لئے کم ہیں مطلب عورت کو آزادی دی ہی اس لیے ہے کہ جنسی خواہشات کی تکمیل ہو.
میں نے بذات خود کئی سال امریکن کے ساتھ کام کیا ہے بہت سے دوستوں نے بھی کیا ہے ان سب کو پتہ ہے کہ امریکی مرد عورت کو کیا سمجھتے ہیں. وہاں آزادی فقط اس لیے دی گئی ہے تاکہ مرد کو تسکین کا سامان مہیا کیا جائے.
طلاق کی شرح بہت زیادہ ہے اس کی اہم وجہ یورپی مردوں کی فطرت ہے جو فخریہ کہتے ہیں کہ اگر چکن یا دوسری چیز مسلسل کھائیں گے تو انسان بور ہوتا ہے تو ضروری ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی لانی چاہیے یہ مثال وه عورت کے لئے دیتے ہیں.
شادی شاده عورتیں کئی دوست رکھتی ہیں جن سے باقاعدہ جنسی تعلقات قائم کرتی ہیں اور اس کے شوہر کا بهی یہی حال ہوتا ہے.
سال دو سال بعد ہی دونوں میں علیحدگی ہو جاتی ہے اور نئے شکار کی تلاش میں نکل جاتے ہیں لیکن انجام آخر کار عورت کی تنہائی پہ ہی ختم ہوتا ہے.
کئی بڑی عمر کی خواتین کو قریب سے دیکھا ہے بہت بحث کی ہے اکثریت سگریٹ نوشی بہت کثرت سے کرتی ہیں اور پوچهنے پہ کہتی ہیں کہ تنہائی کے سبب.
ہماری ایک ٹیم لیڈر تهی 522 سالہ لورا، کثرت سے سگریٹ نوشی کرتی تھی اور چڑچڑی بہت تهی . اکثر اس کو تنگ کیا کرتا تو بناوٹی غصے سے جھاڑتی اور کہتی کہ مجهے مت چھیڑو.
ایک شام کافی شاپ پر لے گئی کام کے دوران پورا دن میں نے بهی بناوٹی ناراضگی سے بات چیت بند کی تهی تو اس لیے وه کافی شاپ لے گئی.
وہاں کافی پیتے جو باتیں کی جو درد بیان کیا وه آج بھی نہیں بھولا ہوں. بولی سگریٹ نوشی زیادہ کرتی ہوں لیکن زندگی میں بالکل اندھیرا ہے یہاں عراق میں تھوڑی خوش ہوں کہ پاکستانی اور انڈین لوگ بات چیت کرتے ہیں ہنسی مذاق کرتے ہیں اور آپ سینی( حسین کی بجائے سینی پکارتی تهی مجهے) میرے ساتھ بہت ہنسی مذاق کیا کرتے ہو مجهے بہت اچها لگتا ہے بس ناٹک کرتی ہوں تاکہ اور مجهے چھیڑو.
میں نے پوچھا آپ جاب کرتی ہیں زندگی کی ضروریات پوری ہیں پهر اتنی پریشان کیوں؟ بولی میرے شوہر کا بہت پہلے انتقال ہوا ایک ہی بیٹی ہے جو دس سال سے ملی ہی نہیں وه ورجینیا میں رہتی ہے اور میں لاس ویگاس میں. شوہر کے انتقال کے بعد کئی مردوں نے ساتھ نبھانے کے خواب دکھائے لیکن سال دو سال بعد ہی الگ ہوتے اور جب 50 تک پہنچی تو آج کوئی پوچھتا بهی نہیں.
گهر میں بالکل اکیلی رہتی ہوں بلی پال کر انہی سے بات چیت کرتی اور وقت گزارتی ہوں. ترستی ہوں کہ کوئی انسان کم از کم بات کرنے کے لیے تو موجود ہو لیکن یہ امید ہی ختم ہو گئی ہے. جوانی کی تصویریں دکھائیں تو میں نے شرارت سے کہا اگر اس وقت ہوتی تو میں اٹها کے اغوا کر لیتا، آنکهوں میں جھلملاتے آنسوؤں کے ساتھ بولی، کاش میں مشرقی تہذیب میں پیدا ہوتی.
میں نے کہا وہاں عورتیں اور بهی مشکل میں ہیں. بولی، زندگی کے آخری ایام میں تنہا تو نہیں نا، مشرقی تہذیب کا اب احساس ہوتا ہے کہ دادی نانی اماں بن کر کیسے محسوس ہوتا ہے اور میں ان سب چیزوں سے محروم ہوں اور میری طرح کتنے بڑی عمر کے لوگ ہیں جو خیراتی اداروں میں دن رات گزارنے پر مجبور ہیں.
روز ان سے بات چیت ہوتی اور تنگ بهی کرتا تھا لیکن اسی وجہ سے کہ اس کے درد کو محسوس کیا تھا میں نے.
اب اگر پاکستان میں دیکھا جائے تو مخصوص ذہنیت ہوگی جو تشدد کرتے ہیں جبکہ اکثر مائیں بہنیں عزت و احترام سے زندگی سے لطف اندوز ہوتی ہیں. میں یہ نہیں کہتا کہ انہیں سب کچھ میسر ہے لیکن ہمارے ملک اور خود ہماری خاندانی حیثیت بهی کچھ زیادہ بہتر تو نہیں نا. جن کی مالی حالت بہتر ہے وہاں عورتوں کو تعلیم اور نوکری یا کاروبار کرنے سے روکا بهی نہیں جاتا.
البتہ ملکی سطح پر اکثر واقعات انتہائی سفاکیت اور ظلم و ستم کے ہوتے رہے ہیں. پاکستان میں عورتوں کو تعلیم، روزگار وغیرہ کی آزادی دی جائے انہیں شادی کرنے نہ کرنے اور پسند و ناپسند میں آزادی دی جائے اور باہر گلی محلے، بس سٹاپ، دفاتر وغیرہ میں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے.
اب لبرل ازم کے نام پر مکمل کهلے عام جنسی تعلقات یا وه کام جو ہمارے تہذیب و ثقافت کے بالکل برعکس ہے ان کی اگر ان کو آزادی چاہیے تو بعد میں اس کے منفی اثرات کا جائزہ بهی لینا چاہئے.
اصل بات یہ ہے کہ عورت کو نہ کنیز باندی سمجھا جائے نہ جنسی تسکین کا فقط سامان. انہیں باقاعدہ ایک جیتی جاگتی انسان سمجھا جائے جیسے مرد کو سمجھا جاتا ہے اگر عورت کے لئے پابندی ہے تو کیا مرد کسی خاص حکم کے تحت مبرا ہے؟
میرے خیال میں عورت یہاں کنیز باندی ہے اور مغرب میں فقط جنسی تسکین کا ایک کھلونا.

Views All Time
Views All Time
487
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   سب کو معیشت کی پڑی ہے معاشرہ بگڑگیا – شیخ خالد زاہد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: