Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

مینا کشور کمال

Print Friendly, PDF & Email

27 فروری 1956ء کو کابل افغانستان میں پیدا ہوئی تھی. 1977ء میں ملک کے حالات تیزی سے بدل رہے تھے دائیں بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان لکیر کھینچی گئی تھی حالات بہتری کی بجائے خرابی کی طرف جا رہے تھے اور اس افراتفری کے عالم میں سب سے زیاده خواتین ظلم و ستم کا نشانہ بنتی رہیں. خواتین کے لئے کوئی موثر تنظیم نہیں تھی ان پہ روا ظلم کے خلاف مزاحمتی آواز نہیں تھی. 19 سال کی عمر میں مینا کشور کمال سے یہ سب کچھ دیکھا نہیں گیا اور یونیورسٹی چھوڑ کر خواتین کے حقوق کے لئے میدان میں اتری.

1977ء میں ایک تنظیم (RAWA ) افغانستان خواتین کی انقلابی ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی. دوسرا بہترین کارنامہ خواتین پہ ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے 1981ء میں پیامِ زن (عورت کا پیغام ) نامی میگزین جاری کی. جس میں خواتین پہ ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کی اور جہاں تشدد کے واقعات ہوتے ان کو اجاگر کرتی. وطن اسکول کی بنیاد رکھی جس میں علاقہ بدر بچوں کو تعلیم دینا شروع کی. ایک مرد بالادست معاشرے میں کسی نوجوان لڑکی کا یوں متحرک ہو جانا اور زندگی کو شدید لاحق خطرات کے باوجود کھڑی رہنا کوئی معمولی بات نہیں اور یہ بات قدامت پسند طبقوں کے لئے ناقابل قبول تھی ان کی بالادستی کے جھوٹے زعم کو خطرات لاحق تھے.

مینا کشور کمال کی شادی افغانستان لبریشن تنظیم کے صفِ اول کے رہنما فیض احمد سے ہوئی تھی جن کو 12 نومبر 1986ء میں گلبدین حکمت یار نے اپنے ایجنٹ سے قتل کروایا. فیض احمد مارکس اور لینن کو پڑھنے کے بعد متاثر ہوئے تھے اور بائیں بازو کی جماعت میں سیاست شروع کی تھی. انقلاب افغانستان میں جہادی تنظیموں کے بڑھتے سائے اور زندگی کو شدید خطرے کے باعث مینا کشور کمال کوئٹہ پاکستان منتقل ہو گئی تھی لیکن وہ کوئٹہ میں محفوظ نہ ہو سکی اور 4 فروری 1987ء کو قتل ہوئی بعض کا خیال تھا کہ اصل قاتل نامعلوم تھے کئی ذرائع گلبدین حکمت یار کو ہی ان کا قاتل ٹھہراتے ہیں.

یہ بھی پڑھئے:   ہم بھی بہت عجیب ہیں

مینا کشور کمال فقط تیس برس جی سکی لیکن ایک قدامت پسند معاشرے میں وه اپنے کردار اور جدوجہد سے تاریخ کے اوراق میں سنہرے لفظوں سے یاد رہے گی . مینا کشور کمال کی ایک فارسی نظم "میں کبھی پلٹ نہ آؤں گی” کا مفہوم کچھ اس طرح ہے. میں اب وه عورت ہوں جو بیدار ہو چکی ہے میرے جلتے بچوں کے جسموں کی راکھ سے میں نے طوفان کا روپ دھار لیا ہے میں اپنے بھائیوں کے خون کی پھوار سے اٹھی ہوں میرے ملک میں آئے طوفان سے میں نے طاقت حاصل کی میرے جلتے برباد گاؤں نے میرے دل کو دشمن کے نفرت سے بھر دیا میں اب وه عورت ہوں جو بیدار ہو چکی ہے میں نے اپنا رستہ پا لیا میں کبھی پلٹ نہ آؤں گی اب میں نے پاؤں سے زنجیریں اتار دی ہیں میں نے جہالت کا بند دروازہ کھول دیا ہے میں نے سبھی سونے کے کنگن کو الوداع کہا ہے اے میرے ہم وطن بھائیوں، میں اب وه نہیں جو تھی میں اب وه عورت ہوں جو بیدار ہو چکی ہے میں نے اپنا رستہ پا لیا میں کبھی پلٹ نہ آؤں گی.

میں نے ننگے پاؤں، آوارہ اور بے گھر بچے دیکھے ہیں میں نے ہاتھوں پر اب تک حنا سجے دلہن کو لباسِ غم و ماتم میں دیکھی ہیں میں نے زنداں کی طویل قامت دیواریں دیکھی ہیں جو اپنی بھوکے پیٹ میں آزادی نگلتی ہیں میں استقامت، دلیری اور حوصلے سے پھر سے زندہ ہو گئی ہوں میں وه آخری انسان ہوں جو خون کے دریا میں فتح و سرور اور آزادی کا نغمہ گاتا ہو اے میرے ہم وطن بھائیوں، اب میرا وجود اس کمزور وجود سے مختلف ہے جو آپ کے سوچ میں تھا میں تیرے سنگ سنگ وطن کی آزادی کی راہ پر گامزن ہوں میں ہزاروں عورتوں کے فریاد کی صدا ہوں میں ہزاروں ہم وطن عورتوں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر وطن کی خاطر کھڑی ہوں تاکہ تمام رنج و الم کی زنجیریں توڑ دوں اے میرے ہم وطن بھائیوں، میں اب وه نہیں جو تھی میں اب وه عورت ہوں جو بیدار ہو چکی ہے میں نے اپنا رستہ پا لیا میں کبھی پلٹ نہ آؤں گی

Views All Time
Views All Time
112
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: