عبادت کی دو تصاویر

Print Friendly, PDF & Email

کبھی کبھی تنہائی کی تاریک راتوں میں آخری پہر سوچتا ہوں یہ عبادت ہے کیا؟ کس طرح سے حقِ ادائیگی ہو؟ کون سی عبادت ہوگی جو محبوب کو پسند ہو؟ پچھلی رات بستر پر لیٹے یہی سوچ رہا تھا تخیل میں خود ہی کبھی ایک کبھی دوسری تصویر بناتا لیکن اطمینان نہ پا کر تصویر پر سیاہی پھینک کر نئی تصویر بنانے کی جستجو کرتا رہا. کچھ یوں موازنہ کرتا رہا شاید یہ بھی درست نہ ہو لیکن کوچۂ یار کی طرف جانے کے بہانے تو بہر کیف تلاش کرنے ہوں گے.

عبادت کی دو تصاویر تخیل میں گھومتی رہیں. ایک طرف ذکر و فکر اور دیگر عبادات کی تصویر تھی جو فقط رب سے تعلق رکھتی تھی دوسری تصویر وه تھی جس میں کئی رنگ تھے اور اس میں خلقِ خدا زیادہ نمایاں تھی. ایک تصویر میں انسان رب کے لئے وقف دیکھا لیکن اس کے ذات کے سوا کسی اور کا فائدہ نہیں دیکھا. اس کے عبادت کا فائدہ انہی کو ملنا تھا نہ رب کی عظمت میں اضافہ دیکھا نہ ہی اس میں خلقِ خدا کو پہنچتی کوئی راحت دیکھی.

جو بھی عبادت کرتا جس طرح سے بھی کرتا رہا لیکن فائدہ اسی ایک انسان کو ملا، دوسروں کے حصے میں کچھ نہیں تھا. دوسری تصویر دیکھی جس میں کئی انسان دیکھے. ایک انسان یتیموں کو پال رہا تھا ان کے سروں پر باپ کا سایہ بن کر کھڑا تھا ایک ڈاکٹر رات بھر دوسرے انسان کے درد کا درماں کر رہا تھا ایک انسان دیکھا جو خلقِ خدا سے بغیر کسی لالچ و ذاتی مفاد رکھے ان کو اپنے حقوق یاد دلوا رہا تھا سچ و جھوٹ کے درمیان تفریق کی لکیر کھینچ کر خلقِ خدا کو منزل کا نشاں دے رہا تھا اور اس کو اس بات کی سزا بھی دی گئی لیکن اپنی ذات سے زیادہ خلقِ خدا کی فکر تھی. مطلب مختلف رنگ میں خلقِ خدا کے لئے کام کرتے انسان دیکھے.

یہ بھی پڑھئے:   "دل کے ارماں حسرتوں میں رہ گئے"

اب ان دو تصاویر کو بار بار دیکھتا رہا تھا اور سوچ رہا تھا کون ہے جو عبادت کی روح سے واقف ہے؟ کون ہے جس کی عبادت قبول ہو گی؟ آپ لوگ اپنی طرف سے سوچیں، میں اپنی کم علمی کے سبب کوئی نتیجہ اخذ تو نہیں کر سکا، ہاں مگر ایک چیز کا ادراک ہوا اور ذہن نشین کر دیا اور وہ یہ تھی کہ ” جو انسان فقط اپنی ذات کے لئے ذخیرہ کر رہا ہے ان کا دل ابھی تک رب کا مسکن نہیں بنا ہے ابھی رب ان کے دل میں اترا نہیں اور جو خلقِ خدا کی خدمت کر رہا ہے ان کے دل میں رب رہ رہا ہے چونکہ رب کو اپنی خلقت سے سب سے زیادہ محبت ہے اور یہ انسان بھی خلقت سے پیار کرتا ہے ان کے لئے اپنا آرام قربان کرتا ہے ان کے لئے تکالیف برداشت کرتا ہے لیکن پھر بھی اپنے رستے سے ہٹتا نہیں . یہی وہ انسان ہے جس کے دل میں رب محبت اور احساس بن کر رہ رہا ہے”

Views All Time
Views All Time
173
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: