Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

زندگی میں ہر مشکل سے لڑنا پڑتا ہے۔

by جنوری 30, 2018 بلاگ
زندگی میں ہر مشکل سے لڑنا پڑتا ہے۔
Print Friendly, PDF & Email

بچپن سے لے کر دس سال کی عمر تک اسے ہر طرح کی ضروریات زندگی میسر تھیں۔ اچھے کپڑے، کھانا پینا، سکول کے لیے کتابیں، خوب صورت بستہ اور گاؤں میں تہواروں کی آمد پر نئے کپڑے اور جیب خرچ کے لیے چند روپے مل جاتے تھے۔ کب زندگی کی کشتی بھنور میں پھنس جائے گی کچھ کہا نہیں جا سکتا اور یہی اس کے ساتھ بھی ہوا۔ والد نے نیا گھر بنانا شروع کیا تھا۔ لوگوں سے قرض بھی اسی امید پر لیا تھا کہ تنخواہ میں سے لوٹایا کروں گا۔ لیکن اسے کیا پتہ تھا کہ نئے گھر میں قدم رکھنے سے پہلے ہی ساری خوشیاں پھیکی پڑ جائیں گی۔

گھر مکمل ہوتے ہی نوکری چلی گئی۔ اور نئے گھر میں قرضوں کے بوجھ تلے یوں دب گئے کہ دوبارہ سیٹ ہونے میں لمبا عرصہ بیت گیا۔ اب گھر کا چولہا پہلے جیسا نہیں جلتا تھا فرمائشیں اب قناعت پہ قربان ہو گئیں تھیں۔ کتنی ہی خوشیاں آئیں حسرتوں میں ڈوب کر چلی گئیں۔ کئی عیدیں آئیں اور پرانے کپڑوں میں گزر گئیں۔ چھوٹے بہن بھائی تو ضد کرتے تھے اور وہ بڑا ہونے کے ناطے ضد بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اس کو گھر کی حیثیت اور والد کا اترا ہوا چہرہ سارے ارمانوں کو قربان کرنے پہ مجبور کرتا۔ مڈل اسکول تو گاؤں میں تھا لیکن اب ہائی اسکول کے لیے سات کلومیٹر دور جانا تھا۔ گاڑی میں آتے جاتے فقط دس روپے کرایہ لگتا تھا اور تقریباً کوئی پندرہ منٹ ہی لگتے۔ جب کہ دوسرا پیدل راستہ ان لوگوں کے لیے تھا جو گاڑی میں بیٹھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔

بیچ میں چھوٹا سا دریا پار کرنا ہوتا، سردیوں میں پانی بہت کم اور گرمیوں میں معمول سے زیادہ ہوتا اور اگر بارش ہوتی تو پھر سیلاب کا ریلا بھی آتا۔ اس کو بھی اب اسی راستے پر چلنے کی عادت ڈالنی تھی صبح سویرے باقی کلاس فیلوز کی نسبت اسے جلدی اٹھنا پڑتا کیونکہ پیدل چلنے میں کافی وقت لگتا تھا۔ کبھی کپڑے گیلے ہوتے کبھی راستے میں واقع گاؤں کے کتے خوب دوڑاتے۔ زندگی یوں سخت سے سخت تر ہوتی چلی جائے گی یہ کبھی سوچا نہیں تھا۔ لیکن اس مرحلے سے بھی گزرانا تھا۔ اسکول میں سب یار دوست پوچھتے "تم گاڑی سے کیوں نہیں آتے”؟ "مجھے صبح سویرے پیدل چلنا اچھا لگتا ہے ورزش بھی ہوتی ہے اور پھر اتنا لمبا رستہ بھی تو نہیں بس پینتالیس پچاس منٹ لگتے ہیں”۔ اپنی حیثیت چھپانے کے لیے یہی وہ جواب ہوتا۔

نجانے اور کتنے جھوٹ بولنے پڑیں گے۔ اسکول کی چھٹی دوپہر دو بجے ہوتی اور واپس پھر گھر آنے تک تین بج جاتے۔ بریک کی گھنٹی بجتی تو دل پہ ہتھوڑے سے کم نہیں لگتی تھی۔ اب سب دوست کینٹین کی طرف کھینچ کر لے جانا چاہیں گے لیکن خالی جیب کینٹین کا خرچ کیسے پورا کرتی۔ تھوڑا صبر کرتا جب سارے لڑکے نکل جاتے تو آخر میں چپکے سے نکل کر درختوں کے جھنڈ میں بیٹھ کر گھر سے صبح کی لائی ہوئی روٹی کو کبھی پیاز کبھی گڑ سے انتہائی سرعت سے کھاتا چاروں طرف نظر دوڑاتا کہیں کوئی دوست دیکھ نہ لے نہیں تو سب میرا مذاق اڑائیں گے۔ اگر کبھی دوستوں کے ہاتھ لگتا اور وہ کینٹین جانے کا کہتے تو بیماری یا پیٹ خراب ہونے کا بہانہ بنا کر ٹال دیتا۔

یہ بھی پڑھئے:   کیا آپ ہندوستانی مسلمانوں سے زیادہ خالص مسلمان ہیں؟ - عمار کاظمی

قسمت کی آنکھ مچولی کا کھیل جاری تھا اور وه یہ سارے کڑوے گھونٹ تنہائی میں پیتا۔ کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا یوں میری حیثیت آشکار ہو جائے گی۔ بعض ہنسیں گے تو بعض غریب سمجھ کر ہمدردی کے بوجھ سے روند ڈالیں گے۔ اور اس کو اپنا وجود کمزور دکھا کر نہیں جینا تھا۔ اسکول سے آتے ہی کھیتوں میں نکلتا اور مغرب تک کام کرتا۔ بیلچے سے پڑے گہرے نشان اور ہاتھوں پر ابھرے چھالوں کو گرم لکڑی سے مساج کرنا اور ان کے پھٹ جانے پہ پھر بیلچہ پکڑنا کسی سزا سے کم نہ ہوتا۔ سخت گرمی میں گندم کی کٹائی اور اکثر موسم کے خوف سے رات کو لالٹین جلا کر کٹائی کرنا۔ چاروں طرف گہرا اندھیرا اور ہر طرف سے مختلف آوازیں سنائی دیتیں۔ لیکن دل پر مجبوری کی جو چوٹ تھی وه کم عمر ہونے کے باوجود ہر خوف سے بڑھ کر تھی۔

آب پاشی بھی اکثر رات کو کرنی ہوتی کیونکہ گاؤں میں باری کے حساب سے سب آب پاشی کرتے ہیں۔ رات کو چھوٹی سی ٹارچ لے کر تین کلومیٹر دور ندی کا بند باندھ کر پانی لانا اور ٹارچ کا استعمال بھی یوں کرنا پڑتا جیسے کوئی کسی درگاہ پر نمک تبرک سمجھ کر چکھتا ہو کبھی روشن کرتا کبھی گل کرتا۔ تاکہ جلدی بیٹری خریدنی نہ پڑے۔

میٹرک کے بعد اب کالج کی زندگی پہلے سے زیادہ امتحان لگنے لگی۔ کثیر تعداد میں طلباء اور دوست۔ اسکول کی نسبت بہترین اور مہنگی کینٹین اور یہاں تو پیدل آنا بھی ناممکن تھا سولہ سترہ کلومیٹر کا سفر کیسے پیدل طے کرتا۔ کھیتی باڑی میں سے تھوڑے سے پیسے بچا کر کرایہ، کتابیں اور فیس کے لیے بھی کم پڑ جاتے۔ کبھی گاؤں میں کسی سے قرض لے کر پورا کیا کبھی گھر میں موجود اناج میں سے تھورا سی بیچتا۔ کالج کے لیے سفید شلوار قمیص خریدنی ہوتی اور باقی تو ویسے بھی رشتے داروں کے دیے ہوئے لمبی لمبی شلوار قمیص والے کپڑوں کو ماں ٹیڑھی میڑهی سلائی کر کے چھوٹا کر دیتی۔ اگر کبھی کپڑے پھٹ جاتے تو پیوند کاری اچھی خاصی دور سے نظر آتی۔ ایسے بہت سے واقعات گزرے بہت سے لمحات اردگرد خوشیوں کے، تہواروں کے دن آئے، چاروں طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہوتیں۔ لیکن وه گھر کی دیواروں کے پیچھے چھپ کر گزارتا کہیں پرانے کپڑوں اور ٹوٹی پھوٹی جوتیوں کا طعنہ نہ پڑے یا کسی کی پرانے لباس پر چبھتی ہوئی نظر نہ پڑے۔

یہ بھی پڑھئے:   کیوں‌کرتے ہو پریشان زندگی کو

وہ وقت کی بے رحم لہروں سے لڑتا رہا اور پھر پردیس جانے میں ہی عافیت جانی مگر پیسے کہاں سے آتے۔ جو تھوڑی بہت زمین تھی ساری گروی رکھ کر قرض لے کر چلا گیا۔ قرض چکایا گھر کے حالات پہلے سے بہتر ہونے لگے۔ بہن بھائیوں کے کپڑے اب پہلے جیسے نہیں ہوتے تھے بلکہ ہر عید یا رشتے داروں کی شادی پر نئے کپڑے سلواتے۔ اب وه حالات نہیں رہے لیکن ماضی کے تلخ لمحے کبھی بھلائے نہیں جاتے۔ ماضی کے ان حالات پہ کبھی کوئی شرم محسوس نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی شکوہ ہوا۔ تقدیر نے آزمانا تھا اور اس نے مقابلہ کرنا تھا جس پر وہ پورا اترا۔ چھپ کر آنسو پینا اور ارمانوں کا گلا گھونٹنا سب سے مشکل اور تکلیف دہ کام ہے۔ دنیا میں ہر کوئی سونے کا چمچہ لے کر پیدا نہیں ہوتا۔ کبھی نصیب پہ صبر تو کبھی اس سے لڑنا پڑتا ہے اور لڑ کر محنت کر کے ہی تقدیر بدلنی پڑتی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ محنت اور کوشش کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ ایک دن رنگ ضرور لاتی ہے کیونکہ جس نے پیدا کیا ہے وہ آپ کی نیت اور کوشش کو دیکھ رہا ہوتا ہے لہذا کبھی برے حالات میں ہمت نہ ہاریں بلکہ حالات کا رخ موڑنے کی کوشش کریں۔

Views All Time
Views All Time
301
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: