Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

امید سحر

by دسمبر 21, 2017 بلاگ
امید سحر
Print Friendly, PDF & Email

ساحل کے کنارے دوست خیالوں کی دنیا میں گم پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ کبھی کبھی ہلکے سے لب ہلتے ، کبھی چہرے پر غصے کے آثار نمودار ہوتے، کبھی خاموش تصویر بن جاتے کبھی لگتا جیسے تخیل میں کسی سے لڑ رہا ہو، کبھی لگتا کہ بحث کر رہا ہو اور کبھی سامنے تخیل کی تصویر کی باتیں سننے کے بعد خاموش ہو جاتا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے کسی بات کا فیصلہ نہیں کر پا رہا ہے۔ میں کچھ لمحے یہ سب کچھ دیکھتا رہا خود بھی سوچتا رہا کیا بات ہو سکتی ہے جو اس کی کیفیت بار بار بدلتی ہے اور دنیا و مافہیا سے بے خبر اپنی سوچوں میں مگن ہے آخر رہا نہیں گیا تو قریب جا کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا اس کے چہرے کا جائزہ لیتا رہا اسی اثناء میں وہ میری طرف متوجہ ہوا میں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا دوست ایسی کیا بات ہے؟ کچھ لمحوں سے دیکھ رہا ہوں تم آس پاس کی ہر چیز سے بے خبر کسی اور دنیا میں کھوئے ہوئے ہو؟ کیفیت بتا رہی ہے کوئی الجھن ہے جو سلجھ نہیں رہی ہے؟ نہیں نہیں ، ایسا کچھ بھی نہیں بس پردیس تو ہے ہی سوچنے اور الجھن کا نام۔ یونہی سوچ کے دریا میں تهوڑی طغیانی آ گئی تھی اور مجھے بہا کر لے گئی تھی۔ یہ سب کہتے ہوئے اس نے بھی چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ سجا لی لیکن مسکراہٹ کی یہ لکیریں اس رنگ کو تقسیم نہ کر سکیں جو اس کے چہرے پر مکمل ثبت ہو چکا تھا۔

دیکھو دوست ، ہماری شاخیں ایک ہی شجر سے نکلی ہیں، ہمارے خیالات و احساسات مختلف تو ہو سکتے ہیں لیکن یہ ممکن نہیں کہ ان کا وجود ہی ایک نہ ہو۔ ہم سب کو اکثر کبهی خوف اپنی گرفت میں جکڑ لیتا ہے کبھی ڈوری اتنی الجھ جاتی ہے کہ ہم سے سلجھتی ہی نہیں تو ایسے میں ہمیں اس خوف کو تقسیم کرنا پڑتا ہے ڈوری کا دوسرا سرا کسی اور کے ہاتھ میں تھما دینے سے خوف کم ہوتا ہے یوں ڈوری کچھ حد تک سلجھ جاتی ہے۔ آپ کو بھی اپنے یہ احساسات دوست سے شیئر کرنے چاہئیں، ہو سکتا ہے وہ ان پر پڑی گرد کچھ حد تک جهاڑ سکے۔ بات تو تمہاری درست اور دل کو لگتی ہے مگر بعض اوقات نہ چاہتے ہوئے بھی ہم دل کی بات نہیں کہہ سکتے البتہ جن پہ اعتماد ہو ان کے ساتھ شئیر کرتے ہیں۔ بات یہ ہے دوست کہ میرے خاندان کا ایک دیرینہ مسئلہ ہم سب سے یوں چمٹا ہے کہ سب مل کر بھی خود سے الگ نہیں ہو پا رہے ہیں۔ میرے بھائی نے جیون ساتھی چننے کے لئے آج سے نو سال قبل کسی کا انتخاب کیا تھا۔ ان کے گھر کسی کو بھیج کر ان کا ہاتھ مانگا لیکن ہاں کے بجائے وہاں سے کچھ ذاتی تشخص پہ مبنی جملے آئے دوسری بار کوشش کی پھر نئے انداز سے الٹا جواب ملا۔ اب ایک طرف جوان خون اور دوسری طرف قبائلی روایات کا پرانا زعم کہ میری توہین کیوں کی گئی؟ معاملہ بگڑ گیا اور پرانے وقتوں سے آتی ہوئی روایات کہ جن کے مطابق رشتے دار لڑکی پہ پہلا حق اپنے خاندان قبیلے کے لڑکوں کا ہے ان کے بعد باہر والا شادی کر سکتا ہے اگر خاندان میں سے کوئی نہ چاہے تو باہر شادی نہیں کی جا سکتی۔

یہ بھی پڑھئے:   !تیری صورت سے نہیں ملتی کسی کی صورت

بھائی نے بھی وہی روایتی حق جتایا اور کہا اس کے ساتھ میرے سوا کوئی شادی نہیں کر سکتا۔ جب ایک بار یہ اعلان ہوجائے تو لڑکی سے شادی کرنے باہر سے کوئی سامنے آنے پر سمجھو اپنی موت کو دعوت دے رہا ہے تب لڑکی کے رشتے آنے بند ہو جاتے ہیں اور بات اب لڑکے اور لڑکی کے گھر والوں کے درمیان شروع ہوتی ہے جرگے ہوتے ہیں کبھی ایک تو کبھی دوسرا فریق ماننے سے انکار کرتا ہے اور سلسلہ جاری رہتا ہے اس وقت تک جب تک کسی فیصلے پر فریقین راضی نہیں ہو جاتے۔ اب نو سال سے ہمارا معاملہ الجھا ہوا ہے اب لڑکی کے گھر والے کہتے ہیں کہ یا تو جو پہلے سے ہوتا آ رہا ہے لڑکی والے پیسوں کا جتنا تقاضا کرتے ہیں اتنا دینا پڑے گا یا بدلے میں آپ کے گھر سے کسی لڑکی کی ان کے گھر کے کسی لڑکے کے ساتھ شادی کرنی ہو گی۔ اب ان کے گھر میں لڑکا اور میری بیٹی ہم عمر مگر تیره سال کے ہیں اب بدلے میں میری بیٹی مانگ رہے ہیں بھائی پیچھے ہٹتا نہیں اور وہ راضی نہیں ہو رہے ہیں میرے والدین بھی چاہتے ہیں کہ بھائی کو بچا لوں معاملہ دشمنی اور قتل تک جا پہنچا ہے اب سمجھ میں نہیں آ رہا کیا کروں ؟

یہ سب کہنے کے بعد وہ میری طرف سوالیہ انداز سے دیکھنے لگا۔ دیکھو دوست ، جہاں تک بیٹی کا سوال ہے وہ ابھی اس مقام پر نہیں پہنچی ہے کہ کوئی فیصلہ کر سکتی ہو اور اگر تم نے طے کیا تو کل جب بڑے ہو کر اس میں قوت فیصلہ آ جائے اور انکار کر دے تو معاملہ تو پھر نئے سرے سے شروع ہو جائے گا تب تمہارے پاس بھی دو راستے ہوں گے یا زبردستی بیٹی کی شادی کروا دینا یا خود بھی انکار کر کے بیٹی کو گھر پر بٹھا کر پھر سے جرگے اور فیصلے کی بھینٹ چڑھانا اگر زبردستی سے بیٹی بیاه دی اور بیٹی گھر سے بھاگ گئی یا خودکشی کر لی تو دونوں صورتوں میں بیٹی کو ہی گنوا بیٹھو گے اور دونوں صورتوں کے ذمہ دار تم ہی ہو گے اور اگر وہ قتل کر دی گئی تو قاتل تم بھی ہو گے۔ آپ کے والدین کو اپنے بیٹے کی فکر ہے تو کیا آپ نے بیٹی کسی کھیت میں کاشت کر کے پائی تھی؟ کیا وہ آپ کی اولاد نہیں؟ لڑکا ہو یا لڑکی ، کیا ان کے انسان ہونے میں فرق ہے؟ کیا فقط جسمانی ساخت سے ان کو انسان نہیں سمجھنا چاہئیے؟ کیا آپ والدہ اور بہن کو انسان نہیں سمجھتے؟ اگر سمجھتے ہیں تو آپ کی بیٹی بھی ویسی ہی انسان ہے۔ وہ جو راه نکالتے ہیں نکالنے دیں لیکن اپنی بیٹی کا سودا نہ کرنا۔ یہ رسم و رواج نہیں ظالمانہ نظام ہے عورت یعنی انسان کی حق تلفی ہے ان پہ ظلم ہے۔ اکھاڑ پھینکیں ایسی روایات کو جن سے دوسروں کے حقوق پامال ہوتے ہیں۔ آه دوست شکریہ تم نے میرے خیالات کے مظابق جواب دیا یہی کچھ میں نے بھی ان سے کہا۔ مجھے بیٹی کو پڑھانا ہے اس کا ڈاکٹر بننے کا خواب ہے اور مجھے اس کے خواب کو پورا کرنا ہے فقط یہ خواب نہیں بلکہ شادی تک اور ہر خواب و خیال کو پورا کرنے میں اس کا ساتھ دینا ہے میں فقط مشورے دے سکتا ہوں میرے دلائل مضبوط ہوں گے تو شاید وہ قبول بھی کر لیں اور اگر ان کے مضبوط ہوئے تو میں بخوشی قبول کروں گا۔ تم نے کافی بوجھ ہلکا کر دیا اور پھر شکریہ ادا کر کے ساحل پر ٹہلنے لگا۔ اور میں وہاں سمندر کے کنارے بیٹھا سوچنے لگا کہ آخر ہم کب ان فرسودہ روایات کو فراموش کریں گے ہماری آنے والی نسلیں کب تک ان ظالمانہ رسم و رواج کو نبھائیں گی۔ جن کا ہمارے مذہب میں وجود تک نہیں۔

Views All Time
Views All Time
105
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: