Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

شہادت کے پردے میں چھپتے انسانی قتل

by دسمبر 20, 2017 بلاگ
شہادت کے پردے میں چھپتے انسانی قتل
Print Friendly, PDF & Email

قتل سے بڑھ کر کوئی ظلم نہیں کسی انسان کی جان عقیدے یا کسی بھی چیز کے اختلاف کی وجہ سے لینا عظیم ظلم ہے۔ ہمارے ملک میں ایسے میٹھے میٹھے تبلیغی ہیں جو قتل جیسے عظیم ترین ظلم کو بھی الله کی رضا بنا کر دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ دہشت گردوں کو ایک خاموش پیغام بھی دیتے ہیں کہ اپنے نظریات کو  زبردستی قتل و غارت سے نافذ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور جو تمہارے ہاتهوں قتل ہوتے ہیں وہ شہید ہیں، جنتی ہیں ان کے والدین کو بھی جنت ملے گی وغیرہ وغیرہ جیسی تاویلات پیش کرتے ہیں۔ آج نور درویش صاحب نے اے پی ایس سکول پشاور کے سانحے پر طارق جمیل کی ویڈیو شیئر کی تھی جس میں وہ دہشت گردی کی تاریخ کا سفاک ترین سانحے پر بہت عجیب طریقے سے دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتے نظر آتے ہیں۔ دہشت گردوں کی مذمت کرنے یا دہشت گردی کے خلاف بات کرنے کی بجائے تبلیغ شروع کی اور وہ بھی ظلم کے خلاف نہیں بلکہ اس سانحے کو لوگوں کے اعمال سے جوڑنے کی تکنیک بہت خوبی سے استعمال کی ہے۔

دہشت گردوں نے سفاکیت کی انتہا کر دی تھی تو دوسری طرف ان جیسے مولوی ایموشنل بلیک میلنگ والی تقریر شروع کر کے لوگوں کے ذہن میں بہت باریکی سے طالبان کے نظریات انڈیل دیتے ہیں بس طریقہ کار مختلف ہوتا ہے لیکن درحقیقت یہ ان کی کاروائیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ اے پی ایس سکول پشاور کے بچوں کو شہید کہا ان کے لئے جنت کی مختلف آسائشات کا ذکر کیا ان کے والدین کو بھی بچوں کی خاطر جنت کی بشارت دی لیکن کارروائی کرنے والے سفاک درندوں کے خلاف ایک لفظ تک نہیں کہا گیا۔ اگر اے پی ایس سکول پشاور کے بچے یا باقی پاکستانی شہید ہیں تو ان کے قاتل پھر کیا ہیں؟ قاتلوں کو بھی تو ظالم و سفاک درندے مان لیتے لیکن نہیں فقط شہادت جیسے خود ساختہ لفظوں میں قاتلوں کو چھپا دیتے ہیں یہ کھلم کھلا منافقت ہے دہشت گردوں کی پشت پناہی ہے۔
ہمارے ملک میں المیے ہی المیے ہیں الیکٹرانک میڈیا سے لے کر سوشل میڈیا تک ، ملاں سے لے کر سیاستدان و جنرل شاہی اور صحافت کے لباس میں ملبوس اکثر جعلی صحافیوں تک ایسے لوگ ملیں گے جو فوراً مقدس لفظ شہید کہہ کر اپنی کوتاہیوں اور غلط پالیسیوں کا دفاع کریں گے۔

یہ بھی پڑھئے:   ماہ رمضان میں الیکڑونک میڈیا کا بھیانک کردار

ارے بھئی، پانچ سال کے بچے کیا سرحد پر جنگ میں شہید ہو گئے تھے؟ آخر ہم ان کے قتل کو کیوں قبول نہیں کرتے؟ کیوں ہم ہر وقت اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں؟ دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں دہشت گردوں سے زیادہ عام غریب کسان، مزدور اور طلبہ تک متاثر ہوئے ،لوگ بے گھر ہو گئے، گھر بار ، بازار ، ہسپتال اور تعلیمی ادارے سب تباہ ہو گئے۔ جو دہشت گردوں کو روحانی بیٹے کہتے ہیں ان کو شہید مانتے ہیں وہ تو آج بھی حکومت کے سامنے دندناتے پھرتے ہیں۔ کیا فقط آلہ کار ختم کرنے سے دہشت گردی ختم کی جا سکتی ہے؟ کیسے ہم مانیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم جیت گئے ہیں؟ کیا روز اس ملک میں انسانی لہو یونہی بہتا رہے گا؟ کیا عوام کیا فوجی ، کیا ان کو جینے کا حق نہیں ؟ کیا وە صرف مرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں ؟ کب تک ہم مقدس لفظوں کا کفن پہنا کر خود کو دھوکہ دیتے رہیں گے؟ ہم وه بند ذہن اور نالائق قوم ہیں جو تاریخ سے سبق سیکھنے کی بجائے اس کو دفن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مقتول کو شہادت کے مقدس لفظوں کا کفن پہنانے سے قاتل بری الذمہ قرار دئیے جائیں؟ کیا عجیب مذاق ہے کیا گٹھیا قسم کی منطق ہے کہ مقتول تو شہید ہے اور قاتل بھی مجاہد و جنتی۔ اگر یہ پیمانہ کسی کے نظریات کا ہے تو اس کے لئے یہی مشورہ ہے کہ اپنے نظریات سے سلامتی، امن و محبت جیسے الفاظ نکال کر کھلم کھلا تسلیم کریں کہ جبر و تشدد اور قتل سے نظریات کا پرچار کرنا جائز ہے۔ اگر کوئی بھی یہ گھٹیا دلیل دیتا ہے کہ انسانوں کو فقط نظریات کے اختلافات کے سبب قتل کیا جا سکتا ہے تو ایسے نظریات اور ایسے دین و مذہب و مسلک والوں کو امن و سلامتی جیسے الفاظ استعمال کرنا منافقت کے سوا کچھ نہیں۔ ایسی سوچ رکھنے والوں کو انسان کہنا بھی انسانیت کی توہین ہے۔ آج وہ دور نہیں رہا آج لوگ حساب مانگتے ہیں لوگ جینا چاہتے ہیں کوئی ماں نہیں چاہتی کہ اس کے بیٹے کے سر پر سہرا سجانے کی بجائے شہادت کا تمغہ لگے کوئی بہن نہیں چاہتی کہ اس کا بھائی ان کا محافظ بننے کی بجائے جوانی میں قتل ہو . ہم لاکھ ان کے جذبات کو مقدس لفظوں سے دبانے کی کوشش کریں لیکن تنہائی میں جا کر دیکهیں کہ ایک ماں کتنی ٹوٹی ہے، ایک باپ کی کمر کتنی جھک گئی ہے ایک بہن کی سسکیاں کتنی دردناک ہیں۔

Views All Time
Views All Time
317
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: