Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

جو بوئیں گے وہی کاٹیں گے

by دسمبر 3, 2017 بلاگ
جو بوئیں گے وہی کاٹیں گے

جس طرح زمین پر ہم جو کچھ کاشت کرتے ہیں وہی کاٹتے ہیں اسی طرح زندگی میں ہم جو آج اور ابھی کرتے ہیں اس کا اثر ہماری زندگی پر مستقبل قریب یا بعید میں لازمی ہوگا
یہ نہیں ہو سکتا کہ بوئیں خار اور امید رکھیں فصلِ گل کی۔
سوچ کا تعلق بھی اسی طرح ہے مثبت سوچ وجود پر خوشگوار اور منفی سوچ پریشانی کے اثرات لے کر آتی ہے۔

کل ہمارے آبا و اجداد کی کاشت کو ہم کاٹ رہے ہیں ۔ ہماری کاشت کو کل ہماری اولاد یا ہم بهی کاٹیں گے ۔ امن و محبت کا پودا لگائیں گے تو کل ہم اور ہماری نسلوں کو بہار نصیب ہوگی نفرت اور فتنہ و فساد کا پودا لگائیں گے اس سے پیدا ہونے والی آگ ہماری آنگن کو بھی جلا کر راکھ کر دے گی۔

زمین مثلِ ماں ہے، ہم جو کچھ اس کو دیں گے وہی لوٹائے گی۔ فتنہ و فساد پلٹ کر ہماری ہی طرف آئیں گے۔رب کریم نے تو صاف صاف فرمایا ہے” خدا کی عطا کی ہوئی روزی کھاؤ پیو اور زمین پر فساد مت پهیلائیں”
"اور جب ان سے کہا جائے کہ فساد مت پھیلاو تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ”
فتنہ و فساد سے بڑھ کر کوئی جرم نہیں فتنہ و فساد سے قتل جنم لیتا ہے معاشرے میں نفرت بڑھتی ہے خلقِ خدا کی دل آزاری کا سبب بنتا ہے۔ اصل خرابی تب پیدا ہوتی ہے جب ہم زعم علم میں انکساری کی بجائے تکبر کی طرف جاتے ہیں ۔
حضرت علی کرم الله وجہہ الکریم کا قول ہے
” علم تین بالشت ہے جو پہلی بالشت تک پہنچا وہ متکبر ہو گیا اور دعوٰی کرنے لگا جو دوسری بالشت تک پہنچا وہ متواضع ہو گیا اس نے عاجزی و انکساری اختیار کی اور جو تیسری بالشت تک پہنچا اس نے فقر اختیار کی وہ فنا ہو گیا اور اس کو اس بات کا علم ہوا کہ وہ کچھ جانتا ہی نہیں فتوحات میں پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ الله کے ساتھ علم اس کے ساتھ عین جہل ہے”

مذہب و مسلک، قوم و ملت اور رنگ و نسل تو خالق کی طرف سے دی گئی ہیں ہمارا اس میں خود سے کچھ نہیں ۔ اگر مجھے مسلمان خاندان میں پیدا کیا ہے تو کیا کسی دوسرے دین و مذہب و مسلک اور قوم میں پیدا نہیں کر سکتا تھا؟ اگر کوئی یہ یقین رکھیں کہ فقط وہی حق پر ہے اور جنت کا حقدار فقط اسی کا مسلک ہے تو دوسرے انسانوں کا رب سے یہ سوال نہیں بنتا کہ اگر اس میں ان لوگوں کی کیا بڑائی اور ہماری کیا غلطی؟ اگر ہمیں اس دین پر پیدا کرتا تو یقیناً ہم بھی اسی راه پر ہوتے۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ دین و مذہب و مسلک اور قوم و ملت کی تفریق کے سبب دوسرا واجب القتل ہے تو کیا ان سب کا خالق وہ نہیں جو آپ کے عقیدے کے مطابق ہر شئے کا خالق ہے؟ تو اب یہ خالق پر منحصر ہے وہ کائنات کو کس طرز پر تخلیق کرتا ہے مختلف رنگ تخلیق کرتا ہے آیا ہم ان سے بہتر جانتے ہیں؟ یقیناً نہیں ۔ تو پھر اس امر کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ جیسے خلق کرتا ہے بہتر خلق کرتا ہے۔

بقولِ قرآن کیا فرشتوں نے نہیں کہا تھا کہ اس کو تخلیق نہ کریں یہ زمین پر فساد پھیلائے گا تو رب نے کیا فرمایا تھا؟ "جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے”
جب فرشتے اس راز کو نہیں جانتے تو ہم نے تو ابھی تک خود کو نہیں پہچانا اس زمین کی تخلیق کو نہیں پہچانا تو کل کائنات کے خالق کو جاننے کا یہ یقین کہیں ہماری متکبرانہ سوچ کا نتیجہ تو نہیں؟

اگر تو خالق کائنات سے حقیقی عشق ہے تو ان کی تخلیق سے محبت لازمی امر ہے ورنہ دکھاوا ہے محبت نہیں۔ عشقِ مجازی کا تقاضا ہے کہ محبوب کی ہر پسند سے محبت ہوتی ہے تو کائنات میں یہ سارے رنگ بھرنا تو محبوب حقیقی کو پسند ہے تو ہمیں ہر رنگ کو اپنا کر ان سے محبت رکھنا چاہیے ہر انسان خود جواب ده ہے کوئی کسی اور کا جواب نہیں دے سکتا۔ چهوڑ دیں یہ نفرت اور عقائد کی دشمنی اور سب سے پہلے انسانیت کے رشتے کو مقدم رکھیں۔ کوئی کسی چیز پر ایمان نہیں رکھتا کیا ہم بطورِ انسان بهی اس کو قبول نہ کریں؟ اس کے حقوق سلب کریں؟

ہمیں چاہیے کہ سب سے پہلے تو اس زمین پر تمام انسانوں کو اپنا جیسا انسان تسلیم کریں اسی طرح کوئی بھی ریاست انسانوں سے ہی بنتی ہے۔ فقط چند مخصوص بالادست طبقے کے افراد کے فیصلے پورے قوم پر مسلط نہیں کیے جا سکتے کیونکہ آج شہنشاہیت کا دور نہیں آج کے تقاضے کچھ اور ہیں۔ ہمارے علاقے میں پشتو کی مثل مشہور ہے کہ دودھ بلا پی گیا ڈنڈے میتھو کھا گیا تو دودھ بالادست طبقے پئیں گے اور کل ڈنڈے ہمارے سروں پر پڑیں گے ۔ اپنے اور دوسروں کے حقوق کے لئے ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے ورنہ الگ الگ ہو کر سب الگ الگ مٹ جائیں گے۔

امن سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں پیار و محبت سے سرشار جذبات سے بڑھ کر کوئی عقیدہ نہیں ۔ سب سے پہلے ہم انسان ہیں بعد میں کچھ اور ۔ ہمیں چاہیے کہ انسان اور شرف انسانیت کو سمجھیں جو کچھ آج ہیں شاید مستقبل میں کچھ اور ہو ۔ ہر بدلتے وقت کے ساتھ جینے کے تقاضے مختلف ہو جاتے ہیں وقت کے ساتھ چلنا ہی عقلمندی ہے ورنہ آنے والا وقت کچل کر رکھ دے گا۔

Views All Time
Views All Time
152
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: