Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

زندگی کے حسیں رشتے | شاہسوار حسین

by جولائی 21, 2017 بلاگ
زندگی کے حسیں رشتے | شاہسوار حسین
Print Friendly, PDF & Email

ماضی میں ہمارے معاشرے میں رشتوں کی اہمیت بہت تھی اور اب بھی موجود ہے۔ اس کا تعلق بذات خود انسان کے افکار و خیالات سے ہے کہ وە رشتوں کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ کوئی شخص جتنا حساس ہوتا ہے اتنا ہی رشتوں سے قربت محسوس کرتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ ان رشتوں سے دور رہنے کے بعد ان کی اہمیت اور قربت انسان کو مزید بے قرار کرتی ہے۔

اپنے بچپن کے وە ایام ذہن میں ہر وقت گردش کرتے رہتے ہیں جب ہمارے تین چچا اور ایک پھوپی کے خاندان اکٹھا ایک گھر میں رہتے تھے۔ ہم لاکھ اس زمانے کے لوگوں کو سادہ لوح سمجھیں لیکن کچے مکان کی ترتیب و تعمیر پرانے زمانے کے لوگ بہت خوبصورتی سے کرتے تھے۔

ہمارا گھر کوئی تین سو سال پرانا ہے اور آج کل دوسرے گاوں کے ایک خاندان کو رہائش کے لیے دیا ہے۔ چاروں طرف سے کمرے بنے ہیں بیچ میں صحن ہے چھوٹا سا نالہ نہر سے ہوتے ہوئے پورے گاوں کے گھروں کے بیچ سے گزارا گیا ہے، وہاں دو تین درخت تھے جس میں ایک ناشپاتی کا درخت بھی تھا۔ اوپر دوسری منزل ہے جس میں ایک بڑا ہال ہے جو تین اطراف سے بند جبکہ ایک طرف سے ہوا کی آمد کے لیے کھلا چھوڑا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک کمرہ مکمل چاردیواری میں بند ہے۔

اوپر کا بڑا ہال گرمی کے موسم میں زیادہ استعمال ہوتا تھا۔ کھانا اورناشتا وہیں ہوتا اور سونے کے لیے ہم چھوٹے بچوں اور بچیوں کی چارپائیاں ہال کے سامنے چھت پر ہوتی تھیں۔ پورے گاوں کے لوگ گرمیوں میں گھر وں کی چھتوں پر سوتے تھے کیونکہ گاوں میں ایک دوسرے سے کسی کو خوف وغیرہ نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ دوسروں کی ماں ، بہن اور بیٹیوں کو اپنوں جیسی عزت دیتے تھے اور آج بھی وہاں ان رشتوں کا احترام اتنا ہی ہے جتنا پہلے تھا۔ تو ایسا ہوتا کہ آدھی رات تک ہم تاروں کو گنتے رہتے، سیاروں کی گردش سے لطف اندوز ہوتے، باہر کھیتوں سے حشرات کی آوازیں سنائی دیتی اور جگنو اڑ اڑ کر ہمیں متوجہ کرتے۔ آہ، زندگی کے وە سادہ ایام سب سے زیادہ حسین تھے۔

ہمارے گھر کی نچلی منزل میں چاروں طرف کئی کمرے اور ایک بڑا ہال تھا جس کا استعمال سردیوں میں زیادہ ہوتا۔وہاں سارا خاندان اکٹھا کھانا کھاتا اور صبح ناشتہ بھی ساتھ ہی کرتے۔ الگ الگ کمروں میں کھانا کسی صورت خاندان کے بزرگوں کو پسند نہیں تھا اس لئے کھانے پر سب کا اکٹھا ہونا ایک لازمی امر تھا۔ کچے مٹی کے اس بڑے ہال نما کمرے کے بیچ میں انگیٹھی ہوتی تھی جو کھانا پکانے سے لے کر سردیوں میں کمرے کو گرم رکھنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ انگیٹھی سے آگے صدر میں دادا جی، دائیں طرف بڑے چچا مرحوم (فوتگی 10 جولائی 2017ء) ، میرے والد اور دوسرے چچا صدر جگہ پر دادا جی کے دائیں بائیں جانب بیٹھتے تھے۔گھر کی عورتیں انگیٹھی کے دائیں بائیں جانب بیٹھتی تھیں۔

ٹی وی وغیرہ اس دور میں ہمارے علاقے میں نہیں تھے۔ ایک بڑے سائز کا نیشنل کا ریڈیو ہوتا تھا جس پر بی بی سی اردو کے رضا علی عابدی صاحب کی بھاری بھر کم خوبصورت آواز سنائی دیتی اور پشاور سے پشتو زبان کے گانے وغیرہ نشر ہوتے تھے۔ یہ سارے پروگرام گھر کے سب افراد بڑے شوق سے سنتے تھے۔ بعد میں ٹی وی آیا تو پورا محلہ دیکھنےچلا آتا اور رات ایک تقریب جیسا سماں بن جاتا۔

یہ بھی پڑھئے:   دو آنکھیں کتنا روئیں؟ - عادل باجوہ

بچپن میں دادی سے بہت مانوس تھا اور سوتا بھی انہیں کے ساتھ۔ سچ کہوں تو دادی کا رشتہ ماں سے بھی بڑھ کر عزیز ہوتا ہے کیونکہ دادی کبھی مارتی نہیں۔ اس زمانے میں مائیں بچوں کو مارتی بہت تھیں۔ آج کل بھی کہیں کہیں مار پٹائی ہوتی ہے لیکن دادی پوتوں پوتیوں کو مارتی نہیں بلکہ دوسروں سے بھی لڑتی ہے کہ کیوں بچے کو مارتے ہو۔ اس کے علاوہ خالائیں، پھوپیاں، ممانی اور دوسرے رشتے بھی ہیں جو کہ بہت عزیز ہیں۔ ان رشتوں کی اہمیت اس وقت بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے جب انسان دوسرے ملک چلا جائے اور ایک لمبے عرصے بعد ان سے ملاقات ہوتی ہو۔ سخت شب و روز میں اکثر ان کی یاد آتی ہے اور انسان سوچتا ہے کاش ابھی دادی کی آواز سنائی دیے، "ارے بیٹا پریشان کیوں ہو؟ آو ذرا دادی جان کے پاس اور میرے گود میں سر رکھ کر مجھ سے باتیں کرو”۔  خالہ و پھوپی کے بلائیں لیتی وە تصویریں ایک ایک کر کے سامنے آتی ہے۔

مغربی معاشرے جو بظاہر ترقی کے عروج پر ہیں لیکن قریب سے دیکھا جائے تو اکثر لوگ بہت زیادہ تنہائی سے دوچار ہیں۔ کئی بڑی عمر کے لوگوں کو دیکھا ہے اور ان سے رسم و رواج اور رہن سہن کے طور طریقوں پر بحث کی ہے۔ یقین مانیں اکثر ہمارے معاشرے کے بڑوں کی زندگی کا سن کر حیران ہوتے اور اکثر کہتے آپ کے معاشرے کے بزرگوں کی زندگی ہم سے بہتر ہے، ہم تو نواسے دور کی بات، اپنی اولاد کو سالہا سال مل نہیں پاتے اور اکثر تو نگہداشت کے اداروں میں رہتے ہوئے دنیا سے چلے جاتے ہیں، ان کی اولاد جنازے تک پر آتے نہیں یا جانے میں رکاوٹیں درپیش ہوتی ہیں۔

لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ جب بھی بہت پریشان ہوتا ہوں یا تنہائی کاٹنے لگتی ہے تو سب سے پہلے یہ سارے حسیں رشتے آنکھوں کے سامنے آنے لگتے ہیں۔ اکثر تخیل میں ہم کلام ہوتا ہوں اور ان کے گلے لگ کر اپنے ماتھے پر ان کے شفقت بھرے بوسے محسوس کرتا ہوں۔ ایک طویل فرقت کے بعد جب بھی چھٹی پر پاکستان جانا ہو تو سب سے پہلے یہی خواہش ہوتی ہے کہ ان سب عزیز رشتوں کی زیارت ہو، ان کی شفقت بھری آغوش میں سر رکھ لیں، ان کو سینے سے دیر تک لگائیں رہیں کہ فراق کے لمحات کے زخموں کا کچھ مرہم ہو سکے۔ اس بار چھٹی پر گیا تھا تو دو بھائیوں کی شادیاں تھیں اور سب رشتے ایک جگہ اکٹھے ہو گئے تھے۔ خالاؤں، پھوپیوں ، چاچیوں اور ممانی وغیرہ کی بیٹیاں بھی جو دور کے گاوں میں بیاہی گئی ہیں۔ چونکہ قبائل آج بھی ان رسومات پر کاربند ہیں تو ایسے موقعوں پر سبھی کو کئی دن رات اکٹھے ملنا نصیب ہوجاتا ہے۔ بخدا جب شادی سے ایک روز قبل یہ سارے رشتےدار گھر آنا شروع ہوئے تو زندگی ایک دم سے واپس بچپنے میں لے گئی جب رشتے دار ملنے آتے اور ہم بچوں کی جیسے عید ہوجاتی۔ گھر میں آتے ہی ہم سِن بچے بچیوں کو لے کر کھیتوں اور باغوں کو بھاگتے چلے جاتے۔ وہاں نہ بھوک و پیاس اور نہ گرم موسم کی پرواہ ہوتی۔ رات کو ہم مہمانوں کے ساتھ بیٹھ کر ان سے قصے کہانیاں سنتے اور گھر میں ایک عجیب لطف و سرور کی کیفیت ہوتی۔

یہ بھی پڑھئے:   قرۃ العین طاہرہ - علی عباس

جب ان سب رشتوں کو ایک لمبے عرصے بعد اپنے گھر میں اکٹھا دیکھا تو اس وقت دعا مانگ رہا تھا کاش یہ لمحے بیت نہ جائیں، وقت ذرا یہیں رک جائے اور میں ان عزیزوں کے درمیان بیٹھا رہوں۔ وە بچپن کی یادیں ایک دوسرے سے سنیں اور سنائیں لیکن یہ وقت کمبخت بڑا ستمگر ہے، وصال کے بعد ہجر کی اذیت ضرور دیتا ہے۔ شاید بچپن کا زیادہ عرصہ ان رشتوں کی قربت میں گزارنے کا اثر ہے کہ آج پہلے سے بھی زیادہ ان کی یادیں اور ملن کی تڑپ رہتی ہے۔ انہی حسیں رشتوں کا اثر ہے کہ آج کہیں بھی کسی بنت حوا سے زیادتی اور ظلم کا سنتا ہوں تو اپنے وە رشتے سامنے آتے ہیں لگتا ہے میرے وە رشتے سسکیاں لے رہی ہیں۔

یقین مانیں دنیا میں اتنا سکون کہیں نہیں ملتا جتنا ان رشتوں کے ساتھ جڑے رہنے سے ملتا ہے۔ بڑی سے بڑی مشکل بھی آئے تو ان بزرگوں کی تسلیاں اور دلاسے سارے درد مٹا دیتے ہیں کیونکہ وە تقسیم ہو جاتے ہیں۔ جتنا ان رشتوں سے جڑے رہیں گے ان کی عزت و تکریم عبادت کی طرح سمجھ کر کریں گے تو دوسروں کی ماں ، بہن اور بیٹیوں کی عزت کرنا سیکھ جائیں گے۔

جب بھی شدید تنہائی محسوس کرتا ہوں تو ان رشتوں کی محبت بھری یادیں سینے سے لگائے رکھتا ہوں۔ انہیں سوچتا ہوں محسوس کرتا ہوں خود سے ہمکلام ہوتا ہوں اور ان کے پیار بھرے جملے دل میں اتار کر  بے قراری کو قرار دیتا ہوں۔ پروردگار ہم سب کے یہ عزیز و شیرین رشتے سلامت رکھے اور ہمیں اپنے ان رشتوں سے جڑے رہنے ان کی عزت و احترام کرنے اور دوسروں کی ماں ، بہن اور بیٹیوں کی بھی عزت و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Views All Time
Views All Time
523
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: