Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

پارا چنار کی تاریخ اور فکری تضادات (تیسرا حصہ) | شاہسوار حسین

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان اور پھر پاراچنار کے حالات ضیاءالحق کے دور سے جتنے خراب ہوئے وە پہلے کبھی نہیں تھے. جیسا کہ پچھلی دو قسطوں میں لڑائیوں کے بارے میں لکھ چکا ہوں ضیاءالحق دور سے پہلے تمام لڑائیوں کے بعد حالات دوبارہ ٹھیک ہوجایا کرتے لیکن 1981ء میں صدہ کے سادات خاندان کے ساتھ بے انتہا ظلم کرنے کے بعد نفرت کی آگ ایسی بھڑکی کہ آج تک بجھنے کا نام نہیں لے رہی.
1981ء کے 6 سال بعد ہی 1987ء کی جنگ اور پھر 5 اگست 1988ء کو عارف حسین الحسینی کو پشاور میں قتل کیا گیا ٹھیک 9 سال بعد 1996ء میں پھر خوں ریز لڑائی. اگر وقت دیکھیں تو پہلی دو جنگیں ضیاءالحق کے دور میں اور 1996ء میں اس وقت شروع ہوئیں جب افغانستان میں طالبان آگ و خون کا بازار گرم کر چکے تھے.
2001ء میں پیواڑ کے مقام پر شیعہ سنی جرگے کا اہتمام کیا گیا تھا شیعہ عمائدین امام بارگاہ پہنچے تو تری مینگل سے میزائل داغ کر امام بارگاہ کو نشانہ بنایا گیا سوچنے والی بات یہ تھی کہ اتنی دور سے ایسا نشانہ لگانے والا میزائل کہاں سے حاصل کیا گیا تھا؟ جس میں 23 شیعہ عمائدین قتل کر دیے گئے اور یہ پاراچنار کی شیعہ کمیونٹی کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان تھا. پھر 2007ء سے 2011ء تک جو تباہی و بربادی ہوئی وە کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ اتنا لمبا عرصہ جنگ چلے گی .ڈھائی ہزار لوگ قتل کئے جائیں گے
ان جنگوں میں اہل سنت برادری بھی برباد ہوئی۔ کئی افراد قتل ہو چکے ہیں جب جنگ چھڑ جاتی ہے تو ظاہر ہے کہ مخالف فریق کے افراد بھی قتل ہوتے ہیں املاک کو نقصان بھی پہنچتا ہے لیکن سرکاری سطح پر دونوں فریقین کو بٹھا کر قرآن مجید بیچ میں رکھ کر ان سے حقائق بیان کئے جائیں تو پتہ چلے گا کہ ابتداء کس فریق نے کی ہیں مخصوص نظریات کے لوگوں نے جنگ چھیڑی ہے اور خمیازہ دوسروں کو بھی بھگتنا پڑا ہے شیعہ سے زیادہ اہل سنت کے بعض لوگ اب بھی کہتے ہیں کہ بہت ظلم ہوا ہمارے بیچ دہشت گرد گھس آئے تھے اور ہم دونوں کو برباد کر دیا اب دونوں کو احساس ہو گیا ہے کہ انہیں غلط استعمال کیا گیا ہے
لوگ مجبور ہو کر آرمی کانوائے کے ساتھ جاتے لیکن کئی کانوائے فائرنگ اور دھماکوں کی زد میں آگئے درجنوں افراد قتل کیے گئے ایک فلائنگ کوچ کے 16 افراد کو طالبان اغوا کر کے لے گئے اور بعد میں ان کے کٹے ہاتھ پاؤں اور کٹے سر ٹکڑوں کی شکل میں موصول ہوئے خود میرے روم میٹ علی جان مرحوم بھی اس ظلم کا شکار ہوئے جو کویت سے چھٹی پر گئے ہوئے تھے ٹھیک دو سال بعد ان کے اکلوتے جوان بیٹے کو کویت ویزے کے لئے پاسپورٹ بنوانے کے لیے کوہاٹ جانا پڑا تو راستے سے اسے بھی اغوا کر کے اس کا جسم بھی ٹکڑے کر دیا گیا اور یوں علی جان کی نسل ہی ختم ہو گئی. پاراچنار کے پاکستان سے زمینی راستے مکمل طور پر ختم ہو گئے تھے ہسپتالوں میں دوائیاں نہ ہونے کے باعث بیماریوں اور اموات میں خاصا اضافہ ہوا اور قوم اس وقت انتہائی صدمے سے دوچار ہوئی جب ملانہ گاؤں کے ایک شخص کی بیوی کے ہاں بچے کی ولادت کے وقت دوائیاں نہ ملنے کے باعث بچہ اور بیوی زندگی اور موت کے بیچ لٹک رہے تھے تو حالات برداشت نہ کرتے ہوئے اس نے خودکشی کر لی.عارف خٹک صاحب نے افغانستان سے جس مدد کی نشان دہی کی ہے وە سراسر زیادتی ہے پاراچنار کے لوگوں نے ایک وفد اس وقت افغانستان کے صدر کرزئی کے ہاں بھیجا تھا کہ ہم تو محصور ہو کر رہ گئے ہیں پشاور جانے والے راستوں پر طالبان کا قبضہ ہے بچے عورتیں اور بوڑھے بیماری اور دوائیاں نہ ہونے کے باعث مر رہے ہیں ہماری حکومت خاموش تماشائی بنی ہے ہمیں افغانستان کے راستے پشاور تک راستہ دیں۔

یہ بھی پڑھئے:   مست توکلی ؒ ۔۔۔۔۔بھیدِ زندگی پانے والا صوفی - حیدر جاوید سید

کرزئی صاحب نے کہا کہ مجھے سب حالات کا علم ہے انہوں نے راستہ دیا اور افغانی تاجروں سے کہا کہ اپنی قیمت اور کرایہ وصول کریں لیکن پاراچنار کے قبائل کو خوراک، ادویات اور دیگر اشیا فراہم کریں یوں افغانستان سے آٹا ،چینی چائے موم بتی ماچس وغیرہ ڈبل نہیں بلکہ پانچ گنا مہنگی ملنے لگیں. رب العزت گواہ ہے کہ دس ہزار روپے میں 80 کلو آٹے کی بوری قطاروں میں طویل انتظار کے بعد ملتی تھی . ایک چھوٹی موم بتی جو ایک درجن کا پیکٹ ہوتا ہے وہ پیکٹ پاکستان میں 20 سے 22 روپے کا تھا اور ہمیں وە پیکٹ 200 سے 210 روپے میں ملا کرتا تھا اور ماچس کی ڈبیا 20 روپے میں خریدا کرتے تھے۔
ان تمام مسائل و مشکلات کے باوجود کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھایا گیا ہو جھنڈا جلایا گیا ہو یا کسی ایک فوجی کو قتل کیا گیا ہو اور نہ کبھی کوئی سوچ سکتا ہے لیکن افسوس کہ پھر بھی کچھ لوگ بلا تحقیق الزامات لگا کر اپنے گلے میں ایک عظیم گناہ کا بار اٹھاتے ہوئےنہیں سوچتےبہر حال رب العزت بڑا انصاف کرنے والا ہے۔.

4 اگست 2007ء کو عیدگاہ مارکیٹ پارا چنار میں موجود پشاور فلائنگ کوچ اسٹینڈ سے چند میٹر کے فاصلے پر خودکش حملہ آور نے اپنی کرولا گاڑی سمیت خود کو دھماکے سے اڑاکر 12 افراد کو شہید جبکہ درجنوں دیگر کو زخمی کرکے خون میں نہلا دیا۔ دھماکہ میں خودکش کا سر بالکل سالم رہا، جسکی شناخت غیور خان چمکنی کے نام سے ہوئی۔ جس کا تعلق پاڑہ چمکنی کے علاقے تابئے تنگی سے تھا اور وہ پاراچنار میں مقیم تھا۔ خودکش کا ایک رشتہ دار فضل حمید مبینہ طور پر راولپنڈی میں ایک مسجد میں ہونے والے دھماکے میں ملوث تھا اور حکومت کو مطلوب تھا۔ تاہم اسکے خاندان سے اس حوالے سے کوئی تفتیش نہیں ہوئی۔

https://i1.wp.com/lubpak.com/wp-content/uploads/2013/01/ppp.jpg?resize=200%2C145&ssl=116 فروری 2008ء کو مذکورہ مقام سے صرف 10 میٹر کے فاصلے پر پشاور اسٹینڈ کے ساتھ ڈاکٹر سید ریاض حسین کے الیکشن آفس کے سامنے ایک اور دھماکہ ہوا، جس میں بارود اور آتش گیر مادے سے بھری ایک کرولا گاڑی کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ جس میں 102 کے قریب افراد شہید جبکہ سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔

17 فروری 2012ء کو کرمی بازار میں ایک اور دھماکہ ہوا، جس میں تقریباً 14 افراد شہید جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہوئے۔ لیکن اس بار ایک ناخوشگوار واقعہ یہ ہوا کہ دھماکے کے فوراً بعد لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا، جبکہ ایف سی نے ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں کی مدد سے مظاہرین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان پر فائرنگ کی۔ جسکے نتیجے میں 24 مزید افراد شہید جبکہ 17 افراد شدید زخمی ہوگئے۔

یہ بھی پڑھئے:   زندان کی چیخ ۔دسویں قسط

اگست 2013ء کو زیڑان روڈ اور شنگک روڈ پر یکے بعد دیگرے دو خودکش دھماکے کئے گئے، جس میں 54 افراد شہید جبکہ 150 کے قریب زخمی ہوگئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خودکش حملہ آوروں میں سے ایک کو کرمی بازار میں اہلسنت مسجد سے زیڑان اڈہ کی جانب جبکہ دوسرے کو شنگک روڈ پر مذکورہ مسجد سے پنجابی بازار کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ گویا دونوں خودکش حملہ آور مسجد سے برآمد ہوکر منزل مقصود کی طرف گئے اور یہ بھی خیال رہے کہ مذکورہ مسجد 2008ء سے آج تک ایف سی کے قبضے میں ہے یعنی یہاں عوام کی اجارہ داری کی بجائے حکومت کی اجارہ داری ہے۔

اسکے کچھ ہی عرصہ بعد کشمیر چوک میں پارا چنار کی تاریخ کا چھٹا دھماکہ کیا گیا۔ اس دفعہ دہشت گردوں نے کسی عام یا ذاتی گاڑی کی بجائے مبینہ طور پر سرکاری گاڑی کا استعمال کیا دھماکے سے کچھ دیر قبل ہی سرکاری اہل کار گاڑی کو چھوڑ کر گشت پر نکلے تھے اور یہ کہ دھماکے میں سرکاری اہل کاروں میں سے کسی کو بھی خراش تک نہ آئی۔ گاڑی چار ٹکڑوں میں تقسیم ہوکر مکمل طور پر تباہ ہوگئی، جبکہ ساتھ کھڑی انگور کی گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچا، 20 سے زائد افراد شہید جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔

13 دسمبر 2015ء کو اہلسنت عیدگاہ کے ساتھ ہی متنازعہ قطعہ زمین میں لگی منڈی میں کباڑ خریدنے کے لئے بھاری تعداد میں غریب شہری جمع تھے کہ اس دوران کباڑ میں پہلے سے نصب بارودی مواد کو غالباً ریموٹ کنٹرول سے اڑا دیا گیا، جس کے نتیجے میں غریب اور اپنی قسمت سے بے خبر کباڑی اور اسکے چھوٹے بیٹے سمیت 30 سے زائد دیگر غریب شہری شہید جبکہ 73 زخمی ہوگئے

21 جنوری 2017ء کو اسکے بالکل سامنے عیدگاہ مارکیٹ کے اندر واقع نئی سبزی منڈی میں مبینہ طور پر سبزی کے کریٹ میں پہلے سے نصب بارودی مواد کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑا کر دھماکہ کیا گیا، جس میں 38 افراد شہید جبکہ 73 دیگر افراد زخمی ہوگئے تھے.

31 مارچ 2017ء نور مارکیٹ امام بارگاہ کے ساتھ دھماکے میں 24 افراد شہید اور 71 زخمی ہوگئے ۔

25 اپریل 2017ء پاراچنار کے گاوں گودر میں پک اپ گاڑی پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکا، 14 افراد شہید اور 9 زخمی ہوگئے ۔

23 جون 2017ء جمعتہ الوداع کے دن دو بم دھماکے، 73 افراد شہید اور 200 کے قریب زخمی ہوگئے ۔

مزید اور کتنے دھماکے اور لاشیں اٹھانا پڑیں گی کچھ کہا نہیں جا سکتا البتہ دھماکوں کے فوراً بعد تاویلات سے لے کر ایران انقلاب کے چورن بیچنے والے ہر بارضرور سرگرم ہو جاتے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
719
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: