امریکن ہنری کسنجر اور پاکستانی ہنری کسنجرز

Print Friendly, PDF & Email

1974ء میں مشہور زمانہ ہنری کسنجر نے 2000 صفحات پر مشتمل ایک منصوبہ تیار کیا جس کو ہنری کسنجر جنوسائیڈ پلان کہتے ہیں۔ اس منصوبے کے مطابق تیسری دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی آنے والے دور میں امریکی مفادات کے لیے نقصان دہ ہوگی اس لیے مختلف طریقوں سےدنیا کے اربوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار کر اس آبادی کو کم کرنا چاہئے۔
اس منصوبے میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ برتھ کنٹرول، ابارشن، جنگوں، لیبارٹریز میں تیار کی گئی بیماریوں اورخاص طور انسانوں کی خوراکوں کو زہر آلود کر کے کیسے اربوں انسانوں کو مارا جاسکتا ہے!
اس منصوبے کے تحت اگے چل کر کیسے انسانوں کو بحیثیت مجموعی کمزور کیا گیا اورکیسے ان کے جسموں میں مصنوعی خوارکوں اور دیگر طریقوں سے آنے والے ایک خاص وقت کے لیے اپنی مرضی کے کیمیکلز اور نیم حیاتیاتی اجزاء داخل کیے جا رہے ہیں اسکی تفصیلات کافی خوفناک ہیں۔ لیکن یہاں ہمارا موضوع کچھ اور ہے!
پاکستانی میڈیا پچھلے کچھ عرصے سے بلاناغہ ایسے پروگرام پیش کررہا ہے جس میں پاکستان میں استعمال ہونے والی مختلف خوراکوں کے تیاری کے اصل مراحل دکھائے جاتے ہیں۔ ان پروگراموں میں اچار، چٹنیوں، کیچ اپس سے لے کر شہد، دودھ، گھی، تیل، چائے اور منرل واٹر وغیرہ کے بھی تیاری کے مراحل دکھائے گئے!
ان پروگراموں کو دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ایک عام پاکستانی پیسے کمانے کے لیے کتنا ظالم بن سکتا ہے۔ صرف دودھ کی حالت یہ ہے کہ اس کو پہلے تو انجکشن لگا کر بھینس سے نکالا جاتا ہے جس کا اثر نہ صرف دودھ کے ذارئقے میں آجاتا ہے بلکہ اسکی تاثیر میں بھی۔ مختلف ماہرین کے مطابق انجکشن کے ذریعے نکالا گیا دودھ انسانی صحت کے لیے مضر ہے خاص کر بچوں کے لیے!
اس کے بعد اس کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے فارملین سمیت کئی طرح کے کمیکلز ڈالے جاتے ہیں جو درحقیقت جراثیم کش زہر ہیں اور دودھ میں مختلف طرح کے بیکٹریاز کو مار کر دودھ کی عمر معمول سے بڑھا دیتے ہیں۔ یہ جراثیم کش زہر انسانوں کے لیے بھی زہر ہی ہیں۔ فارملین کو لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ان پر لگایا جاتا ہے۔
دودھ میں سے گھی وغیرہ نکال کر اسکا گاڑھا پن برقرار رکھنے کے لیے ان میں بال صفا پاؤڈر، نیلا تھوتا اور جھاگ کے لیے ڈیٹرجنٹ ڈالا جاتا ہے۔
ڈبوں میں دودھ بیچنے والی کمپنیاں یہی زہریلا دودھ خرید کر اسکی عمر، ذائقہ اور گاڑھا پن بڑھانے کے لیے اس کو مزید پراسیس کرتی ہیں جس کے بعد یہ دودھ نہیں رہتا کچھ اور بن جاتا ہے!
اس دودھ کے مقابلے میں "صرف پانی کی ملاؤٹ” والا دودھ کسی نعمت سے کم نہیں۔
کیا آپ نے کبھی نوٹ نہیں کیا کہ عید والے دن ہر شخص اپنی ضرورت سے تین یا چار گنا زیادہ دودھ خرید لیتا ہے لیکن اس کے باوجود سب کے لیے دودھ پورا ہو جاتا ہے بھلا یہ کیسے ہوتا ہے ؟ کیا عید کی مناسبت سے جانور ایک دن کے لیے تین چار گنا زیادہ دودھ دینے لگتے ہیں ؟؟؟؟
گھی کا حال اس سے بھی برا ہے۔ جانوروں کے جسموں سے تیل بنانے والی کمپنیاں دنیا جہان کے مردہ جانور خرید کر ان کو نچوڑلیتی ہیں۔ ان میں مر جانے والے حلال جانوروں کے علاوہ، کتے ، بلےاور گدھوں سمیت پاکستان بھر میں حلال ہونے والے جانورو کی اوجڑیاں بھی شامل ہیں۔ اس نکالے گئے تیل کو جس طرح پراسیس کیا جاتا ہے اس کے بعد وہ کوئی آرگینک چیز نہیں رہتی بلکہ ایک طرح سے ڈیزل ہی بن جاتا ہے۔ جس کے بعد اس کو پاکستان میں گھی بنانے والی بڑی بڑی کمپنیوں کے ہاتھوں بیچ دیا جاتا ہے۔ آپ نوٹ کیجیے آپ کو مرے ہوئے گدھے، کتے یا دیگر جانور سڑکوں کے کنارے بہت کم پڑے ہوئے ملتے ہیں۔
یہ دو ایسی چیزیں ہیں جن کا استعمال ہمارے روز کا معمول ہے اور ان کو ہم کسی صورت نہیں چھوڑ سکتے۔ لیکن اسکا نتیجہ کس صورت میں سامنے آرہا ہے اس مشاہدہ کرنا ہے تو پاکستان میں کیسنر، دل کے امراض اور معدے کے امراض کے بڑھتے ہوئے اعداد و شمار چیک کر لیجیے!
اب تک میڈیا پر ایسے سینکڑوں لوگوں کو بے نقاب کیا جا چکا ہے جن میں کچھ بڑی بڑی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ لیکن یہ سارا کام اسی تندہی سے جاری ہے بلکہ بڑھ رہا ہے۔ جانتے ہیں کیوں ؟
کیونکہ ان میں سے کسی ایک کو بھی سزا دے کر دوسروں کے لیے نشان عبرت نہیں بنایا گیا۔ کیوں؟
اس کیوں کا جواب آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔
ہنری کسنجر کے جنوسائیڈ پلان میں جن ممالک کے لوگوں کو مارنے منصوبہ بنایاگیا تھا ان میں پاکستان کا نام بھی شامل ہے۔ ہنری کسنجر کو اس فہرست کے پاکستان کا نام نکال لینا چاہئے۔ پاکستانیوں کا مارنے کے لیے ان پر سرمایہ کاری کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں۔ یہاں ہر پاکستانی دوسرے کے لیےہنری کسنجر بنا ہوا ہے۔ وہ تو امریکہ کو دنیا پر غالب کرنے لیے لوگوں کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ یہاں پاکستانی محض ایک کلو دودھ کو دو کلو بنانے کے لیے آپ کو آپ کے خاندان سمیت موت کے گھاٹ اتارنے پر تلے ہوئے ہیں۔

تحریر شاہدخان

Views All Time
Views All Time
358
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   امتِ مسلمہ کا مجرم کون؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: