Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بسنتی ناچے گی | شاہدؔکمال

by جون 18, 2017 کالم
بسنتی ناچے گی | شاہدؔکمال

میں نے جس عنوان کا انتخاب کیا ہے وہ بڑا د لچسپ ہے ۔لیکن اس عنوان کے لئے منتخب کیا جانے والا جملہ بڑا سطحی قسم کا ہے۔ اس کا تعلق اردوزبان کی تہذیب و تمدن کے منافی ہے اور اہل زبان کے نزدیک یہ ایک سوقیانہ جملہ ہے۔لیکن یہ جملہ اپنے مقتضائے حال کے مطابق(بسنتی ناچے گی) معنوی اعتبار سے بڑا بلیغ ہے۔ چونکہ اسے یہاں ایک تلمیحی استعارے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔جنھوں نے بولی ووڈ میگا اسٹار فلم "شعلے” دیکھی ہے یا اُس کے بارے میں پڑھا ہے، وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں،کہ اس فلم کا ایک مرکزی کردار "بستنی” بھی ہے،اور اس پوری ڈرامائی فلم میں ایک ایسے ڈاکو کے ظلم و جور اور قتل و غارت گری کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ جو انتہائی ظالم اور سفاک ہے ۔جو لوگوں کے دلوں میں اپنے ظلم و بربریت سے ایک خوف بھر دینا چاہتا ہے تاکہ کوئی اس کے خلاف آواز نہ بلند کرسکے ،اور اگر کوئی اس کے خلاف بولنے کی جرات کرے تو اس کی آواز ہمیشہ کے لئے خاموش کردی جائے۔اس ڈاکو کا سب سے بڑا ہتھیار اس کا یہی خوف ہے جس کے ذریعہ وہ لوگوں کے حقوق کا استحصال کرتا ہے۔ باس فلم میں اس ڈاکو کانام گبر سنگھ ہے ۔جس کی دہشت کا چرچا چاروں طرف ہے ۔لیکن اس کے باوجود اس کا مقابلہ دوسرپھرے نوجوانوں سے ہوجاتا ہے ۔جو اپنی ہمت و جواں مردی سے اس کے ظلم کے خلاف مزاحم ہوجاتے ہیں۔جس کی وجہ سے اس کے اس خوف و ہراس کے کاروبار میں بڑی رکاوٹ پیدا ہونے لگتی ہے۔لہذا وہ ان نوجوانوں کو اپنے راستے سے ہٹانے کے لئے مختلف حربے استعمال کرتا ہے لیکن اس کے باوجود اسے کامیابی نہیں ملتی۔آخر کا عاجز آکر وہ اپنی حیلہ جوئیوں کے ذریعہ اس ڈرامے کی ایک اہم کردار بسنتی کو یرغمال بنا لیتا ہے۔پھر جس کے ذریعہ ان نوجوانوں میں سے ایک نوجوان کو گبرسنگھ پکڑنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔پھر اس نوجوان کو ذلیل کرنے کے لئے بسنتی کو ناچنے کے لئے مجبور کرتا ہے۔ بسنتی اپنے یار کی جان کے زیاں کے خوف سے ان ظالم اور درندوں کے سامنے ناچتی ہے۔چونکہ وہ یہ کام اس لئے کرتی ہے تاکہ اُس کے چاہنے والے کی جان بچ جائے۔
یہ ایک ڈرامائی کہانی ہے ۔جس کے بارے میں آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ اس افسانے کا کسی حقیقت سے کیا تعلق ہوسکتا ہے۔لیکن ایسا نہیں ہے،اگر آپ اس پوری ڈرامائی فلم کے تمام پلاٹ کو زمینی حقائق پر متحرک دیکھنا چاہتے ہیں ۔تو آپ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال پر ایک منطقی نظرڈالیں اور وہاں پر مسلسل وقوع پذیر ہونی والی فسطائیت و سامراجیت نواز طاقتوں کے سازشانہ اقدام کا منطقی تجزیہ کریں، تو آپ پر یہ بات واشگاف ہوجائے گی ۔کہ مشرق وسطیٰ میں برپا کی جانے والی قیامت کی اصل حقیت کیا ہے۔سعودیہ کی بادشاہت جو محض خادم الحرمین کے ایک جھوٹے دعویٰ کے ساتھ پورے عرب پر اپنی مسلم الثبوت قیادت کی خواہاں ہے ۔اصل میں وہ ایک ایسا فتنہ ہے جس نے امت مسلمہ کو ایسے خلفشار سے دوچار کر رکھا ہے۔فی الحال جس کے حل کی کوئی امکانی صورت نہیں دکھائی رہی ہے اور رہی سعودیہ حکومت کے قیام کی بات تو یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ یہ عرب کے ایک نجدی لٹیروں کا بدوی قبیلہ ہے جو برطانیہ حکومت کی ساز باز سے سرزمین نزول وحی و قرآن پر اپنی خیانت کاریوں سے مسلط ہوگیا اوران نجدی لٹیروں کے سیاہ کارنامے اسی وقت لوگوں پرآشکار ہونے لگے تھے جب یہ برسر اقتدار آئے۔انھوں نے اسلامی شعائر اور مقدسات اسلام کی بے دریغ بےحرمتی کا ارتکاب کرنا شروع کردیا۔ جس کی وجہ سے پوری اسلامی دنیا میں ایک ہلچل سی پیدا ہوگئی۔جب فرزندان توحید کا احتجاج اس کی نئی حکومت کے لئے خطرہ بننے لگا تو اس نے اپنے سارے فتنوں کو ایک مدت تک کے لئے ملتوی کردیا۔معاصر عہد میں وہی نجدی ڈاکووں کے فتنے نے ایک نئی صورت کے ساتھ ظہور کیا ہے ۔ جس نے پورے مشرق وسطیٰ میں کشت وخون قتل و غارت گری اور جنگ وجدل کے بازار کو گرم کر رکھا ہے۔جس کا نتیجہ آج آپ کے سامنے ہے۔لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کے خون سے عراق و شام ،یمن و بحرین کی سرزمین کو سرخ کردیا گیا ،اور ہنستے مسکراتے ہوئے لوگوں کے گھروں کو بھی ویران قبرستانوں میں تبدیل کردیا۔ ان بے رحم اور سفاک گروہوں نے شہروں کے گلی کوچوں ،چوک و چوراہوں پر موت کا ایک ایسا کھیل رچایا جسے دیکھ کر آج ساری دنیا سکتے میں ہے۔یہ ایک ایسا ناگفتہ بہ کارنامہ ہے جسے صدیاں نہیں بھلا سکتیں۔
اصل میں ریاض حکومت کے یہ سارے منصوبے محض اپنے تخت واقتدار کے تحفظ کے لئے ہیں نہ کہ انسانیت کی بقا اور اسلامی اقدار کی پاسداری کے لئے۔ان کا تعلق کسی بھی طرح سے اسلامی نہیں ہے،انھوں نے صہیونیت اور عیسائیت کے بنائے ہوئے منصوبوں کی تکمیل کے لئے ملت اسلامیہ کے شیرازے کو منتشر و پراگندہ کر کے رکھ دیا۔ شام ، عراق ، یمن اور بحرین پرلشکرکشی اور دہشت گردی کا صرف ایک ہی مقصد ہے ۔کہ وہ یہودیوں کے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کریں جسے گریٹیر اسرائیل کا نام دیا گیا ہے۔لیکن امریکہ اور اسرئیل کا یہ ایک ایسا خوفناک خواب ہے جس کی تعبیرممکن نہیں اس لئے کہ اس خواب کا مقدر وحشت زدہ رات کی سیاہیوں سے عبارت ہے جس کا مقسوم صرف اور صرف شکست ہے۔اس خواب کے نہ پورا ہونے کی سب سے بڑی وجہ وہ جنگ زدہ ممالک ہیں ،جنھوں نے اپنے عزم و استقلال سے ان کے نتھنوں کو ریگستان کی چٹانی پہاڑیوں پر رکھ کر ایسے رگڑ دیا ہے کہ اب ان کے حالات ایک بے مہار وحشی اونٹ کی طرح ہوگئے ہیں کہ جو خود اپنے قابو میں نہیں ۔ شام ،عراق ،یمن و بحرین پرمسلط کی جانے والی دہشت گردی کی آگ نے اب خود ان نجدی ڈاکوؤں کو اپنے زد میں لے لیا ہے۔دہشت گردی کی یہ مصیبت اب ان کے گلے آن پڑی ہے۔اب انہیں اس سے فرار کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ایک بہت بڑے سیاسی ہتھکنڈے کا استعمال اسلامی ممالک کے آپس کے اتحاد کے نام پرایک عسکری طاقت کو اجتماعی شکل دینے کے لئے ضرور کی تھی لیکن اس میں بھی وہ ناکام رہے۔ لطف کی بات تو یہ ہے کہ اس عسکری اتحاد کی گھنٹی جنرل راحیل شریف کی گردن میں پہنائی گئی تھی،لیکن انھوں نے وقت ملتے ہی اپنے گردن سے اس گھنٹی کو اتار پھینگی ورنہ کسی اقدام کی صورت میں پاکستان مزید نئی دشواریوں سے میں گرفتار ہونے والا تھا۔
سعودیہ حکومت کے تمام الائنس اب اس بات کو دھیرے دھیرے سمجھ چکے ہیں کہ سعودیہ حکومت کا یہ جابرانہ اقدام قطعی اسلامی نہیں ہے۔ بلکہ یہ سارے کام امریکہ اور اسرئیل کی خوشنودی کے لئے انجام دئیے جارہے ہیں۔حال ہی میں امیر قطر نے ریاض حکومت سے اپنے تمام مراسم ختم کردئیے ہیں،یہاں تک کہ قطر میں موجود سعودیہ کے سفارت خانہ کو بھی وہاں کے عوام نے توڑ کر زمیں دوز کردیا ۔قطری عوام نے یہ عمل انجام دے کر سعودیہ حکومت کو یہ کھلا ہوا پیغام دیا ہے کہ سب کچھ ہوسکتا ہے لیکن ہم اب تمہارے جرائم میں شریک نہیں ہوسکتے۔حالانکہ قطر ایک ایسا ملک ہے جس نے شام ، عراق اور یمن میں لڑنے والی دہشت گرد تنظیموں کی سعودیہ حکومت کی سرپرستی میں کافی مالی امداد کی تھی، بالکل اسی طرح سے جیسے اخوان المسلمون جیسی آزادی عرب کی بڑی تحریک کو ختم کرنے کے لئے مصر کی کھل کر مالی امداد کی تھی۔
لیکن آج قطر کو اس بات کا احساس ہوگیا کہ سعودیہ حکومت کا ساتھ دینے کا مطلب اپنی حکومت پر فاتحہ پڑھنے کے مترادف ہے۔اس لئے قطر نے اپنا راستہ الگ کر لیا ،اور اس بات کا کھل کر اعلان کردیا کہ ہم ایران اور اس کے حلیف ملکوں کے ساتھ ہیں ۔اس کا انجام چاہے جو ہو،قطر کے اس اعلان کے بعد سعودیہ حکومت کے ایوان میں ایک ہچل مچ گئی اور ریاض حکومت نے فوری طور پر قطر کے سوشل بائیکاٹ کا اعلان کردیا ،یہاں تک اس اجتماعی بایئکاٹ میں سعودیہ سے برآمد کی جانے والی تمام اشیائے خوردنی پر بھی پابندی عائد کردی گئی ۔ریاض حکومت کے اس اقدام سے مسلمانوں کے ایک بڑے طبقہ میں تشویش کاماحول ضرور پیدا ہوگیاہے۔ لیکن اس کے برعکس جیسے ہی ریاض حکومت نے یہ فیصلہ کیا۔ ادھرایران نے غذائی قلت اور دیگر اشیائے خوردنی کے بحران سے دوچار قطر کے لئے اسلامی اور انسانی اخلاقی رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ملک سے اس قلت کے تدراک کے لئے اپنے بحری اور ہوائی راستوں کے ذریعہ قطری عوام کے لئے زندگی کی تمام ضرورتوں کو پوراکرنے والے ضروری سامان بھیجنے شروع کردیے۔ایران کے اس عمل سے ایک بار پھر سعودیہ عربیہ اور اس کے حلیف ممالک کو ایک بڑی شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔
ریاض حکومت کے اس اقدام پر دنیا کے بڑے مبصرین اور دانشوروں نے اپنی رائے کا کھل کر اظہار کیااور سعودی عرب کی اس غیر انسانی حرکت پر مذمت بھی کی۔یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے سابق جنرل سکریٹری کوفی عنان نے یہ بات صاف لفظوں میں کہی۔سعودیہ ڈالروں کی مدد سے خلیجی ممالک پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا چاہتا ہے، اس کی وجہ سے وہ عنقریب اکیلا ہوجائے گا،سعودیہ ایک چھوٹا ملک ہے لیکن اس کے خواب بہت بڑے ہیں وہ کبھی بھی مسلم ممالک پر حکمرانی نہیں کرسکتا ۔یہاں تک کہ ترکی کے صدر طیب رجب اردگان نے بھی اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر اس با ت کا اعتراف کیا کہ سعودیہ نے قطر محاصرہ کرکے انسانی حقوق اور اسلامی آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔اُسے ایسا قطعی نہیں کرنا چاہئے تھا۔
ایک اور عالمی تجزیہ نگار ابو الوفا ہندی نے یہ تحریر کیا ۔سعودی عرب و دیگر ملکوں کے اس اقدام کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ آل سعود آج کے منفاقین و ملحدین کے سرغنہ ہیں،اللہ انہیں کیفر کردار تک پہنچائے گا۔میں اس بات سے اتفاق رکھتا ہوں کہ ظالم چاہے جتنے حربے استعمال کر لئے اور چاہے جتنے پینترے بدلے لیکن اس کا انجام عبرت ناک ہی ہوتا ہے۔آج سعودیہ کی حالت اسی شعلے کی بسنتی کی طرح ہے جو اپنے یار (اسرائیل اور امریکہ ) کو بچانے کے لئے خود ان ڈاکووں کے سامنے رقص کررہی ہے جو خود ان کی عزت لوٹنے کے لئے آمادہ ہیں۔ اگر میری بات پر یقین نہ آئے تو اس دن کو یاد کریں جب امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ ریاض پہنچے تھے، تو ان کے استقبال میں نجد کی ایک کمر خمیدہ بڑھیا (شاہ سلمان) اپنے ہاتھوں میں تلوار لے کر رقص کررہی تھی تاکہ اس کے یار ان سے خوش ہوکر ان کی جان بخشی کریں۔شاید یہ بھول گئے کہ وہ جن ہاتھوں میں تلوار لے کر رقص کررہے تھے وہی تلوار اب ان کی شہ رگ پر رکھ دی گئی ہے جس کی سفاک دھار ایک ہلکی سے جنبش کے ساتھ ان کا کام خود تمام کرسکتی ہے اور اس عبرتناک انجام کا قصاص خود ان کی ہی گردن پر ہوگا۔لیکن کیا کیا جائے اب تو مجبوری ہے ،بستنی ان ڈاکوؤں کے جال میں پھنس چکی ہے اب اسے اپنے یار کی جان بچانے کے لئے ناچنا تو پڑے گا ہی۔

Views All Time
Views All Time
128
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: