پی ایس ایل، روشن آغاز یا اندھا کنواں؟ شاہد عباس کاظمی

Print Friendly, PDF & Email

سری لنکن کرکٹ ٹیم پر ہونے والے حملے سے لے کر آج تک پاکستان میں کھیلوں کے میدان جس طرح ویران ہوئے ہیں کوئی راہ نہیں سجھائی دے رہی کہ کھیلوں کے یہ میدان کیسے آباد ہو سکتے ہیں۔ زمبابوے کرکٹ ٹیم کا دورہ ، افغانستان کرکٹ ٹیم کا پاکستان آنا، چند ممالک کی جونیئر ٹیموں کے پاکستان آنے کی بازگشت اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان میں کھیلوں کے میدان آباد کیے جا سکے کیوں کہ بات صرف کھیلوں کی نہیں ہے بلکہ جس ملک کے کھیلوں کے میدان آباد ہوں اس ملک کا روشن چہرہ پوری دنیا میں پھیلتا ہے۔ اثرات ہمارے سامنے ہیں کہ ہم نہ صرف اولمپکس میں میڈلز کی دوڑ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں بلکہ ہماری نمائندگی بھی چند رکنی دستے تک محدود ہو گئی ہے۔ دوسرے ممالک کے کھلاڑی ہمارے ملک آنے سے گھبراتے ہیں اور ہمارے ملک کے کھلاڑیوں کے پاس اتنے ذرائع نہیں ہیں کہ وہ دوسرے ممالک جا کر تربیت حاصل کر سکیں۔ فیڈریشنز، کلب، اداروں میں کھیلوں کے شعبہ جات کا یہ حال ہے کہ سیاسی مداخلت عروج پر ہے۔ فٹبال ، ہاکی، ٹینس، والی بال، یعنی کوئی کھیل ایسا نہیں ہے جس میں اس وقت ہمارا طوطی بولتا ہو۔ اور ایک دور تھا جب پوری دنیا میں ہمارے کھلاڑیوں کا راج تھا۔
ان حالات میں پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن کا فائنل لاہور میں کروانے کا اعلان اپنی جگہ پر بہت اہم فیصلہ ہے کیوں کہ اس کی کامیابی پاکستان میں کھیلوں کے میدان آباد کرنے کی طرف نہایت اہم قدم ہو گا۔ انڈیا بھی خدشات کے باعث آئی پی ایل جنوبی افریقہ میں کروا چکا ہے لہذا متحدہ عرب امارات میں ایسا ہونا کوئی نرالا کام نہیں تھا۔ مگر اس کے فائنل کی لاہور آمد یقیناًایک بہت بڑا فیصلہ ہونے کے ساتھ ساتھ پوری قوم کا امتحان بھی ہے۔ اور انشاء اللہ ہم اس امتحان میں سرخرو ہوں گے۔ مگر اس ایونٹ نے کئی مزید خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔ عمران خان کا اس کے بارے میں متنازعہ بیان اس وقت پوری توجہ حاصل کیے ہوئے ہے مگر ہم میں سے کوئی بھی یہ سوچنے کو تیار نہیں کہ حالیہ دہشت گردی کی لہر کے تناظر میں اگر خدانخواستہ ایک پتھر بھی کھلاڑیوں کے ہوٹل یا گاڑی کی طرف کوئی شرپسند پھینکنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر پاکستان میں کھیلوں کے میدان کبھی آباد بھی ہو پائیں گے یا نہیں۔ اور جس طرح پورا شہر بند کر کے یہ ایونٹ کروایا جا رہا ہے اس سے دنیا میں پاکستان کا کیسا چہرہ جائے گا کہ ہم ایک میچ بھی پورا شہر بند کروائے بناء نہیں کروا سکتے ۔ اور ہم نے عالمی نمائندوں کو بھی مدعو کیا ہے ۔ آئی سی سی کے کرتا دھرتا بھی آئیں گے۔ تو کیا ہم ان کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ہم جب بھی کوئی میچ کروائیں گے اسی طرح ایک دن کے لیے پورا شہر بند کر دیں گے۔ معاشی و تجارتی سرگرمیاں روک دیں گے۔ یا پھر ہم کبھی اس قابل نہیں ہو سکتے کہ حالات اتنے بہتر کر پائیں کہ ہم آسانی سے یہاں کھیلوں کو منعقد کر سکتے ہیں۔ پی ایس ایل اس وقت ایک برانڈ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ٹورنامنٹ پاکستان کی پہچان بھی بنتا جا رہا ہے۔ لیکن اگر پورا ٹورنامنٹ متحدہ عرب امارات میں ہو گیا تو صر ف ایک میچ پاکستان میں منعقد کروانے کی ایسی کیا جلدی تھی جب حالات پاکستان میں ایک حالات "ردالفساد” کے نرغے میں ہیں۔ اور پورے ملک میں غیر اعلانیہ ہنگامی صورت حال ہے۔ پاکستان میں کھیلوں کے میدان آباد ہونے کی خوشی ہر پاکستانی کو ہو گی۔ مگر اس میں دکھائی جانے والی عجلت کہیں ہمیں مزید پیچھے نہ دھکیل دے۔
پی ایس ایل کا فائنل بہر حال اللہ کرے پاکستان میں کامیاب اور خیریت سے ہو جائے۔ کیوں کہ اس کی کامیابی پوری قوم کی کامیابی تصور کی جائے گی۔ اس فیصلے کی حمایت یا اختلاف اپنی جگہ مگر کم از کم اب پوری قوم کو نہ صرف اس کی کامیابی کی دعا کرنی چاہیے بلکہ جس انداز میں کوشش کی جا سکتی ہو کوشش بھی کی جانی چاہیے۔ کیوں کہ پی ایس ایل پوری دنیا میں پاکستان کی پہچان بن چکی ہے۔ اور اس کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے۔ اگر ہم چند غیر ملکی کھلاڑیوں کو بھی پاکستان لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یقیناًپھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جلد پاکستان میں دوبارہ سے عالمی کھلاڑی اپنے جوہر دکھانے آئیں گے۔ آئی سی سی کے اہلکار، عالمی نمائندے ، اور فیکا جیسے ادارے یقیناًپی ایس ایل کے فائنل کو ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں کہ ہم بطور قوم کیسے اس مشکل وقت میں اس کو کامیابی سے ہمکنار کرتے ہیں۔ ہم نے بطور قوم جتنی مشکلیں برداشت کی ہیں۔ جتنے سانحات سے ہم نکلے ہیں۔ اللہ نے چاہا تو ہم اس مرتبہ بھی ہمت نہیں ہاریں گے۔ صرف ضرورت اس امر کی ہے کہ جو جس مقام پہ ہے اپنا کردار خلوص نیت سے ادا کرئے ۔ کیوں کہ شاید یہ ہمارے پاس آخری موقع ہے کھیلوں کے اجڑے میدان آباد کرنے کا ، اگر اس کو ہم نے گنوا دیا تو پھر آنے والی نسلوں کے ہم قرض دار ہوں گے

Views All Time
Views All Time
371
Views Today
Views Today
1
mm

شاہد عباس کاظمی

شاہد عباس کاظمی نوجوان کالم نگار ہیں۔ مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر کالم لکھتے ہیں۔ 100 لفظی کہانیاں بھی ان کی پہچان ہیں۔ ان سے فیس بک اور ٹوئٹر پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: