Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ٹوٹتی امیدیں(۴)-سید شاہد عباس کاظمی

ٹوٹتی امیدیں(۴)-سید شاہد عباس کاظمی
Print Friendly, PDF & Email

حکومتِ وقت، اپوزیشن ، اور ادارے، ان سب کی ناکامی پہ سیر حاصل بحث کی جا چکی ہے۔ مگر حیران کن طور پر وفاق کی تمام اکائیاں بھی اپنا کردار ادا کرنے میں یکسر ناکام نظر آتی ہیں۔ صوبوں کا کردار پاکستان کی فلاح میں ایسا ہی ہے جیسے ایک نکھٹو بیٹا والدین کے لیے زحمت کا باعث بنا ہوا ہو۔ اٹھاہوریں ترمیم سے پہلے اور بعد کے حالات میں کسی بھی قسم کا کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔ جس صوبائی خود مختاری کا ڈھنڈورا صبح شام پیٹا جاتا ہے نہ جانے وہ کیسا ہما ہے کہ کس کے سر بیٹھ کے کیا گل کھلائے گا۔ کیوں کہ اس وقت بھی وفاق کی مداخلت صوبوں میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ اور صوبے کلی نہیں تو جزوی طور پر خود مختار ہی ہیں۔ مگر وہ اپنی خود مختاری کو یا تو جانتے نہیں یا جانتے بوجھتے نا اہلی سے تباہی پھیلا رہے ہیں۔
پنجاب پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے دوسرا بڑا اور آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے۔ دس کروڑ سے زائدآبادی والے اس اہم ترین صوبے میں طویل عرصے سے ایک ہی جماعت کے اقتدار کے باوجود اس صوبے میں سوائے مائیک گرانے، سڑکوں پہ گھسیٹنے کے وعدوں، سیاسی محاذ آرائیوں، گلو کریسی، جٹوانہ انداز، اور شیر کی دھاڑ جیسے کارناموں کے کوئی قابل ذکر کارنامہ سر انجام نہیں دیا جا سکا۔ تعلیم کی مفت کی فراہمی ایک وعدے سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ راقم کو کچھ دن پہلے ایک سرکاری سکول میں جانے کا اتفاق ہوا۔ جہاں پلاننگ کا یہ حال ہے کہ پہلے سے تعمیر شدہ عمارت کی بحالی کی طرف توجہ ہی نہیں دی گئی اور وہ کھنڈر میں تبدیل ہونا شروع ہو گئی۔ جب کہ اسی چار دیواری کے اندر ہی نئی عمارت بنا دی گئی ۔ شاید پرانی عمارت کو قابل غور اس لیے نہیں سمجھا گیا ہو گا کہ نئی تعمیر میں کوئی دل لگی کا عنصر شامل ہو گا۔ آپ اس تحریر کو بھول جائیں چند لمحوں کے لیے اور پنجاب کے کسی بھی ایک ضلع کی کسی بھی ایک مخصوص تحصیل کی مثال لیں، اس مخصوص تحصیل میں سے ایک ہسپتال، سکول، اور تھانہ سامنے رکھ لیں۔ آپ پہ ساری صورت حال واضح ہو جائے گی۔ آئینی ترامیم کے بعد اب صوبے جس نہج پہ ہیں ان میں تو یہ بھی قصہ مختصر ہوتا جا رہا ہے کہ وفاق ہاتھ نہیں دھرتا ۔ اور پنجاب جیسے زرعی صوبے کا حال یہ ہے کہ کسان ناکافی سہولیات کی وجہ سے خودکشیوں پہ مجبور ہیں۔ اور یارانِ نکتہ چیں تو پنجاب کو فلاحی کے بجائے پولیس اسٹیٹ کا نام دیتے نظرآتے ہیں۔ ماڈل ٹاؤن سانحہ ہو یا کوئی بھی عام ناکہ آپ بذات خود مشاہدہ کیجیے جس طرح راقم نے مشاہدہ کیا کہ پنجاب پولیس اس نہج پہ پہنچ چکی ہے کہ عوام ان سے دور بھاگتی ہے۔ اینٹی کرپشن کے جائزوں کے مطابق پنجاب پولیس کا ادارہ پنجاب کے تمام اداروں میں سے سب سے زیادہ کرپٹ ہے۔ صوبوں میں بڑا بھائی کہلانے والا اس حال میں ہے کہ بڑے بھائی جی فافن کے ایک جائزے کے مطابق کرپشن میں پہلے نمبر پر ہیں۔اور ایسا کیوں نہ ہو کہ پنجاب میں سیاسی مداخلت کی ایک پوری تاریخ ہے۔ سیاسی عدم استحکام بھی اس صوبے کا خاصہ ہے کہ کم و بیش بیس سال سے ایک ہی جماعت کی حکومت ہوتے ہوئے بھی یہ صوبہ اس وقت تک ایک مثالی صوبہ نہیں بن سکا۔ سب سے بڑا نہری نظام اس صوبے کے پاس ہوتے ہوئے اس کی حالت ناگفتہ بہ ہے ۔صرف پنجاب میں ہی ینگ ڈاکٹرز ایک مافیا سا بنتے جا رہے ہیں ۔ ڈسکہ میں وکلاء کی ہلاکت ہو یا یوحنا آباد فسادات، جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو نظر انداز کرنا ہو یا 16 گھنٹے سے زائد کی لوڈ شیڈنگ، ہر لحاظ سے حکومت عوام کو ریلیف دینے میں یکسر ناکام ہے۔ مالی اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا حال یہ ہے کہ اساتذہ، ڈاکٹر، پنشنرز، کسان سڑکوں پہ براجمان ہیں کہ ان کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا۔ چند ہفتے پہلے ایک نجی ٹی وی کے مطابق تین اضلاع کے چھ سو گیارہ ملازمین ڈبل اکاؤنٹ پر ڈبل تنخواہیں وصول کرتے رہے۔
جرائم کی شرح میں دن بدن اضافہ، عصمتیں غیر محفوظ، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، جنوبی پنجاب کی محرومیاں، ملازمین کے لیے نامساعد حالات، کارسرکار میں سیاسی مداخلت، سیاسی بنیادوں پہ عہدوں کی بندر بانٹ پاکستان کے معاشی و آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے کا خاصہ ہیں مگر پھر بھی سب اچھا کی نوید سنائی جاتی ہے کیوں کہ اقتدار ایک ہی در کی باندی دو دہائیوں سے بنا ہوا ہے۔ وہ بھی بلا شرکتِ غیرے کہ درمیان میں جو چند روز اقتدار گیا وہ بھی اپنے اعتبار کے اشخاص تک گیا۔ جمہوریت کا دور دورا ہے مگر صوبوں کے بڑے بھائی میں عوام کی جو امیدیں اپنے نمائندوں سے تھیں وہ نہ صرف ٹوٹ چکی ہیں بلکہ مایوسی بھی اپنے اندھیرے پھیلا رہی ہے۔
یہ "زبانِ اہلِ زمیں”ہے۔
قارئین اپنی تجاویز اور آراء کے لئے صاحب تحریر سے اس ای میل ایڈریس پررابطہ کر سکتے ہیں۔
ssakmashadi@gmail.com

Views All Time
Views All Time
248
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: