ٹوٹتی امیدیں(۳) – شاہد عباس کاظمی

Print Friendly, PDF & Email

حکومت سے وابستہ امیدیں تو نہ جانے کب سے ٹوٹ چکی ہیں۔ اور حکومتِ وقت کو اس کی پرواہ ہو بھی کیوں کر سکتی ہے کہ ان کی ترجیحات ہی کچھ مختلف ہیں۔ ان کے نزدیک تو عوام کی بنیادی ضروریات سے زیادہ اہم کام اینٹ ، گارے، سیمنٹ کی بلندو بالاتعمیرات کرنا ہیں۔ اپوزیشن سے عوام نے جو امیدیں وابستہ کر لی تھیں کہ وہ حکومتِ وقت کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے نہ صرف ان کی اصلاح کریں گے بلکہ عوام کے بنیادی حقوق کی پامالی پہ بھی واویلا ضرور کریں گے سراب ہی ثابت ہوئی ہیں۔ اپوزیشن کا حال اس احتجاج سے بھی گیا گزرا ہے جو خواجہ سراؤں نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ ہونے والے ظلم پہ کیا ہے۔ مزید کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ قدغن کا خدشہ تحریروں پہ ایسے منڈلاتا رہتا ہے کہ کب جانے کیسا سدیس آ ملے۔
حکومت اور اپوزیشن تو بناء کسی شک میوزیکل چیئر کے ایسے کھیل میں مصروف ہیں جس میں عوام صرف اور صرف خسارے میں ہیں۔ یہ کھیل صرف ایسے اشرافیہ کے لیے فائدہ مند بنا ہوا ہے جو اشرافیہ بھی صرف ایسے ہیں جن کو صرف ضرب المثل میں ہی اشرافیہ گردانا جا سکتا ہے ۔ مگر سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ اداروں، شعبوں، خدمات کی فراہمی کے مراکز سے قائم کی گئی امیدیں بھی موجودہ حالات میں ٹوٹتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ پاکستان میں اس وقت کوئی ایک ادارہ بھی ایسا نہیں بچا(ماسوائے خاکی والوں کے) جو عوام کی امیدوں کا ترجمان بن کے ابھرا ہو۔ زیرِ قیدِ حاشیہ ادارے سے بھی اب تو عوام کو کچھ نہ کچھ شکایات پیدا ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ انصاف کی فراہمی ہو، یا قانون کی بالادستی، بنیادی حقوق کی فراہمی کے ادارے ہوں، یا خدمات عامہ کے ادارے ہر جانب سے عوام کی امیدیں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہو رہی ہیں۔ انصاف کا عالم یہ ہے کہ عدلیہ میں مقدمات کی بھرمار ہے ، سائلین سالہا سال سے مقدمات کی پیروی میں اپنی کئی نسلیں گنوا بیٹھتے ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ کا حال یہ ہوگیا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں نے اس ادارے کو ایک تفتیشی ادارہ سمجھ لیا ہے اور ایسے کیسز کی بھرمار ہے جن کا نہ سر ہے نہ پیر، اور جو تفتیشی ادارے ہیں جیسے نیب، ایف آئی ائے وغیرہ تو ان کی تحقیقات کا بھی اللہ ہی حافظ کہ ہر ادارے کا باوا آدم نرالا ہے۔ پولیس کا نظام دیکھیں تو ایسا ہے کہ تنخواہیں دو گنا ہونے کے باوجود نذرانہ ایسے لیا جاتا ہے جیسے یہ فرائض میں شامل ہو۔ عوام جن کی تنخواہیں اپنے ٹیکس سے ادا کرتے ہیں کہ وہ ان کو تحفظ دیں گے وہ پروٹوکول کے فرائض میں عوام کو اچھوت سے زیادہ کا درجہ نہیں دیتے۔ "اوئے” کا کلچر پولیس کا ٹریڈ مارک بن چکا ہے۔ اپنی شکایات کے بجائے عوام بے چارے اس ادارے کی دیواروں سے بھی دور بھاگتے ہیں کہ خوف کی علامت بنا دیا گیا ہے اس ادارے کو۔ خدمات عامہ کے جتنے ادارے ہیں ان میں سب کام ہو رہے ہیں سوائے خدمات عامہ کے۔سفری سہولیات کا حال یہ ہے کہ ہر منصوبہ سیاسی مفادات کی تکمیل تو ہے مگر عوام کی فلاح سے کوسوں دور۔ صحت کا عالم یہ ہے کہ عوام کو ہسپتالوں سے صحت کے بجائے مزید بیماریاں تحفے میں ملتی ہیں۔ خزانہ کا حال یہ ہے کہ بوڑھے پنشنرز خودکشیوں پہ مائل ہیں۔ زراعت کا شعبہ دیکھیں تو کسان واویلا کرتے نظر آتے ہیں۔ صنعتی شعبے کا جائزہ لیں تو پہلے بیان کیے گئے اشرافیہ کی صنعتیں پھل پھول رہی ہیں مگر چھوٹی اور گھریلو صنعتوں کا کباڑا ہو گیا ہے۔ پراپرٹی پہ حالیہ ٹیکس نے اس کاروبار کو بھی ٹھکانے لگا دیا ہے۔ بین الصوبائی رابطے کے ادارے باقی سب کام بخوبی کر رہے ہیں سوائے صوبوں کے درمیان ہم آہنگی برقرار رکھنے کے، بلکہ کچھ بعید نہیں کہ مستقبل میں بین الصوبائی جھگڑوں کی وزارت یا ادارہ بھی قائم کر دیا جائے۔ تعلیم کی صورت حال یہ ہے کہ طبقاتی تقسیم کو ایسے واضح کر دیا گیا ہے کہ ایک طبقہ اونچی عمارات، کھلے میدانوں اور دوسرے طبقے کی پہچان ٹوٹے سکول بن چکے ہیں۔ ایک میڈیم کے طالبعلم تعلیم حاصل کرتے ہی دروازے پہ پڑی اعلیٰ ملازمت حاصل کررہے ہیں اور دوسرے میڈیم کے طالبعلم ہونہار ہونے کے باوجود دوسرے درجے کی ملازمتوں پہ مجبور ہیں۔
داخلہ، خارجہ ، دفاع، پٹرولیم، صنعت ، حرفت، طب ، تعلیم، قانون ، انصاف، شعور، آگاہی، سماجیات ، جبر، ریونیو، لینڈ، پٹوار، خواتین کے مسائل، امپورٹ ، ایکسپورٹ، بین المذاہب ہم آہنگی، اقلیتوں کے حقوق،معاشرت، بہبود، فلاح، مساوات، ایوان، تفتیش ، تحقیقات، سمندری تجارت، دہشت گردی، ہوا بازی، رجسٹریشن، خوراک، پانی و بجلی، ریلوے، شاہرات، جنگلات،ٹیکس، ادب، فنون لطیفہ ، ثقافت، زبان، اطفال ، مذہب، گروہی مساوات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، قدیمیت، جدیدیت، وغیرہ سے متعلق پاکستان میں اس وقت جتنے بھی ادارے ، وزارتیں، ڈویژن، مکمل شعبہ جات، ذیلی شعبے کام کر رہے ہیں یا قائم ہیں ان میں سے کوئی ایک ادارہ بھی ایسا بتا دیں جو آج کے دن پاکستان میں اپنا فرض مکمل ادا کر رہا ہو۔ کوئی ایک شعبہ یا ادارہ ایسا بتا دیں جو پاکستان کے عوام کی امنگوں پہ پورا اترتے ہوئے ان کی امیدوں کا محور بن پایا ہو؟
یہ”زُبانِ اہلِ زمیں”ہے
قارئین اپنی تجاویز اور آراء کے لئے صاحب تحریر سے اس ای میل ایڈریس پر رابطہ کر سکتے ہیں
ssakmashadi@gmail.com

Views All Time
Views All Time
309
Views Today
Views Today
1
mm

شاہد عباس کاظمی

شاہد عباس کاظمی نوجوان کالم نگار ہیں۔ مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر کالم لکھتے ہیں۔ 100 لفظی کہانیاں بھی ان کی پہچان ہیں۔ ان سے فیس بک اور ٹوئٹر پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: