ٹوٹتی امیدیں(۲)-شاہد عباس کاظمی

Print Friendly, PDF & Email

ٹوٹتی امیدیں کے پہلے حصے میں نشتر حکومت وقت کی طرف تھے۔ اور یہ حقیقت بھی ہے۔ مگر جائزہ حکومت مخالف فریقین کا لیا جائے تو وہاں بھی وابستہ امیدیں دن بدن ٹوٹتی جا رہی ہیں۔ اپوزیشن کی بڑی پارٹی تو شاید میثاق جمہوریت کی توقیر میں اس قدر آگے نکل چکی ہے کہ وہ اپنے تئیں ارادہ بنا چکی ہے کہ جناب ہم اپنی باری سے پہلے کچھ نہیں بولیں گے۔ کسی کو اعتراض نہیں کہ جمہوریت پہ قدغن لگے ۔ مگر کم از کم حقیقی اپوزیشن کا کردار تو یہ ہونا چاہیے کہ اگر حکومت کچھ غلط کر رہی ہے تو اس کی نشاندہی تو کی جائے۔ اس کی مخالفت تو کی جائے کہ جناب یہ بادشاہت کے طور طریقے جمہوریت میں تو نہ آزمائیں۔ مگر ایک فقرہ اپنا لیا گیا ہے کہ ہم تو جمہوریت کے ساتھ ہیں اور ذمہ داری پوری ۔ لیکن تف ہے کہ اس نعرے میں عوام کے بنیادی حقوق کی تلفی پہ بھی توجہ دینا جرم سمجھ لیا گیا ہے اور ایسی خاموشی طاری ہے کہ لگتا ہے سب اس حمام میں ننگے ہیں۔
پنشنرز الگ رونا رو رہے ہیں، کسان الگ واویلا مچا رہے ہیں، تنخواہ دار طبقہ اپنا افسردہ راگ الاپ رہا ہے، کاروباری حضرات اپنی جگہ پریشان ہیں، پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ افراد ٹیکسوں کی بھرمار سے احتجاج کرنے پہ مجبور ہیں۔ مگر حیرت ہے ایسی اپوزیشن پہ جس نے اپنا کردار اتنا محدود کر لیا ہے کہ بس احتجاجیوں کے ساتھ ایک تصویر بنا لی جائے اور ایک میڈیا کے لیے بیان داغ دیا جائے جو بریکنگ نیوز کے طور پہ چل جائے،اور دوسرے دن کی اخبارات میں نمایاں جگہ پہ شائع ہو جائے۔ جو اکثر اس طرح کا ہوتا ہے ہم ظلم نہیں ہونے دیں گے، ہم غریبوں کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم حکومت نہیں چلنے دیں گے، ایسے حکومت نہیں چل سکتی، کرپشن کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں ہے یہ تو وہ بیانات ہیں جو وہ صرف وہ اپوزیشن میں آ کر ہی دیتے ہیں۔ کیوں کہ حکومت میں توآکر سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہو جاتے ہیں ۔ ایک پارٹی اپنے شہیدوں کا رونا رو رو کر اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ ایک صوبے میں سالہا سال سے اپنی حکومت ہوتے ہوئے بھی وہاں کوئی کارہائے نمایاں سر انجام نہیں دے سکی۔ اور دوسری بڑی اپوزیشن پارٹی کی حالت ہے کہ جنگ زدہ صوبے کی حکومت پانے کے باوجود دھرنا دھرنا کھیلنے میں مصروف ہے۔ اور مکمل طور پہ ذاتیات کے گرد گھوم رہی ہے۔ راہنماؤں کا یہ حال ہے کہ تمام راہنما پارٹی چیئرمین کی خوشنودی کے علاوہ کوئی قابل ذکر کام نہیں کر رہے۔ حکومت کی اصلاح تو درکنار وہ بیچارے اپنی اصلاح تک نہیں کر پا رہے۔
پاکستان میں اپوزیشن کا کردار سیاست میں صرف اور صرف بیانات کی حدتک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔اپوزیشن کے ذہنوں میں صرف اور صرف یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ ان کا عوام سے رابطہ صرف اور صرف حکومت پانے کے بعد ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ ان عقل کے اندھوں کو کوئی صرف یہ بتا دئے کہ بھئی اگر اس دفعہ حکومت نہیں ملی تو موجودہ حکومت کی ٹانگیں کھینچنے سے تو کئی گنا بہتر یہ عمل ہے کہ اپنا رابطہ عوام سے استوار کر لو اور عوام کو احساس دلاؤ کہ آپ کا ووٹ آئندہ صرف ہمارا ہے۔ ہم اس کے اصل حقدار ہیں۔ لیکن عوام بے چاری اپوزیشن سے بھی کیا امیدیں وابستہ کرے کہ وہ اپنے اقتدار کی خواہش کے لیے غریبوں کو آنسو گیس کے شیل کے آگے تو پھینک سکتے ہیں۔ مگر راہنما خود سامنے نہیں آسکتے۔ پاکستانی اپوزیشن خواہ کوئی بھی پارٹی ہو وہ دعویٰ تو کرتے ہیں کہ حکومت ٹھیک کام نہیں کر رہی ۔ لیکن وہ حکومت کی غلطیوں کو سدھارنے، ان کی اصلاح کرنے، عوام میں شعور بیدار کرنے، حکومتی کوتاہیوں کی پکڑ کرنے کے بجائے سارا زور اس پہ صرف کر دیتے ہیں کہ کب یہ حکومت بوریا بستر سمیٹے اور ان کو حکومت کے ایوان تک رسائی مل جائے۔
پاکستان میں عوام جو امیدیں اپوزیشن سے وابستہ کیے ہوئے تھی۔ وہ بھی رفتہ رفتہ کرچی کرچی ہو رہی ہیں۔ کیوں کہ اپوزیشن اپنے حقیقی آئینی کردار کے بجائے عارضی و غیر آئینی کردار کی طرف زیادہ مائل ہوتی جا رہی ہے۔ اور ان کے نزدیک اپوزیشن کا کام حکومت کی کارکردگی پہ نظر رکھ کر کوتاہیوں کو درست کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے اقتدار دوبارہ حاصل کرنا ہی رہ گیا ہے۔ عوام کی امیدیں جہاں حکومت کے کرتا دھرتاؤں سے ٹوٹ رہی ہیں۔ وہیں پہ اپوزیشن بھی عوام کی امیدوں پہ پورا نہیں اتر پا رہی ۔
یہ”زُبانِ اہلِ زمیں”ہے۔
قارئین اپنی تجاویز اور آراء کے لئے صاحب تحریر سے اس ای میل ایڈریس پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
سید شاہد عباس، راولپنڈی
ssakmashadi@gmail.com

Views All Time
Views All Time
338
Views Today
Views Today
1
mm

شاہد عباس کاظمی

شاہد عباس کاظمی نوجوان کالم نگار ہیں۔ مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر کالم لکھتے ہیں۔ 100 لفظی کہانیاں بھی ان کی پہچان ہیں۔ ان سے فیس بک اور ٹوئٹر پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: