Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ کیسے ہو.. | شاہانہ جاوید

by مئی 19, 2017 کالم
پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ کیسے ہو.. | شاہانہ جاوید

دہشت گردی کی جڑیں پاکستان مین اتنی گہری ہیں جتنی ہمارے لڑکپن کی یادیں، پہلے بھی پاکستان میں بہت سے واقعات ہوئے جن میں لیاقت علی خان کا قتل سر فہرست ہے، لیکن جس طرح کی دہشت گردی اس مخصوص دور میں ہوئی اس کی نظیر نہیں ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کے جس حکمران نے ملک پہ قبضہ کیا وہ تلخ یادیں اب تک دماغ میں بیٹھی ہوئی ہیں، اسلام کا نام لیکر افغان مہاجرین کو پناہ دیناہی سب سے بڑی غلطی، تحفے میں کلاشنکوف اور ہیروئین ملی اس سے پہلے فلموں کی ہیروئین کو ہی جانتے تھے، بڑھتے بڑھتے دہشت گردی کا عفریت ایک کالی آندھی کی طرح پاکستان کے آسمان پہ چھاگیا. دہشت گرد کہیں بھی، کسی بھی وقت ایسا حملہ کرتے ہیں جو سمجھ سے بالاتر ہے، تھوڑے دن دہشت گردی کی مذمت ہوتی ہے، بیان بازی ہوتی ہے ” دہشت گردوں کی کمرتوڑ دی ” لیکن پھر دوبارہ یہ کمر ٹوٹی دہشت گرد حملہ آور ہو کر اپنے ہونے کا پتہ دیتے ہیں. دہشت گردوں کی ڈھٹائی دیکھیے دہشت ناک کاروآئی کرنے کے بعد ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں.
پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اس ملک کی عدلیہ، پارلیمنٹ، اور فوج تینوں کو ایک نقطے پہ متفق ہوکر کام کرنا ہوگا. اپنے اندر سے دہشت گردوں کے ہمدردوں کو نکال پھینکیں اور ملک کے مفاد میں کام کریں. دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہمیں تعلیم، غربت کے خاتمے اور سزا دینے پر عمل درآمد پر کام کرنا ہوگا.
تعلیم ایک ایسا ہتھیار ہے جو دہشت گردی کے خاتمے میں اہم ہے. تعلیم کے شعبے میں کام ہی نہیں ہورہا نہ ہی کسی طرح کی کوشش کی جارہی ہے. حکومت اپنی پہلی ترجیح تعلیم کو دے تاکہ علم کی روشنی پھیلے ایک پڑھا لکھا انسان ہی غلط اور صحیح میں فرق کرسکتا ہے. یہ ملک پاکستان جیسا قائد اعظم نے بناکر دیا تھا پر امن ویسا ہی ہونا چاہیئے کیونکہ یہ سب کا پاکستان ہے کہیں باہر سے لائے گئے فارمولے سے یہ ملک نہیں چل سکتا. تعلیم کا فروغ ہی دہشت گردوں کو اس ملک سے نکال پھینکے گا. تعلیم عام ہوگی تو ہی اس ملک کے ہر شہری کو اپنے حقوق اور فرائض معلوم ہونگے، تعلیم کو نچلی سطح پر پھیلایا جائے وہ تعلیم نہیں جو خود کش بمبار تیار کر رہی ہے بلکہ وہ تعلیم جو شعور کو بیدار کرے، جو اچھے برے میں تمیز سکھائے، وہ تعلیم جو فرقوں نہ بانٹے وہ تعلیم جو ظالم کو ظالم کہنا اور مظلوم کی داد رسی سکھائے، وہ تعلیم جو مذہب اسلام کی تعلیمات کو پھیلائے جیسے میرے نبیؐ پاک صل اللہ علیہ وسلم نے پھیلائی وہ تعلیم جس میں پیارے نبیۖ علم کا شہراور مولا علی علیہ السلام اس کا دروازہ ہیں. تعلیم ہی عقل کے بند دروازے کھولے گی کہ کون دشمن ہے اور کون دوست، علم اور شعور ہی اس بات میں فرق کرنا سکھائیں گے کہ کون غلط ہے کون صحیح.
دہشت گردی کی روک تھام میں رکاوٹ کی دوسری بڑی وجہ غربت ہے، ملک سے غربت دور ہوگی تو کوئی وجہ نہیں کہ لوگ اپنے بچوں کو مدرسوں کے حوالے کریں. غربت کے خاتمے کے لیے حکومت کو اقدامات کرنے چاہئیے تاکہ امیر، امیر تر اور غریب غریب تر نہ ہو، غربت ہی بڑے بڑے جرائم کراتی ہے، امیر شوقیہ جرم کرتا ہے جبکہ غریب مجبور ہوکر جرم کرتا ہے، غریب دہشت گردوں کے ہاتھوں کھلونا بن کے خود کش بمبار بھی بن جاتا ہے کہ وہ تو پھٹ کر جنت میں چلا جائے گا لیکن اس کے گھر والوں کو معقول معاوضہ اور پیسہ ملے گا جس سے وہ لوگ اچھی زندگی گزاریں گے، اگر یہی لوگ خوشحال ہونگے تو کبھی یہ خیال نہیں آئے گا کہ ہم ایک بڑی تعداد کو مار کر جنت میں چلے جائیں گے انھیں معلوم ہوگا کہ جنت اپنے اچھے اعمال کی وجہ سے ملے گی.
اس وقت جہالت اور غربت دونوں دہشت گردی کو پھیلانے میں معاون ہیں. بیروزگاری ختم کرکے نوجوانوں کو روزگار مہیا کریں تاکہ نوجوان ایک کارآمد شہری بنیں. جب تعلیم عام ہو گی تو بے روز گاری کی شرح کم ہوگی، اور دہشت گرد ی کی شرح بھی کم ہو گی. تیسرا اہم قدم حکومت، عدالتوں اور فوج کو اٹھانا ہوگا کہ جو دہشت گرد پکڑے جائیں انھیں نشان عبرت بنادیں اور چوک میں پھانسی پہ لٹکائیں تاکہ دہشت گردوں کے درد ناک انجام سے خوف زدہ ہو کر دہشت گرد دہشت گردی چھوڑ دیں یا پھر ہمارے ملک سے بھاگ جائیں. دہشت گردوں کو اسطرح سزا دی جائے کہ لگے کہ انصاف ہورہا ہے، دہشت گردوں کو دہشت گردی سے تائب ہونے کے باوجود سزا ضرور دی جائے کیونکہ پاکستان کے شہریوں، نوجوانوں، خواتین اور خاص طور پر بچوں کی زندگیاں اتنی بے مایہ تو نہیں کہ ان کی شہادت کو بھلا دیا جائے، مسجدوں، امام بارگاہوں، اسکولوں میں بم دھماکے اور دہشت گردی کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ آئیندہ کوئی اس طرح کی دہشت گردی کا سوچے بھی نہیں سزا دینے کے عمل کو تیز کیا جائے اس پر عمل نہ ہوا تو آپ ضرب عضب، یا رد الفساد جیسے کتنے ہی آپریشن کرلیں کچھ نہیں ہو گا اور بات ختم القوم تک آجائے گی ۔کاش ہمارے وطن کی فضا پہلے جیسی ہو جائے اور ہماری روایات اور ثقافت دوبارہ زندہ ہو جائیں آمین.

mm
فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔
Views All Time
Views All Time
327
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

One commentcomments

  1. بہت عمدہ اور اہم مسئلہ پر قلم اٹھانے کے لیے شکریہ ۔۔۔۔

جواب دیجئے

%d bloggers like this: