Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

خودی اور سیلفی-شاہا نہ جاوید

خودی اور سیلفی-شاہا نہ جاوید
Print Friendly, PDF & Email

شاعر مشرق علامہ اقبال نے قوم کے نو جوانوں کو خودی کا فلسفہ دیا کہ
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود ہوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
ایسا اعلیٰ وارفع فلسفہء خودی کہ آپ اپنے کو اتنا قابل اور اہم بنالو کہ اللہ تعالٰی بھی خود تمھاری رضا پوچھے، کہ بندے تجھے کیا چاہیے. خودی میں چھپا خدا کی یکتائی اور بندے کی اپنی کوشش کے پیغام کو عام کیا، اقبال کا نوجوان وہ شاہین ہے جو چٹانوں پہ بسیرا کرتا ہے اور گنگناتا ہے
خودی کا سر نہاں لا الہ اللہ
خودی ہے تیغ فساں لاالہ اللہ
یہ پیغام آفاقی پیغام ہے اس کو پھیلانا اور خودی کی اہمیت کو سمجھنا ہمارا فرض ہے لیکن یہ کیا ہم خودی کے خول سے نکل کر بے خودی کے دور میں داخل ہو گئے.
دو دہائ قبل سیل فون نے ہماری زندگیوں میں قدم رکھا اور اور اسکے بعد ہم نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا. جاپان اور چائینا کے کرم سے سیل فون نے ایک چھوٹے سے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کی شکل اختیار کرلی اب سارے کام اس چھ انچ کے سیل فون پر ہونے لگے. اس میں کیمرہ اور مووی کیمرہ بھی موجود تھا جس کی وجہ سے ایک طرف رول والے کیمرے ترک ہوئےاور فوٹوگرا فی کے شعبے میں تنزلی آئ. اب ہر ایک کے ہاتھ میں سیل فون ہے اور وہ جب چاہے، جہاں چاہے، جس لمحے کی چاہے تصویر کھینچ سکتا ہے اور مووی بنا سکتا ہے. ان سیل فون کیمروں کی بدولت ہی اپنی تصویر یعنی” سیلفی” بنانے کا جنون ہو گیا. کسی تقریب میں دیکھیں ہر ایک اپنے اپنے زاویے سے اپنی سیلفی بنارہا ہوتا ہے.
علامہ اقبال نے خودی کا فلسفہ نوجوانوں کے لیے پیش کیا تھا ا س کا جتنا اور جو اثر ہونا تھا وہ ہم دیکھ چکے ہیں لیکن یہ سیلفی کا فلسفہ نہ جانے کس نے پیش کیا کہ آج ہر نوجوان سیلفی کے جنون میں مبتلا ہے. تقریب کی نوعیت کچھ بھی ہو انھیں سیلفی بنانے سے مطلب ہے. سیلفی میں چونکہ چہرہ کچھ موٹا اور چوڑا نظر آتا ہے تو اس کا حل پاؤٹ بنا کر نکال لیا گیا ، جس کو دیکھو ہونٹوں کو گول کر کے سیلفی بنارہا ہے. لڑکیوں نے تو اس میں بہت مہارت حاصل کرلی ہے ایسی ایسی تصویریں سوشل میڈیا پہ اپ لوڈ کرتی ہیں کہ اگر آج سے دس بارہ سال پیچھے ایسی تصاویر بڑے دیکھتے تو سرزش ضرور ہو تی. ہمارے چینلز نے اس کو اور بڑھاوا دیا کوئ خاص تہوار ہو تو ہر چینل پہ سیلفی مقابلہ شروع ہو جاتا ہے چاہے یوم آزادی ہو، عیدالفطرہو، یا پھر عید قرباں بکروں کے ساتھ گائے، اونٹ اور بیل کے ساتھ سیلفی، بےچارے جانور بھی حیران کہ پہلے زمانے میں تو سنا ہے کہ ہمیں نہلایا جاتا تھا، تیار کیا جاتا تھا، چارہ کھلایا جاتا تھا اب تو جس کو دیکھو منہ پکڑ پکڑ کر سیلفی بنوا رہا ہے.
سیلفی کا جنون اس قدر بڑھا کہ لوگ خطرات مول لینے سے بھی نہیں چوکتے پتلی دیواروں، اونچی بلڈنگوں، سمندر کی لہروں ہر جگہ سیلفی بنا رہے ہیں چاہے جان کو خطرہ ہو چونکہ یہ انفرادی فعل ہے اس لیے اس کو کسی ضابطے یا قانون میں بھی نہیں لایا جا سکتا . لوگ بے لگام گھوڑے کی طرح سرپٹ دوڑے جارہے ہیں اس سیلفی کی دو ڑ میں.
کچھ عرصہ پہلے خبر آئ تھی کہ ایک بچہ مکان کی چھت پر بنی ٹنکی پہ چڑھ کر سیلفی بنا رہا تھا پیر پھسلا اور وہ اس طرح گرا کہ جانبر نہ ہو سکا اور اس کے گھر والے زندہ در گور ہو گئے. سیہون شریف کے دھماکے کو ابھی ہم بھولے نہیں لاشوں کے انبار، دھوئیں اور ہجوم کے ساتھ ایک ظالم نے سیلفی بنا کر میڈیا پراپ لوڈ کی جسے دیکھ کر دھماکہ کرنے والوں کی سفاکی کے ساتھ ساتھ ایسے بے ضمیروں کے لیے بھی غصے کی آگ بھڑک اٹھی بے حسی کی انتہا. سکھر بیراج پہ کھڑے ہوکر سیلفی بنانے والا نو جوان دریا میں گر گیا وہ تو اس کی جان بچا لی گئ لیکن مرنے میں کوئی کسر نہ رہی تھی. ریل کی پٹری پہ پیچھے سے آتی ریل گاڑی کے ساتھ سیلفی بناتے ہوئے کئی نوجوان ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اس میں سراسر ان کے گھر والوں ماں باپ کو تکلیف ہوتی ہے کسی کا کچھ نہیں جاتا.
آرٹیکل خاتمے پر تھا کہ اخبار پڑھتے پڑھتے اس خبر پر نظر پڑی”آئی جی کے ساتھ سیلفی لینا پولیس اہلکار کو مہنگا پڑگیا” اہلکار کو مبینہ طور پر سات روز کے لیے کوارٹرگارڈ کردیا گیا چلو کہیں تو اس پہ سزا دی گئی اور اب کوئ اہلکار ایسا نہیں کرے گا. آپ سب کو یاد یوگا کہ ایک مشہور زمانہ ماڈل کی عدالت حاضری پہ کتنی سیلفیاں بنتیں تھیں. یہ سیلفی کلچر بہت تیزی سے پھیل گیا ہے اور بنا سوچے سمجھے لوگ سیلف رسپیکٹ چھوڑ کر سیلفی کے عادی ہو رہے ہیں. آج کے نوجوان کو یہ بے کار مشغلہ چھوڑ کر کام کے مشغلے اپنانا چاہییں تالہ ان کے دماغ کی نشو و نما ہو اور وہ بھی ایک قابل انسان بن سکیں اور اپنی خودی کو پہچان کر اقبال کے شاہین بنیں.

Views All Time
Views All Time
385
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   سوشل میڈیا اور وقت گزاری کا فن | فرح رضوی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: