Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اور ہجرت ہم سے لپٹ گئی | شاہانہ جاوید

اور ہجرت ہم سے لپٹ گئی | شاہانہ جاوید
Print Friendly, PDF & Email

آج تین مئی کو محترمہ فرزانہ ناز کے شعری مجموعہ "ہجرت مجھ سے لپٹ گئی ہے” کی تقریب رونمائی اسلام آباد میں منعقد ہونی تھی مگر زندگی نے انہیں مہلت نہ دی اور 24 اپریل 2017 کو قومی کتب میلے کے دوران ایک ناگہانی حادثے کا شکار ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین— قلم کار

پچھلے دنوں ہماری ادبی دنیا میں ایک ایسا سانحہ وقوع پذیرہوا جس سےساری ادبی برادری غم اور تکلیف میں مبتلا ہوگئی. حالانکہ بظاہر یہ ایک حادثہ تھا لیکن اس کے پیش آنے میں بہت سے عوامل کار فرما تھے.بہت افسوسناک حادثہ تھا میں ان سے ملی تو نہیں لیکن ان کی تصویر دیکھی تو بے ساختہ کہہ اٹھی ظالم موت.
عالمی کتب میلہ ہر سال اسلام آباد میں،22 تا 24 اپریل منعقد کیا جاتا ہے کیونکہ 233 اپریل شیکسپیئر کی سالگرہ کا دن ہے اور دنیا بھر میں کتاب کا دن منایا جاتا ہے. کتب میلہ پچھلے آٹھ سال سے باقاعد گی سے منایا جارہا ہے. اس سلسلے میں سیمینارز، تقاریر، ادبی کتابوں کی رونمائی، مشاعرہ اور کتابوں کے اسٹالز لگائے جاتے ہیں. کتب میلے کا آغاز 22 اپریل کو ہوا ، پورے پاکستان سے سفیران کتب نے اس میں شرکت کی، صدر پاکستان ممنون حسین نے اس کا افتتاح کیا، سکیورٹی کا اتنا سخت انتظام تھا کہ ہال میں سیل فون اور بیگز بھی نہیں لے جانے دئیے گئے، ایک بڑی ایمبولینس اس وقت تک موجود رہی جب تک صدر صاحب تقریب میں موجود تھے. تینوں دن بہترین پروگرامز ہوئے لیکن 24 اپریل کے اختتامی اجلاس میں جس میں وفاقی وزیر احسن اقبال کے علاوہ عطاالحق قاسمی، عرفان صدیقی،
انعام الحق جاویداور قاسم بوگھیو صاحب موجود تھے فرزانہ اپنی کتاب وزیر صاحب کو پیش کرنے اسٹیج پہ گیئں لیکن رش کی وجہ سے ان کا پیر پھسلا چونکہ کوئی ریلنگ یا باڑھ نہ ہونے کی وجہ سے بارہ فٹ اونچے اسٹیج سے نیچے کھائی میں گریں ان کے سر اور ریڑھ کی ہڈی میں شدید چوٹیں آئیں ، وہاں حادثے سے نبٹنے کے لیے کوئی سہولت اور ایمبولینس نہیں تھی انھیں ایک کرسی پہ ڈال کر آدھے گھنٹے ایمبولنس کے انتظار کے بعد ہسپتال پہنچایا گیا لیکن دیر ہو چکی تھی فرزانہ موت وزیست کی کشمکش سے گزر کے اپنے دو معصوم بچوں اور شوہر کو روتا چھوڑ کرخالق حقیقی سے جا ملی، .
اس المناک حادثے کے باعث ملک بھر کے ادبی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی اور ہر دل افسردہ ہوگیا. فرزانہ کی حادثاتی موت اپنےپیچھے کئی سوالات کو جنم دے گئی، اسٹیج کے پاس اتنی گہری کھائی کیوں بنی تھی،سیڑھیوں کے ساتھ ریلنگ کیوں نہیں لگائی گئی، جبکہ یہاں بڑی بڑی تقریبات ہوتی ہیں اس کے لئےبلڈنگ تعمیر کرنے والے اور نقشہ پاس کرنے والے ذمہ دار ہیں ان سے ضرور سوال ہونا چاہئیے اور تادیبی کاروائی ہونی چاہیئے، اس میں انتظامیہ کی نااہلی اور اسٹیج ڈیزائن کرنے والوں کی غفلت ہے جبکہ کوئی تقریب کرنے کے لیے اس بلڈنگ کا لاکھوں کا کرایہ ادا کیا جاتا ہے. اتنا اہم کتب میلہ ہر سال منعقد کیا جاتا ہے عوام کی ایک بڑی تعداد شرکت کرتی ہے ان حادثات سے نبٹنے کے لیے ایمبولنس، فائر بریگیڈ کیوں نہیں موجود ہوتے اگر ابتدائی طبی امداد کی سہولت ہوتی تو جان بچنے کے امکانات ہوتے. احتیاطی تدابیر میلے کے منتظمین کی ذمہ داری ہیں. نیشنل بک فاونڈیشن اور حکومت کو فرزانہ کے لواحیقین کی مدد کرنی چاہیئے اور ایسے انتظامات کرنے چاہئے کہ آئندہ کوئی حادثہ رونما نہ ہو. اس میلے میں جو غفلت اور کوتاہی ہوئی اس کی نشاندہی فرزانہ نے اپنی جان دے کر کردی . اس کھائی کو بند کیا جائے اور سیڑھیوں پہ ریلنگ لگائی جائے.
میں ارباب اختیار سے مطالبہ کرتی ہوں اس ہال کا نام فرزانہ کے نا م پہ” فرزانہ ناز” ہال رکھ دیا جائے تاکہ اس شاعرہ کو ایک چھوٹا سا خراج تحسین پیش کیا جا سکے. فرزانہ کے مجموعہ کلام "ہجرت مجھ سے لپٹ گئی ہے” کی تقریب رونمائی جو تین مئی کو ہونی تھی حکومت اپنے خرچے پہ کروائے.

Views All Time
Views All Time
381
Views Today
Views Today
1
mm

فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   میرا نام عثمان ہے، میں بلوچستان سے آیا ہوں
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: