Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

غریب کا ادھورا خط | شاہانہ جاوید

by اپریل 12, 2017 بلاگ
غریب کا ادھورا خط | شاہانہ جاوید
Print Friendly, PDF & Email

اے میرے ملک کے امیرو، جاگیردارو، وڈیرو اور حکمرانو آج میں اپنی تنگ دستی سے مجبور ہوکر تمھیں خط لکھ رہا ہوں ۔تم اپنے عیش وآرام پر کتا خرچ کرتے ہو، تمھارے دن رات بہترین کھانے کھانے ، بہترین کپڑے اور لوازمات پہ خرچ ہوتے ہیں.
تمھارے کھانے کی ٹیبل انواع اقسام کے کھانوں سے بھری ہوتی ہے اور تم دوچار نوالوں کے بعد اٹھ جاتے ہو کیونکہ تمھیں اور دوسرے فواکہات کھانے ہیں اگر کھانا پسند نہ آیا تو ہوم ڈلیوری کروالی برگر، پیزا، بروسٹ کچھ بھی، تمھارے بچے اپنی پسند سے جو چاہے کھائیں یا ضائع کریں تمھیں کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ اپنے بچوں کی حرکت پہ خوش ہوتے ہو.
تمھاری راتیں نرم گرم بستروں میں گذرتی ہیں سردی میں گرم کمرے، گرمیوں میں ٹھنڈے کمروں میں سوتے ہو. راتوں کو آرام کی نیند سوتے وقت تمھیں فٹ پاتھ پر سونے والے بھوکے ننگے انسان یاد نہیں رہتے. تم اپنے کمبلوں اور بستر کی گرمی میں بھول جاتے ہو کہ یہ بھی ایک مخلوق ہے جسے انسان کہتے ہیں وہ بھی تمھاری طرح جیتے جاگتے ہیں کیا اللہ نے تم لوگوں کے لیے احکامات نہیں اتارے کہ غریب کی مدد کرو کسی کو بھوکا نہ سونے دو. بخدا آج میرے تین بچے سوگئے کیونکہ دن بھر کی تلاش کے بعد بھی کوئی دہیاڑی نہیں لگی گرمی اور دھوپ میں فٹ پاتھ پر بیٹھا انتظار کرتا رہا، کوئ ٹھیکیدار راج مستری لینے کے لیے نہیں آیا اور میں خالی ہاتھ گھر چلا آیا. دن میں بیوی نے کچھ سوکھی روٹیاں پانی میں بھگو کر کھلادیں لیکن رات کے کھانے کا بندوبست نہ ہواروتے روتے بچے سوگئے اور میں بھی خالی پیٹ پہ ہاتھ رکھے سوچ رہا تھا کہ کس قدر تنگ ہیں بندہ مزدور کے اوقات. کل صبح پھر فٹ پاتھ پہ جاکر بیٹھوں گا کہ شائد آج کام مل جائے، میں محنت کرکے کمانا چاہتا ہوں. میرے بچے تعلیم سے محروم ہیں حالانکہ میں بھی چاہتا ہوں کہ انھیں پڑھاؤں، لیکن پیٹ بھرنے کا بندوبست ہو نہیں رہا پڑھاؤں کہاں سے، تمھارے بچے تو اعلی تعلیم حاصل کرہے ہیں یہ ملک پسند نہ آئے تو بیرون ملک بھیج دیتے ہو، میں نے تم جیسے امیروں کو ہم غریبوں پہ، احسان کرتے اور مدد کا ڈھونگ رچاتے دیکھا ہے لیکن کیا غریبوں کے لیے مستقل بندوبست نہیں کرسکتے کہ ان کے بچے پڑھ سکیں ، بھوک اور بیماری سے نہ مریں ان کے سر پہ چاہے چھوٹی سہی چھت ہو، کیا تم لوگ دنیا میں ہمیشہ رہنے آئے ہو؟ نہیں ایک دن تم سب کو بھی قبر کی تاریکی میں جانا ہوگا سب یہیں رہ جائے گا.
تمام عمر اے دولت سمیٹنے والو
کفن میں جیب نہیں ہوتی دھیان میں رکھنا
دولت کے انبار بھی تمھارے اعمال کے پلڑے کو وزنی نہیں کرسکیں گے ہم غریبوں کے لیے کچھ کرجاؤ تو شائد نجات مل جائے.
صبح کا سورج طلوع ہورہا ہے اور میں امید جگا کر کام ڈھونڈنے نکلا ہوں نہ جانے کس بھاری گاڑی نے مجھے ٹکر ماری اور میں دور جاگرا، چاروں طرف لوگ جمع ہیں، ہائے بے چارہ، ارے کہاں سے یہ غریب آگیا، نہیں نہیں ہیرؤئنچی ہوگا نشے میں ٹکرا گیا، چور بھی ہو سکتا ہے ارے صاحب آپ جائیں، جائیں ایدھی ایمبولنس اسے اٹھا کر لے جائے گی. میں دور ہوا میں کھڑا سب کی بے حسی کا تماشہ دیکھ رہا ہوں ایک نہ ایک دن تو سب کو آنا ہے اوپر یہاں گریبان پکڑوں گا ان سب کا جنھوں نے میرے بچوں کو یتیم بنایا۔

Views All Time
Views All Time
546
Views Today
Views Today
1
mm

فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   اخباری - ذیشان حیدر نقوی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: