Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

ظلم کی رات کب ڈھلے گی؟ | شاہانہ جاوید

Print Friendly, PDF & Email

میرے وطن کی فضا پہلے تو ایسی نہ تھی. سب کس طرح امن وامان سے رہتے تھے ایک دوسرے کا خیال کرتے تھے نہ کوئی نفرت تھی نہ سیاست، سادگی اور خلوص کی فضا تھی، ایک دوسرے کا خیال ایک دوسرے کی مدد.
نہ جانے کس نے فضا میں نفرتوں کا زہر گھول دیا، آدمی آدمی کا دشمن ہے، پہلے ہمیں ذاتوں میں تقسیم کیا گیا تم سندھی ہم بلوچی تم پٹھان ہم پنجابی تم مہاجر یہ کیا ہے؟ یہ کس نے کیا؟ یہ ان کا کام ہے جو ہم پر حکومت کرنا چاہتے تھے انھوں نے اس طرح ذاتوں میں تقسیم کرکے ووٹ سمیٹے اور ایوانوں میں پہنچ گئے اور عوام کو تقسیم کردیا اس سے بھی جی نہ بھرا تو فرقوں کو ہوا دی، بہتر فرقوں کی نوید تو تھی لیکن اس سے بھی زیادہ تعداد فرقوں کی وجود میں آگئی اور تشدد میں بھی اضافہ ہوا، کسی کو سنی کہہ کر مار دیا کسی کو شیعہ ہونے پر سزا دی، اور واجب القتل قرار دیا اسلام کے نام پہ یہ سب کیا جانے لگا کیا یہی میرے پیارے نبیۖ کی تعلیمات ہیں خدارا ہوش میں آئیے یہ کون لوگ ہیں جو ہمارے ملک کو ہمیں تقسیم در تقسیم کررہے ہیں اور ہم ان کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں.
آج ہم انسانیت کے اس نچلے درجے پر ہیں جہاں خود انسانیت بھی ہمیں دیکھ کر شرمندہ ہے، کوئی حادثہ ہو کوئی دھماکہ ہو کوئی دہشت گردی کی واردات ہو ہم دوچار گھنٹوں کی باتوں مباحثوں اور ٹاک شوز کے بعد اپنی ترجیحات میں لگ جاتے ہیں. کسی کو ان مرنے والوں کے پیچھے رہ جانے والی زندہ لاشوں کی پرواہ نہیں ہوتی کوئی ان سے پرسا کرنے کا بھی روادا نہیں ہوتا، حکومت صرف امداد کا اعلان کرکے خاموش ہوجاتی ہے اور وہ بے چارے ان چیکس کو کیش کرانے کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں کیا انسانی جان کی اتنی ہی قیمت ہے، چند لاکھ اس انسان کی کمی پوری کر دیں گے.
دہشت گردی کے واقعات پر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ تسلسل کے ساتھ اسی طرح ہوتا آرہا پہلے کسی جگہ مٹھی بھر دہشت گرد گھس کر ایک بڑی تعداد کو نشانہ بناتے ہیں یا ایک خودکش بمبار مسجد، امام بارگاہ، اسکول، بازار میں جاکر پھٹتا ہے اور ایک بڑی تباہی مچاکر خود بھی ایک چیتھڑے زدہ لاش بن جاتا ہے اس کا صرف سر ہی ملتا ہے. جب اس تباہی پر نظر ڈالیں تو ایسا لگتا ہے یہ کام کسی بڑی تعدادمیں دہشت گردوں کا ہے . کیا یہ مٹھی بھر دہشت گرد ہماری فوج سکیورٹی اداروں اور عوام سب پر بھاری ہو جاتے ہیں. خدارا سمجھیں انھوں نے ہمیں آپس میں تقسیم کرنے کے بعد ختم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس طرح وہ دھیرے دھیرے کامیاب ہو رہے ہیں.
نہ جانے حکومت کہاں ہے اس کی رٹ کہاں ہے کون سا قانون ان کو اپنی گرفت میں لے گا. ایک بیان آجاتا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، ہم نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی یہ ٹوٹی کمر والے دہشت گرد ہم پر حاوی ہوتے جارہے ہیں اپنے درمیان ان کے سہولت کاروں کو ہمیں پہچاننا ہوگا لیکن یہ طے ہے اب تک کچھ نہیں ہوا تو اب کیا ہوگا. ہمیں اپنے اندرسے محبت وپیار کا وہ کھویا ہوا سبق دہراناہوگا جس کو مٹا دیا گیا تمام ذاتیں اور فرقےبھلاکر ایک دوسرے کو انسان سمجھ کر ہاتھوں میں ہاتھ دینا ہوگا تاکہ ہمارا دشمن ہم سے ہار جائے. آئیں سب مل کر آگے بڑھیں اور نفرتیں بھلا کر پیار کا پیغام عام کریں ان شاء اللہ پیار کا یہ پیغام پھر سے میرے وطن کی فضاؤں کو امن اور خوشیوں سے بھر دے گا
ان کا جو کام ہے اہل سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

Views All Time
Views All Time
330
Views Today
Views Today
1
mm

فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   روٹی بندہ کھا جاندی اے
mm

شاہانہ جاوید

فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: