Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کتب بینی | شاہانہ جاوید

by مارچ 30, 2017 بلاگ
کتب بینی | شاہانہ جاوید
Print Friendly, PDF & Email

آج کا دور ٹیکنالوجی کے عروج کا دور ہے۔ انسان کو اس قدر آسانیاں میسر ہیں جو آج سے بیس سال پہلے نہیں تھیں شاید مستقبل میں بیس سال بعد ہم روبوٹس کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوں. ان میں سے ایک سیل فون بھی ہے۔ ہماری ہتھیلی پہ رکھا اینڈرائڈ فون ہر وہ کام باآسانی کر رہا ہے جو ایک کمپیوٹر پر ہوتے ہیں. واٹس ایپ، گوگل، فیس بک، ای میل، کیمرہ غرض ہر کام ہم آسانی سے کر لیتے ہیں.
بچوں کو مصروف رکھنے کا اس سے بہترین ذریعہ والدین کو نہیں سوجھتا۔ بچوں میں کوئی اور مشغلہ اختیار کرنے کی ترغیب دینے کی کو شش ہی نہیں کی جارہی۔ بچے اسکول کی کتابیں پڑھنے کے علاوہ شاید ہی کوئی کتاب پڑھ رہے ہیں. اسکول کا ہوم ورک کیا اور نیٹ پر کھیلنے بیٹھ گئے. آج کے دور کے بچے کے دماغ میں کتابوں کا تصور ہی اسکول کی کتابیں ہیں۔ کسی بچےسے پوچھو کہانی کی کتاب پڑھی ہے فوراً جواب آئے گا نیٹ پہ پڑھی تھی جب ہم انھیں سمجھاتے ہیں کہ کہانی تو کتاب میں پڑھنے میں اچھی لگتی ہے، کتاب ہم جب چاہے نکال کر پڑھ سکتے ہیں تو جواب ملتا ہےجب ہم نیٹ پر پڑھ لیتے ہیں تو کتاب کی کیا ضرورت؟ یہ خطرے کی وہ علامت ہے جسے ہمارا معاشرہ بالکل نظر انداز کر رہا ہے.
بچوں میں کہانی پڑھنے کا شوق تو ہے لیکن کتاب سے نہیں انٹرنیٹ سے، کچھ سمجھ نہ آیا یا کسی لفظ کے معنی پتہ کرنے ہیں گوگل پہ سرچ کرلئے۔ کتابی شکل میں یہی کام لغت، ڈکشنری، انسائیکلوپیڈیا سے لیا جاتا ہے یہ مستند مانا جاتا ہے۔ ہمیں بچوں کو سکھانا چاہئیے کہ لغت میں حروف تہجی کے اعتبار سے الفاظ کے معنی ہوتے ہیں، ڈکشنری کیسے استعمال کی جاتی ہے، الفاظ کا ذخیرہ کیسے بڑھایا جائے ہر گھر میں لغت، ڈکشنری، اور انسائیکلوپیڈیا ضرور ہونا چاہیئے. ہمیں بچوں کا مستقبل سنوارنا ہے توسب سے پہلے کتب بینی کی اہمیت بتانا ہوگی. نصابی کتب کے علاوہ دیگر ہم نصابی سرگرمیوں کی کتب فراہم کرنی چاہیئں تاکہ بچوں میں مطالعہ کا شوق پیدا ہو. جس طرح بچوں کا کھیلنے کا وقت مقرر ہوتا ہے اسی طرح مطالعے کا وقت مقرر کریں، ان سے پڑھی ہوئی کتاب کے بارے میں سوالات کریں اس سے بچے دھیان اور شوق سے کتاب کا مطالعہ کریں گے. ماں باپ دونوں کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کے لیے کہانیوں کی کتابیں بھی اسی طرح خریدیں جس طرح آپ ان کی ضرورت کی چیزیں اورکھلونے خریدتے ہیں۔ اس طرح کتاب کی اہمیت ان کی نظر میں بڑھے گی اور مطالعہ کا شوق پیدا ہوگا. بچے بڑے ہوں تو انھیں مختلف موضوعات پر اچھی کتابیں لاکر دیں ان سے کتب کے بارے میں نقطہٴ نظر معلوم کریں. ہم بڑوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی نئ نسل میں کتب بینی کا شوق پیدا کریں. اسکولوں میں بھی اس کا انتظام ہو نا چاہیئے کہ بچے مطالعہ کر سکیں. بہت سے اسکولوں میں لائیبریریز ہیں لیکن بچوں میں پڑھنے کی جستجو نہیں اساتذہ بچوں میں کتب بینی کے شوق کو بڑھائیں اور بچوں کو گھر لے جانے کے لیے کتب دیں تاکہ وہ گھر پہ بھی کتاب پڑھ سکیں.
بچوں کے ہاتھوں سے اینڈرائڈ فون لیکر پیاری پیاری کتابیں دیں تاکہ وہ پڑھنے کی طرف راغب ہوں. پورے ہفتے اسکول کی پڑھائی کروائیے لیکن چھٹی کے دن ایک کتاب بچوں کو پڑھنے کو ضرور دیں، اگر چھوٹے بچے ہیں تو خود پڑھ کر سنائیں اور بڑے بچے ہیں تو انھیں پابند کریں کہ وہ کتاب پڑھیں، اسے سنبھال کر رکھنا سکھائیں۔ آپ دیکھیں گے کہ کتب بینی کی تہذیب کس طرح آپ کے گھر کا ماحول بدل دے گی۔ مطالعہ کا شوق بچے کی شخصیت کی تعمیر اس طرح کرے گا کہ آپ کو اس پہ فخر ہو گا. وقت نکالئے اور آج ہی بچوں کے لیے اچھی اچھی کتابیں خریدیئے تاکہ ہمارا معاشرہ ایک مضبوط اور پڑھا لکھا معاشرہ بن سکے.

Views All Time
Views All Time
241
Views Today
Views Today
1
mm

فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   رمضان ٹرانسمیشن میں موجود خرافات
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: