Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

میرا کیا قصور؟

by جنوری 31, 2018 بلاگ
میرا کیا قصور؟
Print Friendly, PDF & Email

اے دختر مشرق تیرے خون کی ارزانی نہیں دیکھی جاتی، تو پہلے بھی مصلوب تھی اب بھی معتوب ہے، ایسے ایسے جرائم میں تیرے سانس کی ڈور کھینچ لی جاتی ہے جو جرائم ہی نہیں، کبھی محبت کی شادی کی پاداش میں مار دیا جاتا ہے، کبھی رشتہ نہ دینے پر تیرا خون ناحق مٹی میں مل جاتا ہے، کبھی بھائی کی غیرت، شوہر کی عزت، باپ کی وراثت تیرے قتل ناحق کا باعث بنتی ہے۔ ہم کس صدی میں رہ رہے ہیں یا ہمارے ہاں وقت رک گیا ہے۔ دنیا کہاں جا رہی ہے اور ہم عورت کو اس کے ناکردہ گناہوں کی سزا دینے میں لگے ہیں۔ جہالت کا دور ہمارے ملک میں ٹہر سا گیا ہے۔

بنت حوا تو اب بھی قابل تعزیر ہے بنا جرم کیے تجھے سرعام گولیوں کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔ کیا رشتے سے انکار اتنا بڑا جرم ہے کہ جان لے لی جائے۔ جیتے جاگتے وجود کو لہولہان کر کے قبر کا مکین بنادیا۔ وہ خوش شکل چہچہاتی، ذہین تھرڈ ائیر میڈیکل کی طالبہ زندگی سے بھرپور اپنی آنکھوں میں ڈاکٹر بن کر انسانیت کی خدمت کے خواب سجائے ایک نفس پرست کی وحشت و بربریت کا نشانہ بن گئی، کیا کسی کی مرضی کے خلاف رشتہ دینا اور منظور نہ ہونے پر موت کے گھاٹ اتار دینا بنتا ہے جی ہاں جناب اس ننگ انسانیت معاشرے میں بنتا ہے۔ لڑکی کا شادی سے انکار انا کا مسئلہ بنا کر اسے جان سے مارنا جائز ہے۔ کیونکہ اس نے ایسی جرات کیوں کی وہ چپ چاپ اس رشتے کو مان کر اس وحشی کی دلہن کیوں نہ بن گئی۔ جو بعد میں اس سے بھی زیادہ درندہ ثابت ہوتا۔ جب کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہے۔

پولیس کے مطابق ایبٹ آباد میڈیکل کالج کی تھرڈ ایر کی طالبہ چھٹیوں میں اپنے گھر کوہاٹ آئی ہوئی تھی۔ اپنی بھابھی کے ساتھ رکشے سے اتر کر گھر جا رہی تھی کہ پہلے سے تاک لگائے مجاہد اللہ نامی بندے نے اپنے بھائی کی مدد سے فائرنگ کردی۔ عاصمہ کو تین گولیاں لگیں، مرنے سے پہلے اس نے پولیس کو مجاہد اللہ کا نام بتایا۔ مجاہد شادی شدہ تھا اور عاصمہ سے دوسری شادی کرنا چاہتا تھا۔ شادی سے انکار پر اس نے جان ہی لے لی۔ اس شخص کا تعلق مشہور سیاسی جماعت سے بتایا جاتا ہے۔ معلوم یہ ہوا ہے کہ مجرم فرار ہو کر بیرون ملک چلا گیا ہے۔اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کہہ کر گیا ہے کہ پکڑ کر دیکھو۔

یہ بھی پڑھئے:   پاکستان میں محنت کش خواتین اور لیفٹ کا المیہ

کیا لڑکیوں کی زندگی اتنی ارزاں ہے کہ ایک رشتہ نہ دینے پر ان کی جان لے لی جائے۔ ایک تعلیم یافتہ لڑکی اور جاہل میں کوئی فرق نہیں سمجھتے جاہل لوگ انہیں اپنی انا اتنی عزیز ہے کہ رشتے سے انکار پر لڑکی کی جان لے لی۔ مستقبل کی ڈاکٹر ویسے ہی ان علاقوں میں لڑکیاں کتنی مشکل سے تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ اور ویسے ہی پروفیشنل تعلیم کا تناسب ان علاقوں میں کم ہی ہے۔ ایک روشن دماغ کو اندھیرے کی نظر کر دیا ظالم نے، صرف اپنی نفسانی خواہش کے پورا نہ ہونے پر۔ یہ بھی کسی اس درندے سے کم نہیں جو جنگل پر راج کر رہے ہیں۔ ان جنگلیوں نے شہر کو بھی جنگل میں تبدیل کردیا ہے۔ شادی کی اتنی خواہش تھی تو اپنی جیسی جاہل کا انتخاب کرتے لیکن انہیں تو اس کی تعلیم کھٹک رہی تھی کہ اس علاقے کی لڑکی ڈاکٹر کیسے بن رہی ہے۔ عورت تو پیر کی جوتی ہے اسے پیر کے نیچے ہی ہونا چاہئیے گندی سوچ کے مالک جاہل لوگ۔ دماغ پہلے ہی قصور واقعے سے پریشان تھا کہ اس خبر نے ہلا کر رکھ دیا۔ کیا اس ملک پاکستان میں بیٹی ہونا، بیٹی کو پامال کر کے کیسے سکون سے رہ سکیں گے.

کیا عورت ہونا جرم بن گیا ہے، نازک کلیاں ہوں تو انہیں زیادتی کا نشانہ بنا کر روندا جاتا ہے۔نوجوان ہوں تو شریفاں کی صورت میں مادر زاد برہنہ کر کے بازاروں میں گھما کر اپنا بدلہ لیا جاتا ہے۔ غریب محنت کش ہوں تو عزت پامال کروا کر دو وقت کی روٹی حاصل کرتیں ہیں یہ عورتیں، گھر سے عزت کی نوکری کرنے نکلتی ہیں۔ لیکن قدم قدم پر اپنی بے توقیری، بے عزتی ہوتے دیکھ کر بھی نظر انداز کر دیتیں ہیں۔ ہر چیز کی حد ہوتی ہے لیکن عورت پر ظلم وستم کی کوئی حد نہیں چاہیے اس میں جان ہی کیوں نہ جائے۔ قانون بھی بے بس ہو جاتا ہے کیونکہ مجرم اتنے بااثر ہوتے ہیں یا تو فرار ہو جاتے ہیں یا پھر پولیس کی جیب گرم کر کے آزاد گھومتے ہیں اور جو پکڑے جاتے ہیں وہ عدالت سے عدم ثبوت کی بنا پر چھوٹ جاتے ہیں یا عدالتی کاروائی کے لمبے ہونے کی وجہ سے سزا نہیں پاسکتے۔ نہ جانے کب تک حوا کی بیٹی اس طرح خون میں نہاتی رہے گی اور تقدیس ثناء خوانِ مشرق، مشرق کی بیٹی کا لہو بہتے دیکھتے رہیں گے۔

Views All Time
Views All Time
186
Views Today
Views Today
1
mm

فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   قسمت کی دیوی تھر پر مہربان ہو رہی ہے
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: