میں بھی | شاہانہ جاوید

Print Friendly, PDF & Email

عورت کائنات خوبصورت ترین ہستیوں میں شمار کی جاتی ہے. جنت سے نکالے جانے والا جوڑا آدم اور حوا دنیا میں نسل انسانی کی ابتداء کاباعث بنے. عورت معاشرے کا مضبوط ستون ہے لیکن مرد کے استحصال سے محفوظ نہیں. معاشرے میں ہر مقام پر جہاں عورت ترقی کرکے آگے بڑھتی ہے اسے نیچا دکھانے کا ہر حربہ آزمایا جاتا ہے. نام نہاد مشورہ دینے والے کہتے ہیں عورت گھر سے نکلتی کیوں ہے جو اسے جنسی طور پر ہراساں کیا جا تا ہے تو جناب کیا گھر میں رہنے والی صنف نازک اس ہراسمنٹ سے محفوظ ہے قطعی نہیں، یہ سلسلہ صدیوں پرانا ہے مرد ذات اس کو اپنا حق سمجھتا ہے ہر وہ بے بس عورت جو اس کی دسترس میں ہے محفوظ نہیں.گھروں گلی محلوںِ میں ایسے کیسز بکھرے پڑے ہیں. اپنے گھر کی عورت پارسا اور باہر نکلنے والی عورت ان کی نگاہوں کے تیر سہنے کے لیے ہے، ان کی دست درازی کے لیے ہے، ان کی گندی نظروں اور چبھتے جملوں کو برداشت کرنے کے لیے ہے. جب موقع ملتا ہے عورت کو تنگ کرنے سے باز نہیں آتے. چلتے چلتے کہنی مار دینا، غلط جگہ ہاتھ لگا دینا، آنکھ مارنا ، پیار کا جھانسہ دیکر مطلب نکالنا یا پھر زبردستی کرنا. کام کرنے والی خواتین اپنے ساتھ ہونے والے کسی بھی ایسے واقعہ سے صرف نظر کرتی ہیں کیونکہ پھر ان کو کام کے لیے گھر سے نکلنے نہیں دیا جائے گا، جن عورتوں کی مجبوری ہے کام کرنا وہ برداشت کرتی ہیں اور چپ چاپ یہ استحصال سہتی ہیں . جاب کے لیے انٹرویو دیتے وقت، کسی ڈرامے کے آڈیشن کے وقت، کسی پوسٹ پہ ترقی ملنے پر، باس کی شام رنگین بنانی پڑتی ہے.
ضروری نہیں کہ سب کے ساتھ ایسا ہوتا ہو لیکن ایک بہت بڑی تعداد خواتین کی ہے جو اس سے متاثر ہے اور اپنے لب سی لیتی ہیں. بہت سی خواتین اس جنسی ہراسمنٹ کو اس لیے نہیں بتاتیں کہ وہ سمجھتی ہیں شاید یہ ان ہی کے ساتھ ہوا ہے اور جب سب کو پتہ چلے گا تو وہی مورد الزام ٹھہرائی جائیں گی. اب ہوا کا رخ بدل رہا ہے آج کی عورت اتنی سمجھ دار ہوچکی ہے کہ وہ اب اس جنسی استحصال کا ڈٹ کر مقابلہ کرا چاہتی ہے اور اسی لیے بیداری کی ایک مہم شروع کی گئی ہے،# می ٹو
اس تحریک کا مقصد خواتین اپنے ساتھ ہوئے جنسی استحصال کے واقعے کو بتائیں تاکہ اس کے سد باب کی کے لیے کوششیں کی جاسکیں. یہ کمپئین دراصل دس سال پرانی ہے. اس مہم کو ترانہ بروک نے 2007 ء میں شروع کیا. اس تحریک کے ذریعے خواتین میں آگاہی مہم شروع کی گئی، پہلے خواتین چونکیں لیکن آہستہ آہستہ خواتین اپنی بیتی بتانے لگیں اور اس مہم کا حصہ بنتی گئیں. بہت بڑے بڑے نام اس مہم کے دوران شامل ہوئے جن کو جنسی ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑا اب تک پوری دنیا سے تقریباً ایک کروڑ خواتین اس مہم کا حصہ بن گئیں ہیں. یہاں آپ کا اعتماد بحال کیا جاتا ہے اور ایسے واقعات کے خلاف ڈٹ جانے کی ترغیب دی جاتی ہے.
ہم یہاں آپ کو ان حادثات سے بچنے کا طریقہ بتاتے ہیں کس طرح ہمیں اپنی معصوم بچیوں کو بچانا ہے کیونکہ زیادہ تر حادثات کم عمری میں ہوتے ہیں. بچیوں کو اکیلے دکانوں پر چیز لینے نہ بھیجیں، قرآن پڑھانے کے لیے قاری صاحب کو اپنے سامنے پڑھنے بٹھائیں ، کسی کے ہاں اکیلے نہ چھوڑیں، بچیوں کے ساتھ ساتھ لڑکوں کی بھی اسی طرح دیکھ ریکھ کی جائے یہ ماں باپ کی ذمہ داری ہے. لڑکیوں کو سمجھائیں کہ ایسے حالات میں کیسے نمٹنا ہے، اپنے دفاع کے لیے مارشل آرٹ سیکھیں تاکہ کسی کی قریب آنے کی مجال نہ ہو. آفس میں اپنے آپ کو کام سے کام رکھنے والا بنائیں اور غیر ضروری گفتگو سے پرہیز کریں. کبھی کسی کی غلط حرکت کی حوصلہ افزائی نہ کریں. راستے میں چلتے ہوئے اپنے چاروں طرف نگاہ رکھیں اور چھ کے چھ حواس جگائے رکھیں. کبھی کسی کو دست درازی کی اجازت نہ دیں. زبردستی کی صورت میں مقابلہ کریں اور اپنے آپ کوبچائیں. اگر آپ کے ساتھ ایسا ہو چکا ہے تو دوسروں کو خبردار کرنے کے لیے اس کو ضرور بتائیں یہ ضروری ہے تاکہ کسی اور کے ساتھ ایسا نہ ہو. ریپ وہ جرم ہے جس کی 91.6%رپورٹنگ نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے مجرم کا حوصلہ بڑھتا ہے . اس لیے آئیے اس آگاہی مہم کا حصہ بن کر اس جرم کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ مجرم کو سزا بھی دلوائیں ۔

Views All Time
Views All Time
468
Views Today
Views Today
1
mm

فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   ورکنگ ویمن کو درپیش چیلنجز
mm

شاہانہ جاوید

فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: