رمضان میں مہنگائی کے اصل ذمہ دار حکمران اور حکومتی ادارے یا عوام؟ | شاہانہ جاوید

Print Friendly, PDF & Email

جوسچ سچ بولا تو سچائی مار گئی
اور باقی کچھ بچا تو مہنگائی مار گئی
جی ہاں مہنگائی جس نے آکٹوپس کی طرح پورے معاشرے کو جکڑ رکھا ہے، جس چیز کو دیکھو اس کے دام آسمان سے باتیں کر رہے ہیں لوگوں کی قوت خرید جواب دیتی جارہی ہے ، مرد کما کما کر پریشان ہیں اور عورتیں بے حال کہ گھر کا بجٹ کس طرح بنائیں کہ ضروریات بھی پوری ہوجائیں اور سفید پوشی کا بھرم رہ جائے. یوں تو سارا سال مہنگائی کا رونا روتے ہیں لیکن مہنگائی کا سیلاب بلا ہمارے مبارک ماہ رمضان میں امڈ کر آتا ہے اور ہر طرف چھا جاتا ہے. رمضان کے مبارک مہینے کا استقبال ہر چیز کی قیمت بڑھا کر کیا جاتا ہے، دکاندار ڈھٹائی سے کہتے ہیں یہی تو کمانے کا مہینہ ہے کہتے ہیں رمضان میں شیطان بند ہوتا ہے لیکن اپنے چیلے اتنی بڑی تعداد میں چھوڑ جاتا ہے جو اس سے کئی گنا زیادہ حرکتیں کرتے ہیں. کپڑوں کے دام ان کی سلائی، جوتوں کی قیمتیں، کھانے پینے کی اشیاءکی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں.
مہنگائی کا مطلب گرانی، منافع خور مصنوعی قلت پیدا کرکے دام بڑھا دیتے ہیں اور منہ مانگے دام وصول کرتے ہیں. اب ہم آتے ہیں رمضان کے مہینے میں مہنگائی کے طوفان ِ بدتمیزی کی طرف اس میں حکومت، حکومتی ادارے اور عوام تینوں ہی ملوث ہیں اس طلب ورسد میں عدم توازن بھی قرار دیا جاسکتا ہے جس کا سبب بد انتظامی ہے اس کے ساتھ ہی منافع خوری کا سلسلہ بھی شروع ہوجاتا ہے کیونکہ تاجر حضرات اس مہینے کو اپنا سیزن قرار دیتے ہیں.
حکمرانوں اور حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ رمضان میں اشیاء صرف کی ترسیل اور قیمت پہ نظر رکھیں لیکن ہوتا یہ ہے کہ حکومت اپنی اس ذمہ داری سے ٹھیک طرح عہدہ براہ نہیں ہوتی. رمضان میں ٹھیلے والے اور پتھارے والے ایک کارٹل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور ان کے درمیان لوٹ مار کے لیے مسابقت شروع ہوجاتی ہے، اوپر سے لیکر نیچے تک ایک منظم مافیا ہے جو رمضان المبارک میں شب خون مارتی ہے.
اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے ایک طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے. حکو مت کو چاہیے کہ وہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے قوانین بنائے اور ایک مستقل قیمت مقرر کرے جو مناسب بھی ہو اور صارف کی قوت خرید پہ پوری اترتی ہو. ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر متعلقہ اداروں کو مکمل اختیار دیا جائے کہ وہ مہنگائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں. منافع خور مافیا اور ان کی امداد کرنے والی کالی بھیڑوں جو قانون نافذ کرنے والے اداروں میں موجود ہیں انھیں نیست ونابود کردیں کیونکہ جب تک ان کی جڑیں نہیں اکھاڑیں گے تو یہ دوبارہ ابھر آئیں گے. حکومت کا کام ہے جن مارکیٹوں یا اداروں کی کوئی تنظیم ہو تو ان کے فوکل پرسن سے بات کر کے مہنگائی کو کنٹرول کرے اور جہاں کوئی تنظیم نہیں وہاں قانون کے نفاذ کو بہتر اور ایمان دار بنایا جائے. ایسی قانون سازی کی جائے کہ مہنگائی کا طوفان اپنی موت آپ مرجائے.
اب ہم بات کرتے ہیں عوام کی جی ہاں یہ عوام ہی ہے جو مہنگائی کو بڑھانے کی ذمہ دار ہے آپ سوچیں رمضان شروع ہوتے ہی ہر مہنگی سی مہنگی شے اور پھل خریدنا واجب ہوجاتا ہے کیا ضروری ہے کہ افطار کےلیے گھر کے سربراہ کو زیر بار کرکے ذہنی پریشانی میں مبتلا کیا جائے کیا کھانے پینے میں سادگی اختیار نہیں کی جاسکتی، کوئی ضروری تو نہیں کہ فروٹ چاٹ، دہی بڑے، پکوڑے ، سموسے دسترخوان کی زینت بنیں، ہمارے نبی نے تو نمک اور پانی سے روزہ افطار کرنے کو افضل قرار دیا تو مسلمانو، سادگی اپناؤ، جب بھی خریداری کرو قیمتوں کو دیکھ بھال کر خریدو، جو چیز مہنگی لگے اسے چھوڑ دو پھر دیکھو کیسے دکانداروں کے دماغ ٹھکانے پر آتے ہیں. حکومت نے سرکاری نرخ مقرر کیے ہوئے ہیں آپ کوئی بھی چیز خریدتے وقت دکاندار یا پھل فروش سبزی فروش سے سرکاری نرخ کی فہرست طلب کریں اور ایک پیسہ زائد ادا نہ کریں اگر صارفین اپنے حقوق کے لیے بلند کریں تو کوئی گراں فروشی نہیں کرسکتا. اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ جب مارکیٹ میں کسی پھل یا سبزی فروش پر جرمانہ عائد کیا جارہا ہوتا ہے تو چار لوگ کھڑے ہوجاتے ہیں یہ تو غریب بندہ ہے اس پر جرمانہ نہ کریں سوچیں وہ غریب ہے تو کیا اس کو مہنگا بیچنے کا حق ہے. صارفین کو اپنے حقوق سے آگاہ ہونا پڑے گا، صارف خود مختار ہوگا کوئی بھی انہیں مہنگائی کے نام پر نہیں لوٹ سکے گا. ہر چیز خریدتے وقت سرکاری نرخ نامہ مانگیں اور اسی کے مطابق قیمت ادا کریں. جب ہم اپنے حق کے لیے لڑیں گے تو تب ہی ہمیں اس کا پھل ملے گا اس کے لیے خواتین اور نوجوانوں میں آگاہی مہم شروع کریں، کیا آپ نے دیکھا نہیں سوشل میڈیا کی پھل فروشوں کے خلاف بائیکاٹ مہم نے تین دن میں پھل کے ریٹ کم کردیے ہم تو کہتے ہیں بھیا اس قوم کو بیدار تو ہو لینے دو یہ اپنا حق خود لے لے گی اور مہنگائی کی کمر توڑ دے گی۔

Views All Time
Views All Time
309
Views Today
Views Today
1
mm

فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   کھوکھلی بنیادیں | خدیجہ افضل مبشرہ
mm

شاہانہ جاوید

فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: