Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

قصور کس کا؟ | شاہانہ جاوید

by جولائی 5, 2017 بلاگ
قصور کس کا؟  | شاہانہ جاوید
Print Friendly, PDF & Email

ایک خبر سکھر میں پرائیوٹ ہسپتال میں ماں باپ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے مردہ بچہ چھوڑ گئے. ماں باپ کا تعلق جیکب آباد سے ہے. تفصیل کچھ یوں ہے کہ جیکب آباد کے رہائشی کے ہاں بچے کی ولادت ہونی تھی چونکہ کیس مشکل تھا اس لیے بیوی کو لے کر سکھر آیا یہاں ایک مقامی ہسپتال میں بچہ پیدا ہوا لیکن بچہ قبل از وقت ہونے کی وجہ سے کمزور تھا اس لیے اس کو انکیوبیٹر میں رکھا گیا جب انکیوبیٹر کا کرایہ پندرہ ہزار ہو گیا تو ماں باپ پیسے لینے کے لیے نکلے، ہسپتال والوں نے اتنا رحم کیا کہ جا کر پیسے لے آئیں لیکن ان کے پیچھے بچہ فوت ہو گیا جب ماں باپ کو یہ اطلاع دی گئی تو وہ بچہ لینے نہیں آئے مقامی چینل نے ان سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا ہمارے پاس پیسے ہی نہیں ہیں بچے کی میت لینے کیا جائیں. یہ انتہا ہے غربت کی اور انتہا ہے مظلومیت کی، یہ ایک سوالیہ نشان ہے؟
قصور کس کا ہے، ہسپتال والوں کا، حکومت کا یا پھر غربت کا؟
حکومت کا تو کہہ نہیں سکتے کیونکہ صحت اور تعلیم تو ان کی ترجیحات میں نہیں ہیں. حکومت اس پر کام ہی نہیں کررہی تو تنقید کرنا واجب نہیں اب یہ بھی کتنی غلط بات ہے کہ ہر بات کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا دو، آخر حکومت کی بھی کوئی عزت ہے، انھیں ایسے چھوٹے چھوٹے کاموں میں الجھا دیں گے تو وہ تو پریشان ہو جائیں گے حکومت کو بڑے بڑے کام کرنے ہیں، سی پیک کا مسئلہ حل کرنا ہے، پیٹرول کی قیمت پہ نظر رکھنی ہے، لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کرنا ہے کہ دورانیہ کیسے بڑھایا جائے، ایک صوبے کے ایک چھوٹے سے شہر کے غریب شہریوں کے مسئلے حل کرنا حکومت کی ذمہ داری نہیں. اس کے لئے تو حکومت بری الزمہ.
اب ہم ہسپتال والوں کی بات کرتے ہیں، ہسپتال نے انھیں ایڈمیشن دیا، ڈلیوری کروائی اور بچہ کمزور ہونے پر انکیوبیٹر میں رکھا تاکہ سانس لے سکے، اب کیا کریں اس کا کرایہ ہی اتنا ہے کہ ہزاروں روپے پر بات پہنچتی ہے، ماں باپ پیسے کا انتظام کرنے میں لگے تھے بچہ فوت ہوگیا، اب یہ بھی ذمہ داری کہ تدفین بھی کریں کیونکہ لواحقین پیسے کی وجہ سے واپس نہیں آنے والے. اس میں ہسپتال کا قصور بھی کیوں کہا جائے انھوں نے تو ہر ممکن علاج کیا اب کیا کیا جائے علاج ہی اتنا مہنگا ہے تو جناب ہسپتال والے بھی بری الزمہ، اب رہ گئے غریب والدین جی ہاں سارا قصور ان ہی کا ہے، اتنی غربت تھی تو خاندانی منصوبہ بندی کرنی چاہیے تھی کیوں نہ کی، اور اگر بچے پیدا کرنے کا اتنا ارمان تھا تو پیسہ کیوں نہیں جمع کیا ، حلال روزی میں پیسہ جمع کرنا مشکل ہے تو ناجائز ذرائع سے پیسہ حاصل کرنا تھا آخر سب کر رہے ہیں محنت میں کیا رکھا ہے آج کچھ پیسہ ہو تا تو یو ں اپنی اولاد سے تو ہاتھ نہ دھونا پڑتا ، کیا اس کو دکھتا نہیں کہ اس ملک میں ہر غلط کام کرنے والے کا بول بالا ہے اور وہی ہر جگہ کامیاب ہے اسے ہی ہر سہولت ملی ہوئی ہے.
یہ غریب تو کیڑے مکوڑے ہیں مر گئے تو مر گئےاور زندہ بھی ہیں تو کیا یہ جینا بھی کوئی جینا ہے. تمھارا غریب ہونا ہے ایک جرم ہے اور جرم کی سزا تو ملنی چاہیئے اس لیے غریب بچے پیدا نہ کریں بلکہ خود بھی پیدا نہ ہوں اگر غریب رہنا ہے . جناب ثابت ہوا کہ غریب ہی اصل ذمہ دار ہے اس سارے واقعہ کا کیونکہ غربت ایک بہت بڑا جرم ہے جس کی سزا ہر وہ شخص بھگت رہا ہے جو غریب ہےتو ثابت ہوا کہ اس سارے واقعہ میں قصور کس کا ہوا غریب کا!

Views All Time
Views All Time
365
Views Today
Views Today
1
mm

فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   قلم کار کے دو سال
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: