میٹھی عید پھیکی ہو گئی | شاہانہ جاوید

Print Friendly, PDF & Email

میٹھی عید اتنی پھیکی کیوں ہو گئی بظاہر سب خوش ہیں لیکن سب کے دل اندر سے بے چین اور اداس ہیں، گفتگو کا ایک ہی موضوع ہے احمد پور شرقیہ کا حادثہ، پارا چنار کے شہید، کوئٹہ کار بم دھماکہ، کراچی میں افطار کے وقت پولیس پہ حملہ. ہر وہ شخص جو پچھلے دنوں کرکٹ چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی جیت کے بعد خوش تھا اور سب کے ساتھ مل کر جشن منارہا تھا اچانک فکر اور پریشانی میں مبتلا ہو گیا کہ میرے وطن میں دوبارہ سے بے چینی کی فضا کیوں پیدا ہو گئی کہیں یہ کوئی سازش تو نہیں، ایک عام ذہن بھی بھارت کی طرف انگلی اٹھا رہا ہے کیونکہ بھارت سے ہماری جیت ہضم نہیں ہوئی، اس نے پے در پے سانحات کروا کر ہماری قوم کو منتشر کرنا چاہا ہے لیکن جب ہم احمد پور شرقیہ کے واقعے پر نظر ڈالیں تو یہ ایک الگ ہی کہانی ہے اکثر ایساہی ہوتا ہے کہیں بھی تیل یا پٹرول کا ٹینکر الٹتے ہی لوگ تیل یا پٹرول جمع کرنے لگتے ہیں اور اچانک آگ بھڑک اٹھتی ہے اور بہت سی جانوں کا نقصان ہوتا ہے. بات یہ ہے کہ پٹرول کے بخارات ایک خاص درجہ حرارت پہ آگ پکڑ لیتے ہیں یا پھر کوئی عاقبت نا اندیش سگریٹ کےسلگانے میں آگ لگا بیٹھتا ہے. ہمارے ملک میں جو لوٹ مار کی پالیسی ہر جگہ لاگو ہے وہی لوٹ مار کی ذہنیت عوام میں بھی پائی جاتی ہے چاہے غریب ہوں یا کھاتے پیتے جس جگہ مفت کا مال ملے جوق در جوق لوٹنے کے لیے جمع ہوجاتے ہیں، یہی یہاں ہوا اب تک تقریباً سب نے یہ ویڈیو دیکھ لی ہوگی جس میں کسطرح لوگ کولر، بوتلوں اور برتنوں میں پیٹرول جمع کررہے ہیں اور ایک بڑی تعداد، اسکوٹر اور گاڑیوں والوں کی بھی ہے جو پیٹرول بوتلوں میں بھر بھر کر گاڑیوں میں ڈال رہے ہیں.

یہ بھی پڑھئے:   دھرتی کی بیٹی عاصمہ جہانگیر

من حیث القوم ہمارے اندر ایک لوٹ مار کا کلچر فروغ پاگیا ہے، قوم کو بھکاری بنادیا گیا ہے . رمضان کے مہینے میں چینلز پر جو شوز رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر ہورہے تھے آپ سب نے دیکھ لیا ہوگا کہ کس طرح گیم شو کے نام پر عام لوگ، خواتین، بچے میزبان سے چیزیں مانگ رہے ہوتے تھے، کیا یہ صحیح ہے، کیا عزت ِ نفس یا خوداری ختم ہو گئی ہے. ملک میں کوئی ایسا شعبہ نہیں جہاں لوٹ مار یا رشوت کی پالیسی نہ ہو، کوئی کام بغیر رشوت کے ہو ہی نہیں سکتا اور اس رشوت کی بندر بانٹ اوپر سے لیکر نیچے تک ہوتی ہے. کہیں کوئی چیز پڑی مل جائے تو اٹھا کر ہضم کرنے میں دیر نہیں لگاتے اسی طرح ناجائز طریقے سے دولت حاصل کرنا اشرافیہ کا شیوہ بن گیا ہے ملک کے سربراہ بھی اس میں مبتلا ہیں تو اس ملک کا کیا حال ہوگا . لوگوں میں لالچ حرص بڑھتی جارہی ہے اس کی وجہ سے ہر طرح کے ذرائع دولت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں. قوم کو فرقوں اور قومیتوں میں بانٹ دیا گیا ہے، حکومت کی طرف سے بھی تفریق کی جارہی ہے کہیں زیادہ امداد کہیں کم، پاکستان کا ہر شہری حکومت کی نظر میں برابر ہونا چاہیئے یہ تفریق کیوں؟ پارا چنار کا شہری بھی اتناہی اہم ہونا چاہیئے جتنا احمد پور شرقیہ کا. یہ بے گناہ شہری شہید ہوئے ہیں ان میں تقریق نہ کیجئے. ہم فرقوں میں بٹ کر اپنے اصل دشمنوں کو خوش کر رہے ہیں اور ایسے فیصلے مایوسی پھیلانے کا باعث بن سکتے ہیں. ہمیں اپنے ملک کی بقا کے لیے سب شکوے گلے بھلا کر ایک ہونا ہوگا ایک دوسرے کا غم اور خوشی بانٹنی ہوگی. آئیں آج ہم اپنے گھر گلی محلے سے اس طرز عمل کو شروع کریں اور اتحاد ویگانگت کی فضا قائم کریں. نیکی کو پھیلائیں اور برائی کو ختم کریں۔

Views All Time
Views All Time
351
Views Today
Views Today
2
mm

فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   زندگی کے حسیں رشتے | شاہسوار حسین
mm

شاہانہ جاوید

فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: