ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا | شاہانہ جاوید

Print Friendly, PDF & Email

یہ تین حرفی لفظ ہماری زندگیوں پہ اپنے پر پھیلائے سایہ فگن ہےاور ہر نفس اس کے سحر میں گرفتار ہے . ہوس کئی طرح کی ہوتی ہے دولت کی ہوس، شہرت کی ہوس، جسمانی ہوس، روحانی ہوس. یہ ایک کیفیت ہے جو موقع کے حساب سے طاری ہوتی ہے. معاشرے میں جس طرف نگاہ اٹھائیں سب ہوس کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں.
شہرت کی ہوس جنہیں ہے وہ اس کو حاصل کرنے کے لیے ہر وہ کام کرتے ہیں جس سے چار لوگوں میں نام ہو جائے کبھی مثبت قدم اور کہیں منفی انداز ، شہرت کی ہوس کے گرفتار ادب میں، فن میں، میڈیا میں ہر جگہ پائے جاتے ہیں، جو زیادہ محنت کرتے ہیں وہ اپنے کام سے پہچانے جاتے ہیں. کچھ ایسے بھی ہیں جو دوسروں کے کندھوں پر چڑھ کر اس منزل کو پاتے ہیں اور سمجھتے ہیں ہم نے ادب صحافت اور فن میں کارنامہ انجام دیا ہے. بہت سے نام ور گم نامی کی زندگی گزار کر اس جہان سے رخصت ہو جاتے ہیں لیکن جنھوں نے شہرت خریدی ہوتی ہے خبروں کی زینت بنتے ہیں اور فخر سے دنیا میں رہتے ہیں.
دولت کی ہوس یہ سب سے خطرناک ہوس ہے اس میں مبتلا انسان اندھا ہو جاتا ہے اوردولت حاصل کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتا ہے یہاں حلال حرام کی تمیز ختم ہو جاتی ہےاور ہر ممکن اور ناممکن ذرائع سے دولت کے پہاڑ کھڑے کر لیے جاتے ہیں. دولت کی اس دوڑ میں سرمایہ دار، صنعت کار، سیاست دان غرض سب حصہ دار ہیں. سرمایہ دار دولت مند ہونے کے باوجود مزید دولت کا متمنی ہے، صنعت کار اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر دولت جمع کررہے ہیں. سیاست دان ان کو کھلی چھٹی ہے جس طرح چاہیں کمائیں جہاں سے چاہیں کمائیں سب جائز ہے اگر حکومت میں ہیں تو حکومت کے تمام شعبے ان کے گھر کی کھیتی ہیں، دولت کے انبار جمع کرنے کے باوجود ان کی ہوس ختم نہیں ہوتی اس کام میں وہ اندھا دھند لگے ہیں کیونکہ اس دولت سے اقتدار خریدنا ہے جو حکومت میں نہیں وہ دوسرے ناجائز ذرائع استعمال کرتے ہیں دولت جمع کرتے وقت بھول جاتے ہیں کہ سب یہیں رہ جائے گا
تمام عمر اے دولت سمیٹنے والو
کفن میں جیب نہیں ہوتی دھیان میں رکھنا
زندگی کی ساری دوڑ کالے دھن کو سفید بنانے میں لگادیتے ہیں، لوگوں کے حقوق مارتے ہیں اس آپا دھاپی میں جائز ناجائز، کھرے کھوٹے، صحیح غلط سب تمیز بھول جاتے ہیں. صرف دولت کے پہاڑ کھڑے کرنے میں لگے رہتے ہیں اور جب اس دنیا سے جاتے ہیں تو اس دولت کو ان کے ورثاء بے دریغ لٹاتے ہیں. اللہ دولت کی محبت اور اسے حاصل کرنے کی ہوس سے محفوظ رکھے.
جسمانی اور روحانی ہوس ان دونوں کا تعلق انسان کی اپنی ذات سے ہوتا ہے. جسمانی ہوس انسان کی وہ جبلت ہوتی ہے جو اس میں فطری طور پر پائی جاتی ہے اور وہ اس کو جائز اور ناجائز دونوں طریقوں سے پورا کرتا ہے مذہب میں اس کے لیے طریقہ وضع کیا گیا ہے کہ دو نفس کس طرح رشتہ ازدواج میں بندھ کر اسے پورا کر سکتے ہیں. جب یہی ہوس منفی رخ اختیار کرتی ہے تو انسان غلط طریقے اپناتا ہے اور اس وقت معاشرے میں وہ واقعات وقوع پزیر ہوتے ہیں جنھیں دیکھ کر اور سن کر انسانیت شرما جاتی ہے، حیا کی آنکھیں ندامت سے جھک جاتی ہیں کہیں کوئی معصوم کلی کو روندا جاتا ہے اور کہیں نو خیز بچوں کو تاراج کیا جاتا ہے. اس کی روک تھام کے لیے قانون بنے ہوئے ہیں لیکن قانون کی عمل داری کہاں ہوتی ہے اگر ایک بار قانون پر عمل درآمد ہو اور سخت ترین سزا دی جائے تو روک تھام کی جا سکتی ہے . اس کے لیے اسلام کے بنائے ہوئے اصولوں سے ہی قابو پایا جا سکتا ہے. دین کی تعلیم عام کی جائے تاکہ معاشرے کو سنوارا جا سکے.
روحانی ہوس شاید اس سے لوگ واقف نہ ہوں جب مذہب کو مختلف کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اس کی مثال وہ لوگ ہیں جو معصوم لوگوں کو مختلف حیلے بہانوں سے مذہب کے شعبدے دکھاتے ہیں اور غیر تعلیم یافتہ لوگ ان کے بہکائے میں آجاتے ہیں. کسی کو اولاد نرینہ کی خواہش ہے کوئ غیر ملک جانا چاہتا ہے کسی کی ساس تنگ کرتی ہے کس کا شوہر دوسری عورت کو پسند کرتا ہے یہاں یہ روحانی ٹھیکیدار اپنا کاروبار چمکاتے ہیں اور ایسے لوگوں کو شیشے میں اتارتے ہیں جو مذہب کی طرف سے کمزور ہوتے ہیں اور اپنا الو سیدھا کرتے ہیں . اس عمل میں وہ اس حد تک گذر جاتے ہیں کہ قبرستان سے مردوں کی ہڈیاں نکالنا، معصوم بچوں کا قتل، عورتوں کی عزت لوٹنے تک سے باز نہیں آتے. بظاہر ان کا آستانہ اگربتی کی خوشبو سے مہکتا رہتا ہے اور لوگ ان پیروں فقیروں کی طرف پیٹھ بھی نہیں کرسکتے یہ روحانیت کے نام پر سیدھے سادھے لوگوں کو لوٹتے ہیں اور لٹنے والوں کی سادگی دیکھیے وہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ انھیں لوٹا گیا ہے.
کاش ہم نادان لوگ اسلام کے بتائے ہوئے میانہ روی، صبر اور استقامت کا راستہ اپنا لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اس لفظ ہوس سے نجات مل جائے. اس لفظ کو حرف غلط کی طرح مٹادیا جائے تو ہر شعبے میں ایک سکون اور یکسانیت پیدا ہو گی اور معاشرے میں سدھار پیدا ہوگا کاش ہم سب اس تین حرفی لفظ کے شر سے محفوظ ہو کر اسلام کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں آمین

Views All Time
Views All Time
546
Views Today
Views Today
1
mm

فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   سوشل میڈیا ۔ایک نیا محاذِِ جنگ-ایمان ملک
mm

شاہانہ جاوید

فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: