کرکٹ اورکرشمہ | شاہانہ جاوید

Print Friendly, PDF & Email

کیا سماں تھا 18 جون 22 رمضان کو، سحری کے بعد سے ہی دعاؤں کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا کیا بچے کیا بوڑھے کیا جوان ہر ایک کے لبوں پہ ایک ہی دعا تھی پاکستان میچ جیت جائے، بھارت کو ہرا دیں اور چیمپیئنز ٹرافی پاکستان آجائے.
ہم اپنے بچپن سے ہی ہاکی اور کرکٹ کے میچز میں سب کی دلچسپی دیکھتے آرہے ہیں. ڈیڈی چونکہ ہاکی کے کھلاڑی تھے اس لیے ہاکی کے میچ بہت اہتمام سے سنے جاتے تھے جب ٹی وی آیا تو میچز دیکھنے کا سلسلہ شروع ہوا. کرکٹ میں دلچسی بھائیوں کی وجہ سے پیدا ہوئی اور خود بھی کھیلا کرتے تھے، جاوید میاں داد ہمارا پسندیدہ کھلاڑی تھا، کراچی میں میچ ہوتا تو اسٹڈیم میں میچ دیکھتے تھے. جب پاکستان اور بھارت کا میچ ہوتا تو جذبات اور شوق دونوں دگنے ہوجاتے. میچ دیکھنے کا انتظام ، خصوصی دعاؤں کا احترام اور بھارت سے جیتنے کے لیے نفل مان لیتے.
پاکستانی قوم کو یک جا کرنے کے لیے ایک واحد ذریعہ "پاکستان اور انڈیا کا کرکٹ میچ” . کہیں کوئی فرقہ بندی، کوئی امارت غربت یہاں تک کہ سیاست دان بھی یک جان اور یک ملت ہوکر پاکستان کی جیت کے منتظر ہوتے ہیں. بیرون ِملک مقیم پاکستانیوں کی تو جان پر بنی ہوتی ہے کہ اگر ہار گئے تو کتنی سبکی ہوگی وہ تو اپنے کولیگز سے نظریں نہیں ملا پائیں گے اور ان کو ہمارا مذاق اڑانے کا موقع مل جائے گا.
کافی عرصہ ہوگیا تھا پاکستان کو بھارت سے میچ جیتے ہوئے یقین کریں چیمپئنز ٹرافی کا آغاز ہی ہم پاکستانیوں کے دلوں پر چھری چلاگیا تھا اور ہم زخمی دل کے ساتھ مایوس ہو چکے تھے کہ اب پاکستانی ٹیم کا خدا حافظ، لیکن ہماری ٹیم اس چوٹ کے بعد انگڑائی لےکر جاگ گئی اور پے در پے میچز جیت کر فائینل میں پہنچ گئی اب ایک بات پھر بھارت سے مقابلہ چونکہ پاکستان شروع میں ہار چکا تھا اس لیے دل ڈرے ہوئے تھے لیکن حوصلے پست نہیں ہوئے تھے ساری قوم دوبارہ سے ایک جان اور ایک زبان ہوکر پاکستان کی جیت کی دعائیں مانگ رہی تھی. سب پاکستان کی جیت کے لیے دعا گو تھے. اور واقعی میرے مولا نے کمال دکھا دیا ہم ایک بڑے مارجن سے میچ جیت گئے اور سرفراز نے پاکستان کو جیت سے سرفراز کردیا، سب نے متحد ہوکر جیت کا جشن منایا اور جیت کی خوشی میں مٹھائیاں تقسیم کیں.
واہ میری پاکستانی قوم جو عام دنوں میں ذاتوں، اور فرقوں میں بٹی رہتی ہے اس دن ایک قوم ایک جان بنی ہوئی تھی کیا خوب سماں تھا نہ کوئی دیوبندی تھا نہ کوئی بریلوی، نہ کوئی شعیہ نہ سنی، نہ کوئی پنجابی نہ سرائیکی، نہ کوئی پٹھان نہ بلوچ، نہ کوئی سندھی تھا نہ مہاجر. سب پاکستانی تھے سب مسلمان تھے یہ جیت ہر جیت پر بھاری ہے اس کا مطلب ہم سب کچھ بھول کر ایک قوم بن سکتے ہیں اور یگانگت کا مظاہرہ کرسکتے ہیں، کاش ہم ہمیشہ ایسے ہی رہیں ہمیں متحد کرنے کے لیے کسی میچ کی ضرورت نہ پڑے. ہم اس جیت کے بعد بھی اسی طرح رہیں جس طرح 18 جون کے دن پاکستانی قوم نے اتحاد کامظاہرہ کیا بہت شکریہ پاکستانی کرکٹ ٹیم قوم کو خوشی دینے اور متحد کرنے کا. سرفراز تم نے پاکستان کو دنیا میں سرفراز کردیا.
یہ سرخروئی، یہ مژدہ، تمھیں مبارک ہو
یہ فخر وجذب کا لمحہ، تمھیں مبارک ہو

Views All Time
Views All Time
433
Views Today
Views Today
1
mm

فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   ہمیں اصل شکوہ پروفائلنگ کا ہے
mm

شاہانہ جاوید

فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: