Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے-شاہانہ جاوید

by June 15, 2017 معاشرہ
ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے-شاہانہ جاوید

صبح سے انتظار ہے کب مدھوبالا تشریف لائیں اور کب پھیلا ہوا کچن اور برتنوں کا اشنان ہو یعنی دھلائی. یہ ہماری وہ مہربان ہیں جو ہفتے میں دو چھٹیاں تو ضرور مارتی ہیں ہائے باجی کل چھوٹی کو بخار ہوگیاتھا اس لیے نہیں آئی کبھی چھوٹے کو موشن آگئے، کبھی چرسی میاں نے اتنا مارا کہ ہلا بھی نہیں جارہا تھا. آپ کہیں گے ہم انھیں مدھو بالا کیوں کہہ رہے ہیں تو جناب چاہے کتنی ہی پریشان کیوں نہ ہوں کتنی ہی تکلیف میں ہوں، محترمہ کے چہرے پہ ایک ٹیڑھی مسکراہٹ سجی رہتی ہے. صبح آتے ہی سلام کے بعد باجی جی پہلے چائے پلاؤ جسم میں گرمی چستی آئے تو کام شروع کروں.پہلے ہم ان کی خاطر داری کرتے ہیں جب جاکر وہ کام شروع کرتی ہیں اور کام کے ساتھ ساتھ اتنی باتیں اور محلے بھر کے قصے سنا سنا کر پکا دیتی ہیں ہمیں کہناہی پڑتا ہے بس کر بھئی اتنی غیبت نہیں کرتے. ان کے پاس مشوروں کا ٹوکرا بھی ہے جو وقفے وقفے سے ہم پر انڈیلتی رہتی ہیں باجی آپ بھی نا وہ نان اسٹک پتیلیاں لے لو مانجھنے کا جھنجھٹ ہی ختم. ہا ہائے یہ کیا صبح سے گوشت گلانے کے لیے چڑھا دیتی ہیں، کوکر میں پکاؤ منٹوں میں گل جاتا ہے اب ہم اسے کیا بتائیں پریشر کوکر سے ہمیں ڈر لگتا ہے کب ہمارے ملکی نظام کی طرح پھٹ جائے اور چاروں طرف سالن بکھرا ہوا ہو ہم کپڑوں پر چپکی بوٹیاں نوچ رہے ہوں سیاستدانوں کی طرح جنہیں اس ملک سے سب کچھ لوٹ کھسوٹ کر بھی سکون نہیں ملتا. مدھو بالا جی پریشر کوکر میں کھانا مزےکا نہیں پکتا وہ ہم پر ایک مسکراہٹ نچھاور کر کے نیا حکم صادر کرتی ہیں باجی آپ بھی نا سامنے لال کوٹھی والی بیگم کی طرح موپ خرید لیں سچی پوچھا لگانے کا مزا تو موپ میں ہے ہم ابھی اپنے دفاع میں کہنے والے ہی ہوتے ہیں کے ایک اور اعلان صادر ہوتا ہے باجی آج کپڑے زیادہ ہیں مشین لگالیتی ہوں چلو بھئی ہمیں مانتے ہی بنتی ہے دیکھو رنگین کپڑے ہاتھ سے دھونا ، کوئی پرواہ نہیں باجی جی.
ایک اور مہرباں ہیں مالی صاحب جی انھیں صاحب اس لیے کہا کہ وہ اپنی مرضی سے آتے ہیں اپنی مرضی کے وقت پر کبھی دس بجے دن کو کبھی چار بجے آتے ہی پانی کا ایک گلاس ان کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے یہ ان کا فرمان ہے. تھوڑا سستانے کے بعد لان کی صفائی شروع کرتے ہیں چونکہ ہمیں باغ بانی کا شوق ہے اس لیے ہم بھی ان کے ساتھ ساتھ پودوں کی دیکھ بھال میں لگ جاتے ہیں، باجی کھاد ڈالے دن ہو گئے کھاد کی دو بوریاں لے آتا ہوں ساتھ مٹی بھی. ارے بھیا ابھی پندرہ دن پہلے تو کھاد ڈالی تھی اتنی جلدی جلدی کھاد نہیں ڈالتے پودے جل جاتے ہیں، اگر غلطی سے کھاد ڈالنے کا کہہ دو تو باجی تین سو کی بوری ہوتی ہے دو بوری کے چھ سو دے دیں، بھیا ہم خود نرسری گئے تھے ڈیڑھ سو کی بوری ہوتی ہے لیکن مہربان کی مہربانی سے پیسے دینے پڑتے ہیں جی یہ ہے زبردستی کی ٹھگی.
ایک اور مہرباں ہیں سبزی والے جی روزانہ زبردستی بیل بجا کر سبزی خریدنے کا مشورہ دیتے ہیں باجی آج پیاز سستا ہے، آج آلو لے لیں، ٹماٹر کے بھاؤ گر گئے ہیں ہم منع کرتے رہیں گے کہ کچھ نہیں لینا، باجی بوہنی نہیں ہوئی آپ لے لیں بسم الله کرکے اب چونکہ ہم نرم دل بھی ہیں بلاوجہ ہی کچھ نہ کچھ خرید لیتے ہیں بعد میں سوچتے ہیں حضرت کچھ مہنگا نہیں دے گئے .
ہاں دودھ والے مہربان کا تو ذکر ہی نہیں آیا وہ محترم صبح ہی صبح بیل پر ہاتھ رکھ کر ہٹانا بھول جاتے ہیں جب تک سارا گھر نہ اٹھ جائے گیٹ تک جاتے جاتے سو آوازیں لگائیں سنتے ہی نہیں ہم شکایت کریں کہ کل دودھ پھٹ گیا تھا، باجی آپ نے ڈیپ فریزر میں نہیں رکھا ہوگا. دودھ پتلا آرہا ہے پانی ملارہے ہو کیا نہیں جی بھینس ہی کچھ زیادہ دودھ پی لیتی ہے چارہ کم کھارہی ہے ایسا ہی دودھ دےرہی ہے سنی آپ نے منطق، سائنس کو بھی مات دے دی.
آخری مہرباں تو رہ ہی گئے جی کچرا اٹھانے والےمحترم وہ ہمارے لیے محترم ہیں کیونکہ ہمارے گھر کا سارا کچرا اٹھا کر صفائی کردیتے ہیں. ان کا انداز ہی نرالا ہے کبھی روز آتے ہیں کبھی دو دو دن نہیں آتے ہم ان کی خاطر کچرا سنبھال سنبھال کر رکھتے ہیں آپ سوچ رہے ہوں گے سنبھال کر کیوں، کیونکہ ان کا نادر شاہی حکم ہے کہ باجی گیلا کچرا الگ تھیلی میں، گتا کاغذ کا کچرا الگ تھیلی میں ، خالی شیشے کی بوتلیں اور چھوٹی موٹی ٹوٹی پھوٹی اشیاء الگ ہم ان کی خاطر کچرا چننے والوں کی طرح پہلے کچرا بینتے ہیں پھر الگ الگ باندھ کر رکھتے ہیں کہ جناب جب آئیں گے تو ہم ان کے حوالے یہ خزانہ کریں گے.
کبھی ہم سوچتے ہیں جب ہم ملک سے باہر رہتے تھے تو یہ سب کام منٹوں میں نبٹا لیتے تھے اور ا س کے علاوہ بھی دوسرے کام کرتے تھے یہ اپنے ملک میں آکر ہم کس طرح کے مہربانوں میں پھنس گئے ہیں لیکن جناب چونکہ ہمارا ملک ایک الگ مزاج کا ہے اس لئے یہ انداز بھی یہاں پر برداشت کرنا پڑرہا ہے ان مہربانوں کے بغیر زندگی محال ہے اور اگر یہ نہ ہوں تو اکیلے یہ سب کام کرنا ممکن نہیں یہاں ہم سب ایک بڑے خاندان کی صورت میں رہتے ہیں جہاں دکھ سکھ سانجھے ہیں اور ان مہربانوں کا ہونا بھی ضروری ہے. ٹرن ٹرن بیل کی آواز ہمیں ہوش میں لے آئی کہیں مدھوبالا واپس نہ چلی جائیں تو ہم تو چلے گیٹ کھولنے اور آپ لوگوں کے لیے یہ تحریر چھوڑے جارہے ہیں پڑھئیے اور سر دھنئیے.

مرتبہ پڑھا گیا
114مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: