Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مجھے میرے رشتہ داروں سے بچاؤ | شاہانہ جاوید

by June 9, 2017 بلاگ
مجھے میرے رشتہ داروں سے بچاؤ | شاہانہ جاوید

آج ہمیں بے ساختہ جماعت دہم میں پڑھا سجاد حیدر یلدرم کا مضمون ” مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ” یاد آ گیا۔ ہماری کیا حیثیت کہ ہم ان کے مضمون پہ کچھ کہیں لیکن ہم جس تجربے سے گذرے ہیں تو ہمارا یہ کہنا واجب ہے ” مجھے میرے رشتہ داروں سے بچاؤ” جی ایسے رشتہ دار جو خدائی فوج دار کی طرح آپ کی زندگی میں آدھمکتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے کہے پہ من وعن عمل کیا جائے، ان کی خاطر تواضع میں کوئی کمی رہ جائے تو طعنہ ملتا ہے کہ مہمان کا خیال نہیں رکھا کنجوس ہیں، اگر ان کی خاطر تواضع میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھا تو کہا جاتا ہے فضول خرچ ہیں میاں کی کمائی کو لٹارہی ہیں. اب کوئی ان کی خاطر داری نہ کرے تو باتیں الگ سننے کو ملتی ہیں. اس طرح کے رشتہ داروں کی خاصیت ہوتی ہے کہ گھر کی ہر چیز کا بغور جائزہ لیتے ہیں پھر مشوروں کا ٹوکرا الٹ دیتے ہیں. ارے صوفے کے کپڑے کا رنگ پردوں سے میچ نہیں کرتا، تمھیں کلر اسکیم کی سینس نہیں، اب جناب انھیں کیا بتائیں کہ ایک مشہور دکان سے پردے اور صوفے کے کور بنوائے گئے ہیں، ارد گرد کا جائزہ لینے کے بعد ہمارا جائزہ لیا جا تا ہے، ارے اتنی دبلی ہو رہی ہو اچھی غذا کھایا کرو ہر وقت لکھنے پڑھنے میں لگی رہتی ہو کالم نگاری میں کیا رکھا ہے جان ہے تو جہان ہے. ان کا جملہ سن کر ہمارا خون جو جلا اس کا کیا حساب.
یہ ایسے رشتے دار ہیں جنھیں ہماری ذات سے لے کر ہمارے گھر کی ایک ایک چیز پہ تنقید کا حق نہ جانے کس نے دے دیا. ہم چپ چاپ سن کر سوچتے ہیں جناب آپ نے کیا کلر پہنا ہوا ہے کتنے آؤٹ آف فیشن کپڑے ہیں لیکن چپ رہتے ہیں کیونکہ یہ ہمارا وطیرہ نہیں. بچوں کی خیریت ایسے پوچھیں گے جیسے کوئی تفتیش کی جارہی ہو ارے اتنا وقت ہو گیا بیٹی ابھی تک نہیں آئی نظر رکھا کرو، زمانہ خراب ہے، ہم منہ کھول کر یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ چچی ابھی آپ کی بیٹی آپ کو چھوڑ کر کہاں گھومنے گئی ہے .
ایسے بھی رشتے دار ہیں جو آتے ہیں تو جانے کا نام نہیں لیتے اب بندے کو کوئی کام ہے کہیں جانا ہے ملاحظے میں بیٹھا ہے، بزرگ کہتے ہیں مہمان اللہ کی رحمت ہیں، ضرور ہیں سر آنکھوں پہ لیکن جب یہ رحمت زحمت میں بدلنا شروع ہوتی ہے تو یہی رشتہ دار ہوتے ہیں جو پرانے گڑے مردے اکھاڑ کر جنگ کا آغاز کردیتے ہیں ، ارے آپا یہ بات تو ختم بھی ہوگئی تھی معافی تلافی بھی ہو گئی تھی اب دوبارہ کیوں اکھاڑ رہی ہیں. ارے میں اپنے نام کی نہیں جب تک اس کا سکون برباد نہ کرلوں، اب ہم پنگ پونگ کی بال بنے کبھی انھیں کبھی مخالف کو سمجھا رہے ییں. گھر میں سکون کے بجائے ایک تناؤ کا ماحول بن جاتا ہے اس وقت ایک ہی جملہ منھ سے نکلتا ہے ” مجھے میرے رشتہ داروں سے بچاؤ” .
ایک اور قسم کے رشتے دار ہوتے ہیں چلتے پھرتے مشورہ دان جی ہاں اتھتے بیٹھتے ، فون پر، گھر ملنے آئیں تب ہزارہا مشورے دیئے جاتے ہیں اگر وہ میکے کی طرف کے رشتے دار ہیں تو شوہر کو قابو کرنے کے مشورے، سسرال والوں کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکنے کے مشورے، اگر یہی سسرالی رشتے دار ہیں تو شوہر کو ، بیوی کو پیر کی جوتی کیسے بناتے ہیں کا مشورہ دیتے ہیں، بیوی کے گھر والوں کی عزت دوکوڑی کی کیسے کی جاتی ہے بھلے محترمہ اپنے گھر میں ہٹلر بنی رہتی ہوں لیکن بھاوج کو نوکرانی کے روپ میں دیکھنا چاہتی ہیں خدا کے بندو، دوسروں کے گھروں کا سکون خراب کرنے کے بجائے پیار محبت سے رہنے دو ان مشوروں کا احسان کرنے کے بجائے کوئی احسان نہ کریں.
رشتہ داری کے بھی اصول ہوتے ہیں، جس سے بھی ملیں برابری کی بنیاد پہ ملیں کبھی کسی کو کمتر نہ سمجھیں، رشتوں کا احترام کریں اور دوسروں کی عزت کریں. کسی کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہ کریں، یاد رکھیں جہاں سے دوسرے کی ناک شروع ہوتی ہے وہاں پہ آپ کی آزادی ختم ہو جاتی ہے. رشتوں کی خوب صورتی کو قائم رکھیں تاکہ ماحول میں محبت اور سکون ہو ورنہ جھگڑنا بہت آسان ہے پھر یہ کہنا آسان ہوگا ” مجھے میرے رشتہ داروں سے بچاؤ!

مرتبہ پڑھا گیا
196مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: