Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مہنگائی کا جن | شاہانہ جاوید

مہنگائی کا جن | شاہانہ جاوید

جی ہاں مہنگائی کا جن جس نے ہمارے پورے معاشرے کو اپنے قابو میں کیا ہوا ہے. ہر طرف ہاہا کار مچی ہوئی ہے کہ ہائے مہنگائی ، ہائے مہنگائی۔ جس چیز کو دیکھو اس کے دام آسمان سے باتیں کر رہے ہیں لوگوں کی قوت خریدجواب دیتی جا رہی ہے. مرد کماکما کر پریشان ہیں اور گھریلو عورتیں سمجھ ہی نہیں پارہیں کہ مہنگائی کہ اس جن کو کیسے قابو کریں جو عورتیں جاب کرتیں ہیں، باہر نکلتی ہیں وہ زیادہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ کس قدر بے ہنگم مہنگائی ہے. کس طرح مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے اور کس طرح پیسہ پانی کی طرح رل رہا ہے اور کچھ حاصل بھی نہیں ہوتا.
مہنگائی لفظ کا مطلب ہے گرانی، زیادہ داموں پہ چیزوں کا ملنا ۔ جس چیز کی طلب زیادہ ہوتی ہے منافع خور اس چیز کے دام بڑھا دیتے ہیں اور منہ مانگے دام وصول کرتے ہیں. تجارت کے اصول میں کاروبار مناسب منافع رکھ کر ہی کیا جاتا ہے لیکن جب منافع کی مقدار زیادہ لی جاتی ہے تو چیز کی قیمت بڑھا دی جاتی، چونکہ اس وقت ضرورت ہوتی ہے تو صارف ہر قیمت پہ خریدنے کو تیار ہو جاتا ہے اور یہی وہ اسٹیج ہے جب منافع خور اپنی مرضی کا منافع وصول کرتے ہیں.
مہنگائی کی قسمیں ہیں ایک مہنگائی موسم کے حساب سے ہوتی ہے، ایک تہواروں کے حساب سے، ایک مہنگائی تاجروں کی مرضی سے ہوتی ہے. موسم کے حساب سے مہنگائی یعنی گرمیوں کے موسم میں جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، طلب ہوتی ہے ان کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں مثلاََ لان کے کپڑے گرمیوں میں پہنے جاتے ہیں، ان کی خریداری بڑھ جاتی ہے تو ان کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں اب ہمیں ضرورت ہے تو ہم مہنگے داموں بھی خریدتے ہیں. ایک معمولی سی چیز برف ہے گرمی کے موسم میں برف کے دام بہت بڑھ جاتے ہیں اور غریب ٹھنڈے پانی سے بھی محروم ہوجاتا ہے. ایسا ہی سردی کے موسم میں ہے گرم کپڑوں کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور ڈرائی فروٹ تو بہت ہی مہنگا ہو جاتا ہے. لوگ مجبوراً مہنگا ہی لینے پر مجبور ہوتے ہیں . بڑے بڑے شاپنگ سینٹر اور اسٹورز سیل بھی اس وقت لگاتے ہیں جب موسم کا اختتام ہوتا ہے. تہواروں کے حساب سے مہنگائی ہمارے ملک کا مزاج بن چکا ہے. دنیا بھر میں تہواروں پہ ہر چیز سستی کی جاتی ہےجبکہ ہمارے ملک کا باوا آدم ہی نرالا ہے تہواروں پہ جس قدر لوٹا جاتا ہے اس کا جواب نہیں رمضان، عید، بقرعید اور قابل احترام مہینے محرم میں مہنگائی کا طوفان بدتمیزی مچا ہوتا ہے. رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے ہی سبزیوں اور پھلوں کے دام بڑھنے شروع ہو جاتے ہیں اب لوگوں کو افطار کے لیے پھل بھی لینا ہوتا ہے جس میں سکت ہوتی ہے تو وہ منہ مانگا دام دے کر خریدتے ہیں جب کہ یہی پھل رمضان سے پہلے سستے تھے، بابرکت مہینہ شروع ہوتے ہی قیمتیں بڑھنا شروع ہوجاتی ہیں اگر گاہک کچھ کہے تو ڈھٹائی سے کہتے ہیں” صاحب جی برکتوں والا مہینہ ہے ” یا پھر دھتکار دیتے ہیں ” لینا ہو تو لو ورنہ راستہ ناپو ” . ایسا ہی عید، بقرعید پہ ہوتا ہے پیاز، ادرک ،لہسن، ٹماٹر،لیموں، ہری مرچ ہرادھنیا تک مہنگا ہوجاتا ہے جسے لوگ مہنگا لینےبپر مجبور ہو جاتے ہیں. عید پہ جوتوں کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں. عید قرباں پہ تو قربانی کے جانور جو چند ہزار کے تھے انکی قیمت لاکھوں میں پہنچ جاتی ہے. کیا کریں کیا نہ کریں غرض منافع خوروں کو ہر حال میں عوام کو لوٹنا ہے چاہے وہ بڑے بیوپاری ہوں یا ٹھیلے والے. اگر کوئی غریب ٹوکتا ہے تو لڑنے مرنے پر تل جاتے ہیں.
مہنگائی کی ایک قسم وہ ہوتی ہے جو ہر دکاندار ، ٹھیلے والے، بڑے اسٹورز اپنے حساب سے چیز کے دام مقرر کرتے ہیں، اگر غریب بستی ہے تو چیز کم دام میں دیں گے اور بنگلے کوٹھی کا علاقہ ہے تو وہی چیز دگنے دام میں بیچیں گے. پوش علاقوں میں اسٹورز اور مارکیٹ والے اپنے بجلی کے خرچے اور دوسرے اخراجات مہنگی اشیاء فروخت کرکے پورے کرتے ہیں. ہر چیز پر اپنی مرضی کے دام. ان بڑے اسٹورز کی سیل کا حال بھی عجیب ہے جن چیزوں کی ایکسپائری قریب ہو وہ چیزیں سیل کے نام پر بیچی جاتی ہیں لوگ سستا سمجھ کر پھنس جاتے ہیں اور زیادہ خرید لیتے ہیں بعد میں سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں. دو تین نامور اسٹورز تو ہر طرح کا سامان دو نمبر بنوا کر بیچتے ہیں اور اصل کی قیمت وصول کرتے ہیں. تاجروں نے ہر چیز کی تین کیٹیگریز بنائی ہوئی ہیں اور اسی حساب سے قیمتیں، لیکن بیچتے وقت دو نمبر مال اصل قیمت پر بیچتے ہیں.
مہنگائی میں اضافے کے ہم عوام بھی ذمہ دار ہیں منہ مانگے دام پر چیز نہ لیں اگر ذرا دیکھ بھال کر چھان پھٹک کر چیز لیں تو ضرور کم قیمت پر اچھی چیز مل جائے گی. ایک طبقہ ہے جو کالے دھن کی پیداوار ہے انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا وہ ہر چیز منہ مانگے دام پر خریدتے ہیں بلکہ ٹیگ پر لگی قیمت بھی نہیں پڑھتے اور کاؤنٹر پر پیسے ادا کرکے یہ جا وہ جا . شاید اسی وجہ سے حلال کمائی والا مار کھا جاتا ہے.
اس مہنگائی کے جن کو قابو کیسے کیا جائے اس کے لیے عوام ہی کچھ کر سکتی ہے کیونکہ ارباب اختیار اور حکومت کے تو کان پرتو جوں تک نہیں رینگتی بلکہ عوام نے مہنگے پھل نہ خریدنے کی مہم چلائی تو کمشنر اور متعلقہ آفیسرز بھی کہنے لگے ہم بھی اس مہم میں شریک ہیں ارے عقل کے اندھو، تمھارے پاس اختیار ہے تم قیمتیں کنٹرول نہیں کرسکتے.
عوام مہنگائی کو کم کرنے کے لیے پہلا اصول تو یہ اپنائیں کہ اس چیز کا استعمال کم یا ترک کردیں تو شائد دکاندار مناسب قیمت پر چیز بیچیں، اپنی ضرورت سے قطعی زیادہ نہ لیں بلکہ تھوڑا کم ہی لیں، مہنگی اشیاء کا بائیکاٹ کریں جو ضروری ہو اس کی خریداری کریں. بلاوجہ بازاروں کے چکر نہ لگائیں. مہنگائی سے سب سے زیادہ اوسط طبقہ متاثر ہوتا ہے. جو سر ڈھکتا ہے تو پیر کھلتے ہیں اور پیر ڈھکتا ہے تو سر کھلتا ہے. سفید پوشی کا بھرم رکھتے رکھتے انسان سفید کفن پہن کر دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے ۔
تعلیم مہنگی، علاج مہنگا، ٹرانسپورٹ مہنگی، کھانے پینے، پہننے کی اشیاء مہنگی سستی ہے تو صرف موت جس کی کوئی قیمت نہیں.
جن کے اختیار میں ہے مہنگائی کنٹرول کرنا وہ بھی کہتے یین کہ سب مل کر بائیکاٹ کرو مہنگائی ختم کرنے کے لیے کوئی پوچھے بندہ خدا یہ کام تمھارے اختیار میں ہے تم قیمتیں کم کرواؤ تم بھی رونا رو رہے ہو.
اب عوام کو ہی مہنگائی کے جن کو قابو کرکے اپنے انجام کو پہنچانا ہے تو اہل اقتدار سوچ لو یہ عوام جاگ گئی تو کچھ دن بعد تمھارے پایہ تخت کو بھی اکھاڑ پھینکے گی کیونکہ جب عوام بیدار ہو گئی تو کوئی نہ روک سکے گا اس سیلاب بلا کو اور ہر ظلم اس کے ساتھ بہہ جائے گا
عام آدمی زندہ باد عوام زندہ باد

mm
فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔
Views All Time
Views All Time
314
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: