Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

خالہ | شاہانہ جاوید

خالہ | شاہانہ جاوید

ہم بچیاں قرآن پڑھنے خالہ کے گھر جاتے تھے. مجھے وہاں جانا اچھا لگتا تھا. مجھے خالہ بہت اچھی لگتی تھیں. خالہ کاچہرہ سفید دوپٹہ میں لپٹا اتنا نورانی لگتا تھا کہ ہم اس کو دیکھتے رہتے اور وہ ڈپٹ کر سبق دہرانے کا کہتیں، بچیوں کی بھنبھناہٹ ایک شور میں تبدیل ہوجاتی اور اللہ کے کلام کی روحانی آواز گونجنےلگتی.
خالہ اکیلی ہی رہتی تھیں لیکن وہ اکیلی کب تھیں ان کے گھر ایک میلہ لگا رہتا، بچیوں کی رونق، قرآن پڑھنے کی روحانی آواز ہر طرف گونجتی رہتی تو نوجوان لڑکیاں خالہ سے سلائی کڑھائی سیکھنے آتیں، ہر طرف رنگین آنچل لہراتے اور شوخ چنچل ہنسی ہوا میں بکھر جاتی. عورتیں خالہ سے مشورہ لیتیں اور کھانا پکانےکے نت نئے طریقے سیکھتی تھیں. گھر سے لڑکیوں کی آوازیں آتیں ان کو سن کر گلی میں آتے جاتے لڑکے بالے کچھ دیر کو رک جاتے پھر خالہ کی ڈانٹ سن کر آگے بڑھ جاتے.
ہم نے خالہ کو ایسا ہی دیکھا تھا امی ہمیں چارسال چار ماہ کی عمر میں خالہ کے پاس بٹھا کر آئی تھیں کہ قرآن پاک کی تعلیم حاصل کر سکیں لیکن ہمارا دماغ ہی نہیں لگ رہا تھا آج ہم گیارہویں سال میں تھے اور پچیسواں سیپارہ پڑھ رہے تھے، خالہ کو فکر تھی کہ بارہواں سال لگنے سے پہلے قرآن ختم ہو جائے، ان کا کہنا تھا بچیوں کا کم عمری میں قرآن ختم کرنا اچھا ہوتاہے. ساری ڈانٹ ڈپٹ ہمارے حصے میں آتی لیکن خالہ ہمیں سبق یاد کروا کرہی چھوڑتیں. چھٹی کے وقت قریب بلا کر ماتھے پر پیار کرنا نہ بھولتیں، جس کا لمس ہم آج تک نہیں بھولے.
خالہ کو ہم نے ہمیشہ سادہ حال میں دیکھا، کھانے کا وقت ہوتا کسی بھی شاگرد سے چٹنی پسوا کرایک روٹی پر رکھ کر کھا لیتں اور گھڑے سے پانی پی کرشکر ادا کرتیں. اللہ تونے بہت دیا سب کو دے یہ ان کا مخصوص جملہ تھا.
اگر کبھی کوئی لڑکی اپنے گھر سے کچھ بنوا کر لے آتی تو وہ بچیوں میں تقسیم کر دیتیں. میں پوچھتی خالہ آپ نے کیوں نہیں کھایا تو کہتیں میرے اللہ نے میرے لیے جو لکھا ہے میں وہی کھاتی ہوں. میں کہتی چٹنی روٹی لکھی ہے خالہ مسکرا کر دیکھتیں اور سبق پڑھنے کا اشارہ کرتیں.
ایک کمرے کا گھر اور صحن، صحن میں لگا نیم کا درخت جس کے نیچے خالہ کا تخت اور بچیوں کے لیے چٹائی بچھی ہوتی. کمرے میں ایک پلنگ اور کونے میں ایک بکس اور دیوار پہ ایک آیئنہ خالہ کی کل کائنات تھا. بکس میں صرف تین جوڑے کپڑےاور چوتھا جوڑا تن پہ، سب جوڑوں کے ساتھ دوپٹے سفید. خالہ کو صفائی پسند تھی وہ گھر اور کمرے کو ہمیشہ صاف اورصحن کو لیپا پوتا رکھتیں، اکثر تو کوئی بھی بچی یہ کام کر دیتی. فجر سے پہلے اٹھنے والی خالہ سارا دن چھوٹے چھوٹے کام کرتے گزار دیتیں لیکن ان کا گذارہ کڑھائی کئے ہوئے کرتوں اور قمیضوں پر ہوتا. اتنی خوبصورت کڑاہی کرتیں لگتا سفید کرتوں پر پھول پتے کھل اٹھے ہیں. ہر کرتے کی کڑاہی میں اتنی نفاست کہ دیکھنے والافوراً خرید لیتا. ہر کرتا الگ ڈیزائین کا بناتیں. محلے کے سید صاحب ان کا یہ مال شاہی بازار لےجا کر دوکان پر بیچ آتے اور سب پیسے لاکر خالہ کو دے دیتے.
خالہ نے کبھی کسی کو اپنے بارے میں نہ بتایا گذشتہ پچیس سال سے وہ اس محلے میں رہ رہی تھیں، سب ان کا احترام کرتے تھے اور عزت دیتے تھے. کبھی میں پوچھتی خالہ آپ کے بچے نہیں ہیں تو ہنس کر کہتیں تم لوگ ہو نا اور بات کا رخ موڑ دیتیں. ہم نے کبھی کسی کو ان سے ملنے آتے نہیں دیکھا نہ سنا، نہ کبھی کوئی خط یا پارسل آتے دیکھا ایسا لگتا جیسے خالہ کا اس دنیا میں کوئی نہیں. بس جو کچھ تھے ہم سب محلے والےتھے.
ایک دن صبح شور شرابے سے آنکھ کھلی تو ابا امی کو دروازے کی طرف جاتے دیکھا ہم بھی ان کے پیچھے بھاگے باہر نکل کر دیکھا خالہ کے گھر کے دروازے پہ نئی چمکتی گاڑی کھڑی ہے , درمیانی عمر کا آدمی اورایک گوری خوب صورت میم خالہ کا دروازہ کھٹکھٹا رہے تھے اوروہ آدمی دروازہ کھلوانا چاہ رہا تھا اور خالہ چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں واپس چلا جا رضوان واپس چلا جا رضوان۔
میں نے تیرا نام رضوان اس لیے رکھا تھا کہ اس کا مطلب جنت کے دروازے کا محافظ ہوتا ہے لیکن تو نے اس فرنگن سے شادی کرکے میرے لیے جنت کا دروازہ بند کر دیا اب مجھے اس کا کفارہ ادا کرنے دےاور یہ کہتے کہتے ان کی آواز ہلکی ہو گئی.
اب ایک خاموشی چھا گئ سب نے رضوان کو سمجھایا کہ تم یہاں سے چلے جاؤ ان کو سکون سے رہنے دو. اس کا کہنا تھا کہ ایک نظر دیکھ کر چلا جاؤں گا. اب دروازہ پیٹا جا رہا تھا لیکن کھلنے کا نام نہیں لے رہا تھا آخر ایک لڑکا دیوار پھاند کر اندر دا خل ہوگیا اور دروازہ کھول دیا سب اندر داخل ہوئے لیکن خالہ یہاں نہیں تھیں کمرے کا دروازہ کھلا تھا رضوان بھاگ کر کمرے میں گیا تو دیکھا خالہ پلنگ پر بے سدھ پڑی تھیں اور ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی تھی. رضوان پلنگ کی پٹی پکڑے بے آواز رو رہا تھا ما ں مجھے معاف کردو، ماں مجھے معاف کردو۔۔

mm
فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔
Views All Time
Views All Time
396
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

One commentcomments

جواب دیجئے

%d bloggers like this: