Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پکوڑوں کا موسم | شاہانہ جاوید

پکوڑوں کا موسم | شاہانہ جاوید

جی جس طرح اللہ نے چار موسم بنائے ہیں لیکن ہم بندوں نے ایک خود ساختہ موسم بنالیا جو ہے ” پکوڑوں کا موسم” جی جناب یہ موسم صرف ایک ماہ رہتا ہے وہ ہے رمضان کا مہینہ، اس مہینے میں قوم جتنے پکوڑے کھاتی ہے اس کا حساب نہیں.
پکوڑا” بیسن، پیاز، ہری مرچ، ہرا دھنیا اور مصالحوں سے بنی ایسی چیز ہے جو اسنیکس کے علاوہ ڈش کے طور پہ بھی کھائی جاتی ہے. پکوڑا زیادہ تر پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال میں بنتا اور کھایا جاتا ہے. کہا جاتا ہے کہ مغلوں کے زمانے میں بیسن کا آٹا گھولتے ہوئے پتلا ہونے پہ شاہی باورچی نے پیاز ہری مرچ ہرا دھنیا اور مصالحے ڈال کر تلنے کا تجربہ کیا اور نام پکوڑا رکھ کر شاہی دستر خوان کی زینت بنایا ، بادشاہ کی پسندیدگی کی سند ملتے ہی پکوڑوں کی بہار آگئی قسم قسم کے پکوڑے بنائے گئے جیسے آلو، پالک، بیگن، پیاز ، ثابت ہری مرچ کے پکوڑے بننے لگے آجکل تو چیز، چکن، قیمے کے علاوہ ایک اور قسم ایجاد ہوئی ڈبل روٹی میں آلو میش کرکے بھر کے بیسن کے ساتھ تلتے ہیں اور یہ بریڈ پکوڑا کہلاتا ہے. پکوڑوں سے ایک ڈش بھی بنتی ہے ” کڑھی ” اور یہ چاول سے مزے لیکر کھائی جاتی ہے.
پکوڑا ایسی چیز ہے جو غریب روٹی کے ساتھ کھا کر پیٹ بھرتا ہے اور امیر چائے کے ساتھ اسنیکس کی طرح کھاتا ہے. پکوڑوں کا اصل مزا تو برسات میں ہے، ادھر بارش کا چھینٹا پڑا اور پکوان کے لیے کڑھائی چڑھادی، پکوڑے گلگلے تلے جارہے ہیں چٹنی کے ساتھ مزا دوبالا ہو جاتا ہے. برسات میں پکوڑے کھانے کی بھی ایک سائنس ہے کسی عقل مند بزرگ نے ہی یہ ریت ڈالی، بارش میں ہیومیڈٹی زیادہ ہو تی ہے، ہم پانی کم پیتے ہیں مگر جب پکوڑے کھاتے ہیں تو پانی کی طلب بڑھتی ہے اور پانی زیادہ پیا جاتا ہے جس سے پانی کی کمی نہیں ہوتی شاید یہی لاجک افطار میں لاگو ہوتی ہے جب روزہ کھولنے کے بعد پکوڑے کھائے جاتے ہیں تو پانی کی طلب بڑھ جاتی ہے، پانی زیادہ پیا جاتا ہے جس سے پانی کی طلب بڑھتی ہے اور پانی زیادہ پیا جاتا ہے اور جسم میں پانی کی کمی پوری ہوجاتی ہے. ہمارے پاکستان میں افطار میں پکوڑا اور لال شربت لازم وملزوم ہیں، کہنے والے کہتے ہیں افطار کا مزا پکوڑوں کے بغیر نہیں۔ بندہ خدا پکوڑا نہ ہوا وٹامن کا کیپسول ہو گیا کہ جسم کو طاقت پہنچا رہا ہے. رمضان میں پکوڑا ہر ایک کے دستر خوان کی زینت بنتا ہے راہ چلتے افطار کا وقت ہو گیا لوگ پکوڑے اور پانی سے روزہ کھول لیتے ہیں. اس ماہ میں بیسن کا خرچہ بھی بڑھ جاتا ہے کہ پکوڑوں کی بہار ہوتی ہے اور خاتون خانہ اپنے ہاتھوں کے ہنر کو آزماتی ہیں اور نت نئے پکوان کے ساتھ ساتھ پکوڑوں کو دستر خوان کی زینت بناتی ہیں.

پکوڑوں کی تاریخ اور اہمیت بتاتے بتاتے ہم تو بھول ہی گئے کہ افطار کے لیے بیسن گھول کر رکھنا ہے تاکہ خستہ اور نرم پکوڑے بنیں جی ہاں پکوڑوں کے بنانے میں اہم گر یہی ہے کہ بیسن دو تین گھنٹے پہلے گھول دیا جائے تو جناب ہم چلے بیسن گھولنے اور آپ پڑھیں ہماری تحریر.

mm
فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔
Views All Time
Views All Time
344
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: