Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ہم محنت کش عورتیں | شاہانہ جاوید

by مئی 25, 2017 بلاگ
ہم محنت کش عورتیں | شاہانہ جاوید

ہم اعلی تعلیم یافتہ ہوں، امیر ہوں، اوسط طبقے کی ہوں، ان پڑھ ہوں یا غریب ہوں ہم عورتوں کے نصیب میں محنت لفظ لکھ دیا گیا ہے. محنت میں کوئی عار نہیں لیکن عورت تو بنی ہی محنت کرنے کے لیے ہے دن بھر گھر بچوں کی ذمہ داری سنبھالنی، رات میں جسمانی مشقت لیکن اس عورت کے ماتھے پہ شکن بھی نہیں آتی دوسرے دن پھر سے کہولو کا بیل بننے کو تیار.
گھریلو عورت ہو تو صبح سے بچوں کے کام اسکول بھیجنا، شوہر کی ناز برداری، اس کے علاوہ گھر میں جو بھی افراد ہیں ان کے کام ذرا حالات اچھے ہوں تو ماسی لگالی لیکن ماسی نہ ہو تو سارے کام خود ہی کرنے، بچوں کو پڑھانا، ان کی ضروریات کے لیے جمع شدہ پونجی میں سے خرچ کرنا، شام کو شوہر گھر آئے تو اس کے کام لیکن اس کے باوجود ایک مخصوص جملہ سننے کو ملتا ہے ” دن بھر کرتی ہی کیا ہو ” کیونکہ یہ ان کی نظر میں کام ہی نہیں. اب جناب انھیں کون بتائے کہ یہ سب کام جادو کی چھڑی سے نہیں ہوتے انہی دو ہاتھوں سے ہوتے ہیں جو اللہ نے دیئے ہیں، زرا حلیہ خراب ہو تو میاں صاحب ادھر ادھر کی مثالیں دینے بیٹھ جائیں گے، کھانے میں گرم روٹی نہ ملے تو سستی اور کام چوری کے طعنے، رات کو تمام کام نبٹا کر سونے آؤ تو میاں کے پاؤں دابو یا ان کے چونچلے اٹھاؤ. اس سب میں دن بھر کی تھکی ماندی عورت سے غفلت ہوجائے تو ایک ہزار صلواتیں الگ. یہ ہے ایک عام پاکستانی گھرانے کی ہر اس عورت کا قصہ جو جاب نہیں کرتی لیکن جاب نہ کرتے ہوئے ہوئے بھی وہ اتنی ساری ذمہ داریاں نبھاتی ہے وہ بھی بنا تنخواہ کہ اس کی زندگی تمام ہو جاتی ہے یہ عورت بچوں کی تعلیم وتربیت کے لیے اپنے آپ کو گھسا لیتی ہے اگر جوائنٹ فیملی سسٹم ہو تو گھر والوں کے لیے قربانیاں الگ دیتی ہے.
ایک اور محنت کش عورت ہے جو محنت کے ساتھ ساتھ عظمت کی بھی اعلیٰ مثال ہے وہ جاب کرنے والی عورت جو گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ نوکری بھی کرتی ہے سمجھیں جہاد کرتی ہے. جاب کرنے والی عورت کے تمام کام گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں. ان کا ہر کام ٹائم ٹیبل کے حساب سے ہوتا ہے، آج کل زیادہ تر عورتیں جاب کر رہی ہیں تاکہ گھریلو اخراجات میں شوہر کا ہاتھ بٹا سکیں اور بچوں کو ایک اچھا لائف اسٹائل دے سکیں ، انھیں اعلی تعلیم دلا سکیں. صبح سویرے بیدار ہو کر گھر کے کام نبٹانے کے ساتھ ساتھ بچوں کو اسکول کے لیے تیار کرنا، شوہر صاحب کے کپڑے استری کرکے انھیں آفس کے لیے بھیجنے سے پہلے گرماگرم ناشتہ دینا، اگر شوہر کے ساتھ ہی گھر سے نکلنا ہو تو دوچار لقمے خود بھی زہر مار کرتے کرتے دوسرے کام بھی نبٹانا، گھر میں بزرگ ہیں تو ان کا ناشتہ کمرے میں پہنچانا اور اکیلے رہتے ہیں تو زیادہ ذمہ داری سے کام ختم کرکے گھر بند کرنا خود الٹا سیدھا کنگھا مارا ہلکا میک اپ کیا اتنے میں میاں صاحب کی چیخ بلند ہوتی ہے ” اتنی دیر کردی جاہل عورت ” اور بے چاری جاہل عورت بھاگتے دوڑتے گھر بند کرکے آفس کے لیے روانہ، جو تھوڑے مہزب ہوتے ہیں غصّہ وہ بھی کرتے ہیں لیکن الفاظ کا چناؤ الگ ہوتا ہے. آفس پہنچ کر باس کی باتیں، فائلوں میں سر کھپانا اور ساتھ ساتھ بچوں کی فکر وین میں بیٹھ گئے ہوں گے پڑوس والی خالہ نے بچوں کو اتار لیا ہوگا. اگر اسکول میں جاب ہے تو جلد سے جلد گھر پہنچنا تاکہ بچے گھر پہنچیں تو گھر کھلا ملے. دن بھر کی جاب والی عورت جب گھر پہنچتی ہے تو بچوں کو کھانا کھلا کر پڑھانا، ان کے بیگ بنانے کے ساتھ ساتھ رات کے کھانے کی تیاری بھی اور میاں جی کے آنے کا وقت بھی . میاں جی کو آتے ہی چائے پیش کرنا اور ان کے چہرے کے اتار چڑھاؤ بھی دیکھتے جانا، آج تم نے چائے کے ساتھ کچھ نہیں رکھا لاتی ہوں بھاگ کر شامی کباب پیش کرنا. ” کرتی کیا ہو تم اتنے پہلے آجاتی ہو پھر بھی کام نہیں ہوتے. یہ محنت کش عورت اگر جواب دے دے تو تو بد تمیز، نوکری کا رعب ڈالتی ہے، شوہر کی عزت نہیں کرتی اگر بچوں کی خاطر خاموشی اختیار کرے تو ” گھنی ” کا طعنہ ملتا ہے یہ محنت کش عورت کھانا گرم گرم روٹی کے ساتھ شوہر کو پیش کرتی ہے بچوں کو ساتھ ساتھ کھانا کھلانے کے خود بھی کھا کر بچوں کو سلا کر، صبح کے کپڑے استری کرنے کے دوران شوہر کی فرمائش یہ لادو وہ لا دو، یہ سب کرتے کرتے سونے کا وقت اور شوہر کی ناز برداری میں صبح کب ہوتی ہے پتہ ہی نہیں چلتا یہ ہے وہ محنت کش عورت جو جاب بھی کرتی ہے اور گھر بھی چلاتی ہے، کہیں کہیں شوہر بیوی کی قربانی کو مانتے بھی ہیں لیکن اکثر یہی کہتے ہیں جاب چھوڑ دو کیا ضرورت ہے اب کوئی پوچھے اللہ کے بندے دونوں کی تنخواہ سے مل کر گھر چل رہا ہے اور سفید پوشی کا بھرم قائم ہے.
ایک محنت کش عورت وہ ہے جو غریب ہے، گھر گھر کام کرتی ہے اپنے بچوں کا پیٹ بھرتی اگر زیادہ کماتی ہے تو بچوں کو پڑھا بھی لیتی ہے، اپنے شوہر کا نشہ پانی بھی پورا کرنے کے ساتھ چار چوٹ جی مار بھی کھاتی ہے. اسکے علاوہ ایک محنت کش عورت وہ ہے جو گاؤں میں ہوتی ہے، سویرے اٹھ کر ڈھور ڈنگر کے کاموں کے بعد دودھ دوہتی ہے مکھن نکال کر ناشتہ بناتی ہے، کھیتوں میں کھانا پہنچانے کے ساتھ ساتھ، کھیتوں میں کام کرنا ٹیوب ویل سے پانی بھرنا غرض سارے متعلقہ کام کرتی ہے.
یہ ساری محنت کش عورتیں اپنے سارے کاموں کے علاوہ بچہ پیدا کرنے کی تکلیف سے بھی گزرتی ہیں اور شوہر کے حقوق بھی ادا کرتی ہیں چاہے کسی کو ان کے حقوق یاد نہ رہیں اور انھیں ناقص العقل ہونے کا طعنہ ملتا ہے، نچلا طبقہ تو عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھتا ہے. صاحبو انصاف کرو، مانا کہ عورت مرد کی پسلی سے تخلیق ہوئی لیکن وہ بھی اشرف المخلوقات میں شمار ہوتی ہے. محنت کش عورت کے دکھ کم نہیں کرسکتے تو اس تھوڑی عزت ، تھوڑا پیار دو سوچو کہیں دیر نہ ہو جائے، کہیں دیر نہ ہو جائے

Views All Time
Views All Time
662
Views Today
Views Today
2
mm
فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: