Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مصافحہ جائز(حاشیے) | شاہانہ جاوید

by May 22, 2017 حاشیے
مصافحہ جائز(حاشیے) | شاہانہ جاوید

ہاتھ سے ہاتھ ملانا سعودی فرمانروا شاہ سلیمان بن عبدالعزیز اور امریکی خاتون اوّل میلانا ٹرمپ کا، خبر بنی اور خوب بن کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ، بہت ہی ہاٹ موضوع تھا. ویسے سچ بھی ہے ہمارا قبلہ وکعبہ سعودی عرب ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ عرب کبھی کوئی غلط کام نہیں کر سکتے تو یہ غلط فہمی ہے ، وہ بھی اپنا ملک چلا رہے ہیں انھیں بھی سیاسی چالیں آتی ہیں اور کچھ زیادہ ہی آتی ہیں، وہ بھی دنیاوی زندگی جیتے ہیں اور ہم سے بھی کچھ زیادہ ہی جیتے ہیں پھر ہم کیوں توقع کرتے ہیں کہ وہ ہر کام اسلام کی منشاء کے مطابق کریں گے انھیں اس دنیا کا ساتھ بھی دینا ہے اپنی رعونیت اور غرور بھی دکھانا ہے. کچھ عرصے پہلے کی بات ہے لیڈی ڈایانا کو اسکارف اور لمبی اسکرٹ پہن کر سعودیہ جانا پڑا تھا لیکن اب وقت گزر چکا اب اسکرٹ اور اسکارف کی پابندی ختم اور مصافحہ بھی ضروری ہو گیا ، ہاتھ ملائیں گے تو کام چلے گا.
ملاحظہ فرمائیے اب ایک اور اسلامی ملک ایران کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑگئے ہیں اس ملک کو دہشت گردی کا مرکز قرار دیکر ٹرمپ فرماتے ہیں ایران کو تنہا کیا جائے، شاید اسی لیے کھربوں کا اسلحہ عربوں کو دیا جارہا ہے کیا ہم بھول گئے صحابئ رسولؐ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کا تعلق ایران سے تھا اور میرے پیارے رسول نے ایران کو کبھی الگ نہیں سمجھا. مغربی دنیا اس طرح کی فتنہ گری کرکےمسلم ممالک کو ختم کرنا چاہتی ہے. صدر امریکہ فرماتے ہیں انتہاپسندی کی لڑائی کسی مذہب کے خلاف نہیں کیا یہ امن کے ٹھیکے دار ہیں. میں اسلامی ممالک سے پوچھنا چاہتی ہوں کیا ایران اسلامی ملک نہیں، فرقے کہاں نہیں مغرب میں بھی پروٹسٹنٹ اور کیتھولک ہیں پھر ان کے ذیلی فرقے ہیں. اس سب سیاست میں پاکستان کا کردار شرفو نوکر جیسا ہے جو ہر ایک کو جی حضور کہتا ہے. امریکی صدر ٹرمپ نے دورہ سعودی عرب میں انڈیا، افغانستان، بنگلہ دیش کا نام لیا لیکن پاکستان کا ذکر بھی نہیں کیا، پاکستان اس سب کے باوجود سب اچھا کا راگ الاپ رہا ہے. پاکستان چونکہ ایٹمی طاقت ہے اس لیے مجبوراً سعودی عرب اپنے ساتھ رکھ رہا ہے، پاکستان نے اپنی فوج کی خدمات دی ہوئی ہیں، اور ہمارے سابق چیف آف آرمی اسٹاف راحیل شریف اسلامی فوج کے سربراہ بن گئے ہیں. ہمارے ملک کی کوئ خارجہ پالیسی نہیں، وزیر اعظم ہی وزیر خارجہ ہیں، کیا پاکستان اس سب میں تنہا رہ جائے گا یا اپنی پالیسی وضع کرے گا. تو صاحبو جان لو کہ یہ ایک مصافحہ ہی نہیں بلکہ ایک اور اسلامی ملک کی تباہی کی طرف مغرب کا قدم ہے، مغرب کا ساتھ عرب دے رہا ہے اب ہمیں سوچنا ہے ہم شرفو بنے رہیں یا ایٹمی طاقت ہوتے ہوئے اسلامی ممالک کی بھلائی سوچیں، ایران ہمارا ہمسایہ ہے اور منفی اثرات ہم پر بھی پڑیں گے.

مرتبہ پڑھا گیا
218مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: