Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ماں تجھے سلام | شاہانہ جاوید

by May 14, 2017 بلاگ
ماں تجھے سلام | شاہانہ جاوید

ماں ایک ایسا رشتہ جو انمول ہے. ماں ایک خاندان کا محور ہوتی ہے تخلیق کے جن مراحل سے وہ گذرتی ہے وہ ایک ایسا عمل ہے جس کی نظیر نہیں. ماں ہی ہے جو ہمت وبرداشت کا پیکر ہوتی ہے، اپنے بچوں کے لیے ایسی ڈھال جو زمانے کے سرد وگرم سے بچاکر انھیں پروان چڑھاتی ہے، ماں کی گود کو بچے کا پہلا مدرسہ کہا جاتا ہے، بچہ اپنی ماں سے ہی بولنا سیکھتا ہے اور وہی بولی بولتا ہے جسے ماں بولی کہتے ہیں. ماں پالنے سے لیکر چلنے پھرنے تک گھر سے لیکر اسکول تک، یہاں تک کہ اس کے بہترین انسان بننے تک ہر لمحہ اپنی اولاد کا خیال رکھتی ہے. بچے کے لمحے لمحے کی خبر ماں کو ہوتی ہے.
بہترین مائیں وہ ہیں جو اپنے بچوں کو بہترین انسان بنائیں، انھیں انسانیت کا درس دیں شاید اسی لیے کیا گیا ہے کہ” جنت ماں کے قدموں تلے ہے” . ماں اپنے اوپر ہر تکلیف جھیل لیتی ہے لیکن بچوں کو اس کی ہوا بھی نہیں لگنے دیتی، خود دھوپ میں گزارہ کرلے گی لیکن اپنے بچوں کو سایہ فراہم کرے گی ماں کی محبت بے لوث ہوتی ہے اور ہر وقت اپنی اولاد کے لیے دعا گو رہتی ہے.
رہی مثل ردا ہمیشہ سے
سر پہ ماں کی دعا ہمیشہ سے
ماں کے لیے بڑے بڑے مفکر اور لکھاریوں نے بہت کچھ لکھا ہے لیکن آج جب میں اپنی امی کے بارے میں لکھنے بیٹھی تو الفاظ کم پڑ گئے ہیں کہاں سے شروع کروں اور کیا کیا لکھوں پیاری امی آپ کے لیے آپ میری طاقت ہیں. ماشااللہ سے میری امی حیات ہیں، بیماری کی وجہ سے وہ بستر پہ ہیں اور وہیل چئیر پہ کہیں آتی جاتی ہیں. ان کی وضع داری، رکھ رکھاؤ، اور یاداشت میں کوئی فرق نہیں امی زیادہ پڑھی لکھی نہیں لیکن ماشااللہ اتنی زیرک اور عاقل ہیں کہ ان کی فہم کے آگے بڑی بڑی ڈگریوں والے بھی ہیچ ہیں. کوئ مسئلہ ہو اس کا حل بتادیتی ہیں، پریشانی ہو تسلی دیتی ہیں ، اپنے بچوں کی نظر اتارتی رہتی ہیں، چونکہ ڈیڈی شاعر تھے تو گھر کا تمام انتظام امی نے سنبھالا ہوا تھا، ڈیڈی خرچہ دینے کے بعد بے فکر ہوکر اپنی جاب اور ادبی مصروفیات میں مگن ہوجاتے اور امی گھر چلانے کے ساتھ ساتھ پورے خاندان اور رشتہ داروں کی خبر گیری کرتیں وہ اپنے سسرال اور میکے میں اپنے اخلاق کی وجہ سے پسندیدہ ہیں. امی نے کبھی ڈیڈی کی ادبی مصروفیات اور مشاعروں سے راتوں کو دیر سے آنے پہ گلہ نہیں کیا بلکہ اتنی رات میں بھی کھانے اور پانی کا پوچھتیں. ڈیڈی جان اکثر گھر پہ ادبی نشست رکھتے، امی اچھے اچھے کھانے بناتیں اور بہت خوش اخلاقی سے مہمانوں کی آؤ بھگت کرتیں ہم میں بھی خوش اخلاقی امی کی تربیت کا نتیجہ ہے. مشہور شاعر کیفی اعظمی کی دعوت پہ قورمہ بریانی اتنالذیذ بنایا کہ شوکت اعظمی بے ساختہ بول اٹھیں کہ اتنا مزے دار کھانا بنایا آپ نے. امی سلائی کڑھائی کی بھی ماہر تھیں ایک سے ایک فراکیں سی کر پہنائیں ایک زمانے میں بیل باٹم پاجامے فیشن میں چلے امی نے وہ بھی اپنے ہاتھ سے سی کر ہمیں دیئے. امی نماز کی پابند ہیں اب بھی تیمم کرکے نماز پڑھتی ہیں یہی پابندی تھی کہ ہم بہن بھائی بھی نماز کے پابند ہیں. امی چونکہ نجیب الطرفین سید ہیں اس لیے ڈیڈی اکثر ان سے دعا کرنے کا کہتے تھے ابھی بھی ہم کسی مشکل میں ہوں امی کو بتا کر ہلکے ہو جاتے ہیں اور اللہ کے فضل سے ماں کی دعا سے وہ مشکل حل ہو جاتی ہے. امی نے ہم سب کی تعلیم پہ کڑی نگاہ رکھی اسی وجہ سے ہم بہن بھائ اعلی تعلیم یافتہ ہیں، امی اپنےنواسہ نواسیوں پوتے پوتیوں سے بہت محبت کرتی ہین اگر کو ئی ایک بھی ملنے آنے میں تاخیر کرے فوراً یاد دلاتی ہیں. روزانہ فون پہ خیریت معلوم کرتی ہیں.
امی کا حافظہ بہت اچھا ہے انھیں ڈیڈی کے بہت سے اشعار یاد ہیں اور وہ گاہے گاہے سناتی رہتی ہیں. ڈیڈی کے انتقال کے وقت بھی وہ بیمار تھیں لیکن ان کی ہمت تھی کہ وہیل چئیر پہ بیٹھ کر ڈیڈی کے سرہانے کلمہ طیبہ ورد کرتی رہیں یہ امی ہی تھیں جن کی محبت تھی کہ ہم سب اس عظیم سانحے سے نکل پائے، مجھے تو امی نے بہت سنبھالا دیا، مجھے ہمت دینے والی میری امی ہی تھیں کیونکہ ڈیڈی کے انتقال کے بعد میں بالکل ٹوٹ گئی تھی ان کا پیار محبت ہی ہے جو میں زندگی کی طرف لوٹ آئی. امی کی اچھی تربیت ہی ہے کہ ان کی اولاد ان کی خدمت میں ہر وقت موجود ہوتی ہے. مدرز ڈے پہ میری دعا ہے اللہ امی کا سایہ ہمارے سروں پہ قائم رکھے آمین.

مرتبہ پڑھا گیا
275مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
2مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: