Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مزدور کا دکھ – شہاب احمد پراچہ

by May 1, 2017 بلاگ
مزدور کا دکھ – شہاب احمد پراچہ

آج بڑے صاحب کو “مزدوروں کے عالمی دن” پہ لیکچر دینے کیلئے ایک بہت بڑے سیمینار میں مدعو کیا گیا ہے ۔ میں صاحب جی کا ذاتی ڈرائیور ہوں ۔کل شام دفتر سے واپسی پہ میں نے صاحب جی سے دو دن کی چھٹی مانگی تھی ۔ گاؤں سے پیغام آیا ہے کہ ماں جی کی طبیعت ٹھیک نہیں انہیں ڈاکٹر کے پاس لے کے جانا ہے اور ویسے بھی کوئی مہینہ بھر سے زیادہ عرصے سے میں گھر نہیں گیا ۔ اس لئے بچوں کی یاد بہت آ رہی ہے۔ یاد کس وقت نہیں آتی ۔ رات سونے سے پہلے ان کی یادیں سینے میں چبھتی رہتی ہیں ۔ صبح آنکھییں کھولوں تو یادوں کے حصار میں ہوتا ہوں ، اور شام جب صاحب لوگوں کو اپنے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھتا ہوں تو اس وقت تو دل دھڑکنا بھی بند ہو جاتا ہے۔ ویسے بھی اب تو بچوں کے بغیر رہنےکی عادت سی ہو گئی ہے ۔ میں تو کہتا ہوں کہ ہمارے جیسوں کے تو بچے ہوتے ہی نہیں کہ جب ہم اتنے دنوں بعد گھر میں قدم رکھتے ہیں تو اپنے بچے بھی ہم کو پرائے کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ قصور ان کا تو نہیں ہمارا ہی ہے کہ مہینے میں ایک آدھ دن کیلئے گھر آتے ہیں ۔ بعض اوقات تو بچوں کو سوتا ہوا چھوڑنا پڑ جاتا ہے کہ صاحب جی کو ہنگامی بنیادوں پہ میٹنگز میں جانا ہوتا ہے ۔ اب ہمارے اس عارضی طور پہ گھر آنے پہ وہ پرایا ہی تو سمجھیں گے ۔
ہم جیسے لوگوں کے بچوں کو بھی بن باپ کے رہنے کی بچپن سے عادت ہوتی ہے ہمارے ہونے نہ ہونے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ میرا جب پہلا بچہ ہونے والا تھا تو صاحب جی سے چھٹی مانگی لیکن مجھے چھٹی نہیں ملی کیوںکہ بیگم صاحبہ کے رشتہ داروں کے ہاں شادی تھی ۔ نوکری تو چھوڑ نہیں سکتا تھا کہ پھر اتنی جلدی نوکری تو ملتی نہیں اور اگر چھوڑ جاتا تو پھر گھر پیسے کیسے بھجواتا ۔ اپنے پہلے بچے کی شکل پورے ایک ہفتے بعد میں نے دیکھی تھی اور یہ ایک ہفتہ مجھ پہ کیسے گزرا ہوگا یہ ایک باپ کے لئے چشم تصور میں بھی لانا مشکل ہے ۔
ہمارے صاحب جی نے اپنے بزنس کو بیٹوں کے حوالے کر رکھا ہے اور خود مزدوروں اور غریبوں کے حقوق کے لئے ایک بہت بڑی غیر سرکاری تنظیم کھول رکھی ہے ۔ وہاں پر اپنے مزدور برادری کیلئے فائلوں میں بہت سے ایسے مسائل ہوں گے کہ جن کے حل کیلئے یہ لوگ کام کر رہے ہوں گے ۔ شاید بہت سے مزدوروں کے مسئلے حل بھی کئے ہوں گے ۔
صاحب جی نے آج سیمینار میں آئے ہوئے لوگوں کو لیکچر کے دوران جہاں اس دن کی اہمیت پہ اپنی منطق کے مطابق روشنی ڈالی وہاں پر وعظ و نصیحت کے سلسلے کو بھی خوب طول دے دیا ۔ صاحب جی کے الفاظ اتنے پر اثر تھے کہ ہر کسی کی آنکھ پر نم تھی ۔
میرے عزیزو، یہ جو مزدور ہوتے ہیں اصل میں یہی وہ عظیم لوگ ہیں جن کی وجہ سے ہم سہولت اور آرام کی زندگی گزارتے ہیں ۔ چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیز جو ہمیں میسر ہے ۔ وہ ان مزدوروں کے ہاتھوں سے ہی نکلی ہوئی ہے ۔ اپنے اردگرد دیکھئے ۔ کوئی بھی شے ایسی نہیں جس میں ہمارے ان مزدور بھائیوں کا پسینہ ، ان کی شب وروز محنت دکھائی نہ دے ۔ یہ جو آپ لوگوں کے سامنے آرام دہ کرسیاں ،خوبصورت میزیں لگی ہوئی ہیں ۔ ان پہ جو بوتلوں میں پانی رکھا گیا ہے ، پلیٹوں میں کھانا رکھا گیا ہے ۔ یہ سب کہاں سے آئے ۔ یہ سب ان مزدور بھائیوں کا کمال ہے ۔ اگر یہ مزدور رک جائیں تو زندگی رک جائے
دوستو، یہ بھی ہمارے ہی طرح کے انسان ہیں ۔ ان کے بھی گھر بار ہیں ۔ان کی بھی ضرورتیں ہیں ، مسائل بالکل اسی طرح جس طرح ہمارے ہوتے ہیں ۔۔ یہ آپ لوگوں کی خدمت کرتے ہیں۔ آپ کے آرام کا خیال رکھتے ہیں ، تو آپ پر بھی لازم ہے کہ ان کی ضرورتوں کا خیال رکھیں ان کی عزت کا خیال رکھیں، ان کی عزت نفس کا خیال رکھیں ۔ انہیں انسان سمجھیں نہ کہ مشین۔
صاحب جی کی باتوں کا مجھ پہ بھی انجانے میں اثر ہو رہا تھا کہ اچانک مجھے آج صبح کا وہ واقعہ یاد آیا جب صاحب جی نے اپنے بوڑھے مالی کو صرف اس وجہ سے نوکری اور گھر سے نکال دیا کہ وہ گاؤں میں کسی وجہ سے دو دن زیادہ رک گیا تھا

مرتبہ پڑھا گیا
232مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: