پاراچنار، اتحاد کا مظاہرہ وقت کی ضرورت ہے | احمد طوری

Print Friendly, PDF & Email

جمعہ ۲۳ جون کو پاراچنار کے بھرے بازار میں دو زوردار دھماکے ہوئے دھماکوں کا ٹارگٹ عالمی یوم القدس جلوس تھا اور حسب معمول جاسوسی کے مختلف اداروں نے تھریٹ الرٹ جاری کئے تھے۔ دھماکے سے 306 افراد شہید و زخمی ہوئے جس میں سے ایک سو کے قریب افراد جام شہادت نوش کرگئے اور دو سو افراد زخمی ہوئے۔ پچیس افراد موقع پر ہی شہید ہوئے اور باقی راستوں اور ہسپتالوں میں دم توڑتے گئے رمضان المبارک کے آخری جمعے کو ایران کے رہبر کبیر امام خمینی نے عالمی یوم القدس کے طور پر منانے کا اعلان کر رکھا ہے تاکہ مسلمانان عالم کا ننگِ و غیرت مسلسل جاگتا رہے اور قبلہ اوّل، بیت المقدس، مسجد القصیٰ اور چھتیس ہزار انبیاء کا قبرستان، سرزمین فلسطین پر غاصب صیہنیوں کا قبضہ کہیں بھول نہ جائیں۔
بات اگر دہشت گردی کی ہو جائے تو پاراچنار کی حالت بھی فلسطین، غزہ سے بہت مماثل ہے خاص کر 2007 سے لے کر 2011 تک پانچ سالہ طویل جنگ اور محاصرے کے دوران جو کچھ ہوا وہ دنیا جہاں پر عیاں ہے۔
پاراچنار کو گیارہویں بار دہشت گردی کا نشانہ بنایاگیا اور رواں سال یہ چوتھا دھماکہ ہے جس کے ذریعے کرم ایجنسی کی شیعہ آبادی کو دہشت گردی کا نشانہ بنایاگیا۔ جبکہ حکومت اور حکومتی ادارے دہشت گردوں کے سامنے بے بس دکھائی دے رہے ہیں۔ ابھی ایک بھی دھماکے کے مجرمان قوم کے سامنے نہیں ظاہر کئے گئے۔ اور
ایسے میں جب کرم ایجنسی کے شیعہ مسلمان روزہ دار افطاری کیلئے خریداری میں مصروف تھے، دشمنان اسلام اور دشمنان پاکستان نے شیعہ مسلمانوں اور پاکستانیوں کو دو دھماکوں کے ذریعے نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق دشمنوں نے ذہانت سے ایک پلانٹڈ بم کے ذریعے دھماکہ کیا اور جب لوگ ہلاک و زخمیوں کو اُٹھانے کے لئے دھماکے کی جگہ پہنچے تو ہجوم کے بالکل وسط میں اور پاراچنار شہر کے مصروف ترین چوک پر خودکش دھماکہ کیا گیا۔
پاراچنار شہر سے دس کلومیٹر دور گاؤں میں دھماکوں کی گونج سنائی دی تو رات گئے ایک درجن دوستوں کی فکر پڑگئی جو یوم القدس جلوس میں شرکت کے لئے پچھلی رات سے ہی پاراچنار شہر پہنچے ہوئے تھے اور دن کو بھائی اور چچازاد بھائی بھی شہر کی طرف گئے تھے۔ ایک بھائی نے موبائل فون کال کے زریعے مطلع کیا ہم دو بھائی بالکل محفوظ ہیں، اسی طرح کچھ کزنز سے بھی رابطہ ہوا جو یوم القدس جلوس کا حصہ تھے انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی یوم القدس جلوس مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا واپس مرکزی امام باگاہ پر اختتام پزیر ہوا، مولانا صاحب نے دعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے تو پہلے دھماکے کی آواز سنی گئی۔ پہلے دھماکے سے نقصان کم ہوا اور جب ان ہلاک و زخمیوں کو ریسکیو کرنے نوجوان دوڑ پڑے تو چند منٹ کے اندر ہجوم کے بالکل وسط میں دوسرا دھماکہ ہوا۔
ایک بھائی نے باہر ملک سے کال کرکے مطلع کیا کہ شہیدوں میں مجاہد علی ولد مشہد علی کا نام ہے آپ لوگ جا کر پتہ کریں۔
میرے ایک کزن بائس سالہ مجاہد علی جو اکثر افطاری کرکے مزدوری کیلئے دس کلومیٹر دور پاراچنار شہر جاتا رہتا تھا بدقسمتی سے اس دن چھٹی کرکے والد صاحب کے عزا خوانی کے لئے مٹھائی اور بہنوں کیلئے عیدی خریدنے گیا تھا۔ ایک ایسا مزدور جس کے پھٹے پرانے چپل تو دھماکے کے بعد نہیں ملے لیکن آج دھماکے کے چوتھے دن جب میری بیگم مجاہد علی کی والدہ اور بہنوں کا حال پوچھنے کے بعد واپس آئی تو دل دہلانے دینے والی بات کہہ ڈالی کہ ماں اور بہنیں مل کر مجاہد علی کے پھٹے پرانے کپڑے اور جوتے سامنے رکھ کر زار و قطار رو رہی تھیں۔
اور ہاں ایک بات جو میں کبھی بھول نہیں پاؤں گا وہ یہ کہ شہید مجاہد علی کو رات گیارہ بجے اتنی جلدی میں دفن کیا گیا کہ آدھے گاؤں کو پتہ چلا نہ ہی بہنیں شہید بھائی کا آخری دیدار کرسکی۔
اس سے پہلے ہم تک چچا زاد بھائی پچیس سالہ شاہد حسین کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہو چکی تھی۔ شاہد حسین خوش قسمتی سے بچ گئے تھے ورنہ پہلے دھماکے کے ریسکیو کے لئے وہ بھی پہنچے ہوئے تھے کہ دوسرے دھماکے کا نشانہ بنے۔ موبائل دکان پر کام کرنے والے شاہد حسین تین دن بعد ہسپتال سے گھر تو پہنچ گئے ہیں لیکن سپلینٹر اور بال بئرنگ ان کے سینے سے ہوتے ہوئے کندھے میں ابھی تک پیوست ہیں جس کی سرجری پاراچنار میں ممکن نہیں۔ اب شاہد حسین کو پشاور یا اسلام آباد منتقل کرکے سرجری کی جائے گی۔
دھماکہ میں میرا ایک کلاس فیلو پنتیس سالہ امتیاز حسین بھی شہید ہوا۔
یہ صرف تین نوجوانوں کی کہانی ہے آپ یقین کریں 306 نوجوانوں کی یہی کہانی ہے، گھر گھر صف ماتم بچھی ہوا ہے۔
مجھے پتہ ہے کہ پاراچنار شہر میں جب دھماکہ ہوتا ہے اور درجنوں افراد کی ہلاکت اور سینکڑوں زخمیوں کی کیا حیثیت ہے۔ مین اسٹریم میڈیا میں کوئی پروگرام نہیں ہوگا سوائے چند گنے چنے لوگوں کے، گنے چنے پروگرام اور خبرنامہ میں تیس منٹ بعد ایک منٹ کی کہانی۔
سیاسی لیڈرز اور پارٹیوں نے حسب معمول شدید الفاظ میں مذمت کی، جو وہ ہر دھماکے کے بعد کرتے رہے ہیں اور عسکری اداروں اور رہنماؤں نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے وعدے کئے اور ذمہ داری حسب معمول کالعدم دہشت گرد تنظیموں اور غیر ملکی سازشوں پر ڈال کر بری الذمہ ہوئے۔
لیکنپاراچنار شہر میں جمعے کے روز دھماکوں کے بعد دھرنا جاری رہا ۔ مظلوموں کے حق میں اور ظالموں کے خلاف چودہ سو سال سے آواز اُٹھانے ایک بار پھر کھڑے تھے اور پورے ملک میں دھرنوں کا اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا اور اب انہیں جواب چاہئیے تھے۔
معمول کے وعدوں سے مزید دھوکہ نہیں دے سکتے اور لوگ اب خون کا حساب مانگنا شروع ہو گئے ہیں۔ لوگوں کو انصاف دینا ہوگا، تحفظ فراہم کرنا ہوگا، ورنہ لوگوں کے ہاتھ اُٹھنے والے ہیں اس سے پہلے کہ عوام کے ہاتھ سیاسی، مذہبی اور عسکری رہنماؤں کے گریبانوں تک پہنچ جائیں، سب اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کے مطالبات پورے کریں، ورنہ سب کچھ دیوار پر لکھا ہوا ہے۔
سیاسی اور عسکری قیادت کے علاوہ شیعہ تنظیموں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں جوق در جوق پاراچنار دھرنے میں شامل ہو رہی تھیں۔ مجلس وحدت مسلمین کے روح رواں جناب علامہ ناصر عباس جعفری اور انسانی حقوق کے علمبردار محمد جبران ناصر پاراچنار پہنچ چکے تھے، جے ڈی سی کے ظفر عباس اور عبدالستار ایدھی کے نواسے ایدھی جونئیر تین ایمبیولینس لیکر پاراچنار پہنچ چکے تھے۔
دھرنا پورے پاکستان میں 64 جگہوں پر شروع ہوا اور دنیا بھر میں پھیلتا گیا، مظلوموں کی آواز پر لبیک کہنے والے امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، آسٹریا اور آسٹریلیا سمیت دنیا بھر میں احتجاج شروع کرنے لگے۔
سپریم لیڈر پیش امام مرکزی مسجد وامام بارگاہ علامہ فدا حسین مظاہری اور تحریک حسینی کے روح رواں علامہ عابد الحسینی کی شرکت نےدھرنے کو تقویت بخشی اور یک جہتی کا میسیج دیا۔
کرم ایجنسی کی انتظامیہ مکمل مفلوج ہوگئی اور عسکری ادارے صورت حال کی سنگینی بھانپتے ہوئے حالات پر نظر رکھے ہوئے تھے، اور اعلی سطحی مشاورت کیساتھ ساتھ قبائل، دھرنا لیڈرز اور علماء سے گفت و شنید میں مصروف رہے۔ عسکری اداروں کے بعض اہل کاروں نے دن رات کام کیا اور مختلف طبقات سے ملاقاتیں اور صلاح مشورے کئے۔
صبح سات بجے بھی دھرنے کے مقام پر پہنچا ہوں اور رات ایک بجے بھی دھرنے کی حالت دیکھی ہے، جوانوں کی شرکت اور جوش اپنی جگہ مجھے سب سے زیادہ متاثر بوڑھوں نے کیا، بوڑھے شاید اس لئے شامل رہے تاکہ وہ آئیندہ جوان بچوں کے تابوت پر ٹوٹے ہوئی کمر کھڑے نہ ہوں، جوان بچے کے تابوت کو کندھا دینا سب سے مشکل کام ہے اور اگر آپ سمجھنا چاہتے ہیں تو کربلا یاد کریں، علی اکبر کی ایک آواز سے باپ حسین اور ماں اُم لیلی دونوں کی حوصلے ٹوٹ گئے اور بال سفید ہوئے، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ اللہ تعالی ہمارے جوان محفوظ رکھے۔
دھرنا لیڈرز کسی حال میں کسی سے ملاقات یا اپنے مطالبات کسی کو بتانے کے لئے تیار نہیں تھے۔ ان کا ایک ہی مطالبہ زور پکڑتا گیا ” آرمی چیف آئیں ملاقات میں سب مطالبات بتا دئیے جائیں گے”۔ بالآخر وہی ہوا۔ آرمی چیف آئے اور پاراچنار میں آٹھ روزہ کامیاب دھرنا پرامن طور پر اختتام پزیر ہوا اور دھرنے کے تمام مطالبات تسلیم کئے گئے۔
دھرنا لیڈر مزمل حسین نے دھرنا کمیٹی کیساتھ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے پاراچنار میں ساتھ روز و شب سے جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
آرمی چیف نے پاراچنار شہر اور کرم ایجنسی کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے جنرل حسن اور بریگیڈئیر امیر محمد خان کو حکم دیا ہے کہ قبائل اور دھرنا لیڈرز کے ساتھ مل کر سیکیورٹی پلان بنائے گی اور ان کا فولو اپ کیا جائے گا۔
تورا بورا میں داعش اور دیگر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا جائے گا۔
پاک افغان بارڈر پر فینسنگ کی جائے گی۔
پاراچنار میں ہوئے دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث سترہ دہشت گردوں اور انکے سہولت کاروں کو سزائے موت دی جائے گی۔ سہولت کاروں میں دو مقامی افراد بھی ملوث ہیں۔
پاراچنار شہر کے گرد چیک پوسٹس دھرنا کمیٹی کے مرضی اور مشاورت سے قائم کئے جائیں گے۔
ایف سی کے کرنل عمر کو ہتھکڑی لگا کر قلعہ بالا حصار پہنچایا گیا ہے، کورٹ مارشل کیا جا رہا ہے اور قرار واقعی سزا دی جائے گی۔
ایف سی بھرتی کی جائے گی اور قبائل کیلئے منظور قبائل کے ایف سی اہل کاروں کو کرم ایجنسی میں تعینات کیا جائے گا۔ طوری قبیلے کے دشمن قبیلوں کے اہل کار جنکے بھائی طالبان کیساتھ ملے ہوئے ہیں ان کی تعیناتی کرم ایجنسی میں نہیں کی جائے گی۔
پاراچنار میں شہدا کو دیگر پاکستان کے مطابق اور برابر کمپینسیشن دی جائے گی۔ اور ورثا کو نوکری دی جائے گی۔
دھماکوں میں تباہ املاک کو کمپینسیٹ کیا جائے گا۔
کرم ایجنسی میں متنازعہ زمینوں کو واگزار کیا جائے گا اور کاغذات مال کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔
کرم ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ٹراما سینٹر قائم کیا جائے گا۔
اور ایک اے کیٹیگری ہسپتال کا اعلان کیا گیا۔
گلفام شہید آرمی پبلک سکول پر کام شروع ہوچکا ہے اور فنڈ کی کمی کیوجہ سے کیڈٹ کالج میجر گلفام شہید بعد میں بنایا جائے گا۔
سول انتظامیہ کو مخلوط کئے جانے کیلئے گورنر خیبر پختونخواہ کے ساتھ بات کی جائے گی۔
پاکستان دہشتگردوں کے رحم کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، جب چاہیں اور جہاں چاہیں دہشت گرد نشانہ بنا رہے ہیں۔ "اور اللہ تعالی ہمیں سٹریٹیجیک اسٹیٹس سے بھی نجات دلائیں، بعض دوستوں کے ہوتے ہوئے دشمنوں کی ضرورت نہیں ہوتی”۔
عوام میں بھی شعور اجاگر کرنا ہوگا اور مسجدوں، امام بارگاہوں اور اسکولوں میں پروگرامز منعقد کرنے چاہئیے جس کے ذریعے عوام میں دہشت گردی سے مقابلہ کرنے کا شعور اجاگر کیا جائے کیونکہ یہ جنگ سیکیورٹی ادارے اکیلے نہیں جیت سکتے۔ عوام کو بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔
اورکرم ایجنسی کے عوام جب تک متفق نہیں دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنتے رہیں گے۔ اب وقت آن پہنچا ہے کہ قوم آغا مظاہری کی قیادت پر مکمل اعتماد کرکے متفقہ لائحہ عمل طے کرے اور ایک ترجمان قومی جرگہ تشکیل دیں اور ایسے مشیرانِ قوم چن لیں جو جھکنے والے ہوں نہ بکنے والے۔ قوموں کی مستقبل امانت دار اور دیانت دار رہنماؤں کے مرہون منت ہوتی ہے جن کا عرصہ دراز سے فقدان ہے۔ اللہ تعالی ہمیں درست قیادت چننے کی اہلیت پیدا کرے۔

Views All Time
Views All Time
1447
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   اے بنت حوا! کوئی اور دنیا مانگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: