Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ایران احتجاج ختم، سبق کیا ملا؟

ایران احتجاج ختم، سبق کیا ملا؟
Print Friendly, PDF & Email

اسلامی جمہوریہ ایران میں امام خمینی کے کامیاب انقلاب کے بعد سے سازشوں کا سلسلہ کبھی نہیں رکا۔ طاغوتی اور تکفیری قوتوں نے مل کر بار بار انقلاب کو نقصان پہنچانے اور ریژیم بدلنے کی کوشش کی ہے اور ہر بار ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ 80 کی دہائی میں مغربی قوتوں اور تکفیریوں کے غنڈے اور جلاد عراقی ڈکٹیٹر صدام کی رہنمائی میں نوازئیدہ ایران پر چڑھائی کی گئی اور کیمیائی ہتھیار تک استعمال کیے گئے لیکن ایرانی عوام کو شکست دینے میں ناکام رہے۔ ایران عراق جنگ کے بالکل وسط میں عراقی فوج جب ایران کے ہر شہر پر قابض ہوئے تو ایرانی انقلاب کے روح رواں امام خمینی نے صدر بنی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے عہدے سے ہٹایا تو ہر جانب مظاہرے پھوٹ پڑے اور مجاہدین خلق نے مظاہرے ہائی جیک کر کے قتل و غارت کا بازار سرگرم کیا اور پاسداران انقلاب کو مجبوراََ وہ اقدامات اٹھانے پڑے جو اگر مظاہرے اور احتجاج پرتشدد نہ ہوتے تو نہیں اٹھانے چاہئیے تھے۔

پھر وقتا فوقتا دہشتگردی کے واقعات ہوتے رہے جس میں قابل ذکر ایرانی پارلیمنٹ پر حملہ بھی شامل ہے جس میں وزیراعظم رجائی اور امام خمینی کے دست راست سمیت 80 سے  زائدسینئر ترین رہنما شہید ہوئے اور موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای ایک ہاتھ سے محروم ہوئے۔ اس کے علاوہ ایران کے متعدد نیوکلئیر سائنسدان اور ڈپلومیٹ قتل کر دیے گئے اور پاسداران انقلاب سمیت فوج کے اعلی عہدیداروں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا۔

2009 میں خالص ایرانی عوام کے جمہوری نعرے کو ہائی جیک کرکے پرتشدد مظاہرے ہوئے لیکن مجاہدین خلق کے غنڈوں کو قابو کرکے مظاہرے ختم ہوئے لیکن گرین مومنٹ کے کئی معروف ایرانی لیڈرز آج تک جیلوں میں یا گھروں میں نظر بند ہیں جس کا کوئی جواز نہیں۔

اب جو احتجاج قیمتوں میں اضافے پر شروع ہوا وہ ایرانی عوام کا جمہوری حق تھا اور ہے۔ جن کا صدر روحانی نے کھل کر حمایت کی اور سپریم لیڈر نے خاموش رہ کر حمایت کی، لیکن دونوں نے پرتشدد احتجاج کو بیرونی ایجنڈا قرار دے کر مسترد کیا۔

یہ بھی پڑھئے:   مائیں کدھر جائیں - زری اشرف

احتجاج کے پہلے دن مشہد میں ابراہیم رئیسی کی حمایت یافتہ احتجاج میں ایرانی صدر روحانی کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ ابراہیم رئیسی کو پچھلے سال صدارتی انتخابات میں روحانی کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔

احتجاج کے دوسرے دن احتجاج دوسرے شہروں تک پھیل گیا اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف نعرے بلند ہوئے۔
احتجاج کے چوتھے روز مجاہدین خلق کے گماشتے احتجاج میں شامل ہوئے اور پرامن احتجاج پرتشدد ہوا اور دو افراد قتل ہوئے جب کہ متعد افراد زخمی ہوئے۔

احتجاج کے تیسرے دن طاغوتی، سامراجی ایجنٹس نے مجاہدین خلق کے ساتھ مل کر احتجاج مزید پرتشدد بنایا اور کئی لوگ قتل و زخمی ہوئے۔

احتجاج کے چوتھے دن طاغوتی، سامراجی اور مجاہدین خلق کے ساتھ تکفیری ایجنٹس بھی مل گئے اور احتجاج کو مزید پرتشدد بنایا، اب قتل و غارت گری کے ساتھ مساجد اور امام بارگاہوں کو آگ لگائی گئی جو تکفیریوں کا خاصہ ہے۔

احتجاج کے پانچویں روز ایرانی عوام بیدار ہوئی۔ دشمن کی سازش کو بھانپتے ہوئے عوام سڑکوں پر امڈ آئی ۔ اب نہ روحانی کے خلاف نعرے لگ رہے ہیں اور نہ ہی ضد انقلاب و آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف۔ متحد ہو کر ایرانی عوام نے دشمن کو ایک اور منہ توڑ جواب دیا ہے۔ پرتشدد احتجاج نے دم توڑ دیا ہے۔

پرتشدد احتجاج کا طریقہ کار بالکل وہی ہے جو لیبیا میں استعمال کیا گیا اور قذافی کو سڑکوں پر گھسیٹ کر مارنے پر ختم نہیں ہوا بلکہ آج تک خون ریزی جاری ہے۔

طاغوتی اور سامراجی قوتیں تکفیریوں سے مل کر مجاہدین خلق کے ذریعے ایران میں وہی غلطی دہرانے کی کوشش کر رہی ہیں جو لیبیا میں کی گئیں اور نعرے بھی بالکل وہی دہرائے جا رہے ہیں جس میں “شخصی آزادی اور ریژیم چینج” کے نعرے قابل ذکر ہیں۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ صرف ایران امریکہ اور مغرب کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑا ہے اور روس کے ساتھ مل کر شام میں سامراج اور طاغوت سمیت تکفیریوں کو شکست سے دوچار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   عورت کے ناقص ہونے کا افسانہ - سعید ابراہیم

اگر آپ کو بحرین میں انسانی حقوق کی پامالی نظر نہیں آتی اور ایران میں نظر آتی ہے تو آپ منافق ہیں، اگر آپ ایران میں قیمتوں کے اضافے پر احتجاج میں ایرانی عوام کے ساتھ ہمدردی جتاتے ہیں لیکن پاکستان میں روزانہ قیمتوں کے اضافے پر ابھی تک نہیں بولے ہیں تو آپ بے غیرت ہیں۔

اگر آپ کو ایران میں احتجاج کے دوران قتل ہوئے بیس افراد سے ہمدردی ہے لیکن پاکستان میں روزانہ خودکش دھماکوں، فائرنگ سمیت ٹارگٹ کلنگ میں قتل ہزاروں افراد پر چپ سادھ لی ہے تو آپ تکفیری پروپیگنڈا کا حصہ ہیں ۔

سابق ایرانی صدر اور ریفارمسٹ لیڈر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے صدر روحانی کے منتخب ہونے پر انہیں مبارکباد دیتے ہوئے فرمایا کہ ایرانی عوام کو صدر روحانی کی صورت میں ریفارمسٹ گاڈ فادر ملا ہے اور رفسنجانی کی بات کو سچ ثابت کرتے ہوئے روحانی واقعی روشن خیال ایرانیوں کے گارڈ فادر بن گئے ہیں۔

حالیہ مظاہروں اور احتجاج سے سبق یہ ملا ہے کہ جب تک آیت اللہ خامنہ ای اور صدر روحانی متحد ہیں تو ایران میں کوئی سامراجی، طاغوتی اور تکفیری سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ لیکن اگر ایک دوسرے کے پاؤں کھینچنے کی کوشش کریں گے تو دشمن بھرپور فائدہ اٹھائے گا اور ایران کو خانہ جنگی کی طرف لے جائیں گے۔

Views All Time
Views All Time
769
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: