میں بھی سلمان حیدر ہوں – شفیق احمد

Print Friendly, PDF & Email

جمعہ چھ جنوری کی رات سے سلمان حیدر اور دیگر انسانی حقوق کیلئے آواز اُٹھانے والے کارکن گمشدہ ہیں۔ سلمان حیدر فاطمہ جناح یونیورسٹی میں سائیکالوجی کے پروفیسر ہیں ، شاعر ہیں، اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ہیں۔ یعنی سلمان حیدر اور ان جیسے لوگ معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں۔ وہ بے آواز لوگوں کی آواز ہیں اور پاکستان میں ہر سانحے و دہشتگردی کے واقعے پر بے خوف و خطر لکھتے رہے ہیں اقتصادی ناہمواری اور سماجی نا انصاف کے خلاف آواز اُٹھا رہے ہیں اور احتجاج کرتے رہے ہیں۔ وہ اہلِ تشیع پر حملوں کیخلاف بلند آواز اُٹھاتے رہے ہیں۔ وہ آرمی پبلک اسکول جیسے واقعات پر نظمیں لکھتے رہے ہیں۔ وہ کوئٹہ کے شیعہ ہزارہ برادری کے قتلِ عام پر احتجاج کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے بلوچ کارکنوں کی گمشدگی کو دنیا کے سامنے لانے کا بیڑہ اُٹھایا ہوا ہے۔ وہ نوازشریف کا پانامہ میں نام آنے کے بعد شریفوں اور مسلم لیگ کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں جب وہ اقتدار سے چمٹے ہوئے ہوتے ہیں اور عمران خان کے طرز سیاست پر بھی طنز کرتے رہے ہیں جب وہ الزام تراشی پر آئیں۔ وہ پیپلز پارٹی کے نااہلی کا رونا روتے رہے ہیں جب کراچی میں گند کے پہاڑ کھڑے ہوں اور جماعت اسلامی کی منافقت پر بھی ماتم کرتے رہے ہیں جب وہ حلب پر ماتم کررہے ہوتے ہیں لیکن کوئٹہ، پاراچنار سمیت پاکستان میں اسی ہزار شہادتوں پر چُپ کا روزہ رکھے ہوئے ہوں۔ سلمان حیدر طالبان، لشکر جھنگوی، جند اللہ، سپاہ صحابہ اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے خلاف لکھتے رہے ہیں جب وہ مسجدوں، بازاروں، چرچوں اور امام بارگاہوں کو بارود سے اُڑا کر انسانوں کا خون بہاتے ہیں اور اُوریا مقبول جان جیسے نام نہاد مبلغین اور اینکر پرسن مین سٹریم میڈیا پر بیٹھ کر انہی طالبان لیڈرز کو طرح طرح کے القابات دیکر مدح سرائی کرتے ہیں۔ سلمان حیدر کی ایک نظم کے کچھ شعر:
۔۔ دل پر زخم اٹھانے والی عمر میں لڑکے
کمرے کی دیوار کے گھاؤ
بندوقوں کی تصویروں سے ڈھک دینے پر
آمادہ کیسے ہوتے ہیں
فتوؤں کی دھاریں ذہنوں کو
آخر کیسے کند کرتی ہیں
جنت میں جو کچھ بھی ہو گا
اس دنیا کو کون جہنم کر دیتا ہے
ماؤں کی گودوں سے اٹھ کر
موت کی گود میں سونے والو
کچھ تو بولو۔۔
سلمان حیدر ان مولویوں کیخلاف بے دھڑک بولتے ہیں جو منبروں پر بیٹھ کر معصوم بچوں کو ورغلاتے ہیں، ان پڑھ اور جاہل لوگوں کو پیغمبر اکرم ص اور قرآن و احادیث کے نام پر بے وقوف بناتے ہیں۔ من گھڑت اور جھوٹی احادیث کا استعمال کرتے ہوئے اقلیتوں اور روشن خیال و لبرل طبقے کیخلاف بلاسفیمی کارڈ استعمال کرتے ہیں جو اکثر اوقات قتل پر منتج ہوتے ہیں۔
سلمان حیدر کمزور طبقے کی ڈھال اور بے آوازوں کی آواز ہیں ۔ وہ جھوٹ کا پردہ چاک کرنے والی سچائی اپنے مضامین اور نظموں کی شکل میں دنیا کے سامنے لاتے رہے ہیں۔ وہ اپنے مضامین اور نظموں کے ذریعے سے غصے اور تشویش کے ملے جلے جذبوں کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اوریا مقبول جان جیسے بیمار ذہن لوگ اور پاکستان ڈیفنس کے فیس بک اور ٹوئٹر والے اکاؤنٹ نے سلمان حیدر اور دیگر بلاگرز اور سماجی کارکنوں پر جو الزامات لگائے ہیں وہ جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ سلمان حیدر جیسے قد آور ادبی و سماجی شخصیتوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر بلاسفیمی جیسے سنگین الزامات لگائے ہیں جس کی تفتیش اور تحقیق اگر ضروری ہے تو کیا ان الزامات کیلئے بلاگرز اور سماجی کارکنوں کا اغوا ضروری ہے؟ کیا ملک میں سائبر کرائم لاز نہیں ہیں جس کے ذریعے لوگوں کو ایک طریقہ کار کے تحت گرفتار کرکے کورٹ میں پیش کیا جائے اور ان پر باقاعدہ مقدمہ چلا کر سزا دی جائے؟
وزیرداخلہ چودھری نثار کا قومی اسمبلی میں بیان آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہیں جس میں انہوں نے کہا کہ ” ایک بلاگر نے گھر فون کیا کہ کچھ بندے آئیں گے انہیں میرا لیپ ٹاپ فراہم کریں”۔ اداروں پر الزامات لگانے پر یقین نہیں رکھتا لیکن حیرانی اور پریشانی ضرور لاحق ہوجاتی ہے جب اداروں میں کچھ لوگ ریاست کو چیلنج کرتے ہیں اور سویلین حکومت بے بس نظر آجائے۔ جب وزیرداخلہ ایک ہفتے تک ڈھونڈنے کے بعد بھی قومی اسمبلی میں بے بس کھڑا نظر آئے تو ایسی حکومت ایک کٹھ پتلی سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔

Views All Time
Views All Time
762
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کیا عید صرف بچوں کی ہوتی ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: