Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

سہارتو: ایشیاء میں لبرل آمریت کا ایک مہرہ – شاداب مرتضی

by دسمبر 15, 2016 کالم
سہارتو: ایشیاء میں لبرل آمریت کا ایک مہرہ – شاداب مرتضی
Print Friendly, PDF & Email

15555039_1047079178748839_178599763_nانڈونیشیا کی نصابی تاریخی کتابوں میں، سرکاری تقریبات میں، سرکاری میڈیا پر، تعلیمی اداروں میں، فلموں اورکہانیوں میں یہ ریاستی بیانیہ شہریوں کے دماغوں میں انڈیلا جاتا ہے کہ 1965 میں انڈونیشیا کی کمیونسٹ پارٹی (پی کے آئی) کے خواتین ونگ نے فوج کے سات میں سے چھ جرنیلوں کو بیدردی سے قتل کردیا اوراقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن اس فوجی سازش کو بابائے قوم جنرل سہارتو نے ناکام بنا کر ملک کو "کمیونزم” نامی خطرے سے بچا لیا۔ انڈونیشیا کی جدید تاریخ میں سنہ 65 کا قتلِ عام سب سے اہم معاملہ ہے اوراس لیے اس وقت انڈونیشیا کی پاپولر سیاست میں "عوامی صلح/مفاہمت” کا سوال عروج پرہے۔ تاہم، ایک عجیب بات یہ ہوئی کہ اس سازش میں زندہ بچ جانے والا فوجی جرنیل سہارتو مارشل لاء کے ذریعے ملک کے اقتدار پر تین دہائیوں کے لیے قابض ہو گیا۔ 
انڈونیشیا کے کمیونسٹ شہریوں کے قتل عامِ کے یہ دو سال (65اور66) انڈونیشیا کے 31 سالہ دورِ تاریکی کا آغاز تھے۔ پورے ملک میں اندازہ 10 لاکھ سے 30 لاکھ کمیونسٹ شہریوں کو قتل کیا گیا۔ سیکنڑوں ہزاروں کمیونسٹ شہریوں کو جیلوں میں ڈالا گیا، جلاوطن کیا گیا یا قطاروں میں کھڑا کر کے گولیاں مار کر انہیں اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا گیا۔ انڈونیشیا میں ان کمیونسٹ شہریوں کی اب تک 100 سے زیادہ اجتماعی قبریں دریافت ہوچکی ہیں۔ 
قتل عام کے لیے فوج اورانتہا پسند مذہبی سیاسی گروہوں کے ڈیتھ اسکواڈبنائے گئے جن کی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ ان میں سے ہر ڈیتھ اسکواڈ ایک دن میں اوسطا 1500 کمیونسٹ شہریوں کو یا ان لوگوں کو جن پر کمیونسٹ ہونے کا شبہ ہوتا قتل کیا کرتا تھا۔ بعض اس حد تک بے رحم، سفاک اور وحشی تھے کہ قتل کے بعد مقتولوں کی کٹی ہوئی گردنیں اچھالتے پھرتے تھے۔ یہ سب اس فوجی آمر کی ناک کے نیچے ہوتا رہا جو ملک کو "کمیونزم” کی بدی سے بچا کر امن و خوشحالی کے دور میں لانے کے دعوے کرتا تھا۔ انڈونیشیا کے اس قتل عام کو بیسویں صدی میں انسانی قتلِ عام کے بھیانک ترین واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔ 
انڈونیشیا کے تاریخ دان، اسوی ورمن آدم، جن کا تعلق انڈونیشیا کے انسٹیٹیوٹ آف سائنسز سے ہے، انہوں نے گزشتہ مہینے نیدرلینڈ میں اس قتل عام کے معاملے پر بنائے گئے عوامی ٹریبونل سے خطاب میں کہا کہ سہارتو کی آمریت میں انڈونیشیا کی تاریخ کو مسخ کر دیا گیا اور نصابی کتب میں تاریخ کا کمیونسٹ مخالف بیانیہ ریاستی بیانیہ بن گیا۔ 
کمیونسٹ پارٹی، کمیونزم یا مارکسزم سے تعلق رکھنے والے افراد یا ایسے مشتبہ افراد کو خاندانوں سمیت قتل کر دیا گیا۔ ہزاروں گاؤں جلا دیے گئے۔ دریا خون سے بھر دیے گئے۔ جکارتہ، بالی، جاوا اور سماترا میں جہاں انڈونیشیا کی قریبا 90 فیصد آبادی رہتی ہے، کمیونسٹ سیاست کرنے والے مزدور، کسان، طلباء، عورتیں، اساتذہ، ادیب، فنکار، صحافی، سپاہی، سرکاری ملازم، وزراء، سیاسی لیڈروغیرہ خاندانوں سمیت قتل کر دیے گئے اور لاکھوں کو جیلوں میں قید کر دیا گیا۔ ہر شہری کے لیے لازم ٹہرا کہ اگر وہ زندہ رہنا چاہتا ہے تو کمیونزم سے لاتعلقی کا کلیئرنس سرٹیفیکیٹ حاصل کرے۔ 
انڈونیشیا سترہوٰیں صدی سے نیدرلینڈ (ڈچ سامراج) کی غلام ریاست تھا۔ جس طرح برطانوی سامراج کی ایسٹ انڈیا کمپنی اپنی آزاد تجارت اور کاروبار کے لیے ہندوستان پر لبرل ازم کے ظلم کی تاریخ رقم کر رہی تھی اسی طرح ڈچ سامراج کی ڈچ ایسٹ انڈیز انڈونیشیا کا لبرل معاشی اور سماجی استحصال کر رہی تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران انڈونیشیا برطانوی، فرانسیسی، پرتگیزی، ڈچ اور جاپانی سامراج کی استعماری جنگ کا اکھاڑا بن گیا۔ تاہم، انڈونیشیا کی عوام نے مسلح جدوجہد کے زریعے ان سب لبرل سامراجیوں کو شکست دی اور 1945 میں خود مختاری کا اعلان کردیا۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈونیشیا اپنے گوریلا اور ملیشیاء یونٹوں کے ساتھ اس جنگِ آزادی میں صف اول کی جانباز تھی۔ آزادی کے بعد نیشنل فرنٹ کی مخلوط حکومت کے ساتھ معاہدے کے بعد اس نے جنگی سیاست کو ترک کر کے پرامن جمہوری سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا اور انڈونیشیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈونیشیا کی داغ بیل 1914 میں پڑی۔ 1943 تک یہ کمیونسٹ انٹرنیشنل کی ممبر رہی۔ یہ ایشیاء کی پہلی کمیونسٹ پارٹی تھی جو کمیونسٹ انٹرنیشنل کی ممبر بنی۔ 1960 کے ایک تخمینے کے مطابق اس وقت اس کے رجسٹرڈ بنیادی ممبروں کی تعداد 30 لاکھ تھی۔ اس کے علاوہ ٹریڈیونین، کسان، طلباء اور نوجوان اور خواتین محاذ میں کام کرنے والے اس کے فرنٹ ممبروں کی تعداد 1 کڑوڑ 50 لاکھ تھی۔ سوویت یونین اور چین کے بعد یہ دنیا کی تیسری سب سے بڑی کمیونسٹ پارٹی تھی جو عوام میں گہری اشتراکی سیاسی جڑیں رکھتی تھی۔ پچپن کے الیکشن میں اس نے جنرل اسمبلی کی 39 اور آئین ساز اسمبلی کی 80 نشستیں جیتی تھیں۔ جکارتہ میں اس کے دفتر پر ایک مذہبی انتہا پسند گروہ کی جانب سے کیے گئے بم دھماکے کے باوجود اس نے میونسپل الیکشن میں کامیابیاں حاصل کیں تھیں۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈونیشیا ملک کی پہلی سویلین حکومت کے پہلے صدر سوئیکارنو کی "گائیڈڈ ڈیموکریسی” کی حمایت کرتی تھی۔ سوئیکارنو کے اس سیاسی فلسفے کے تین عناصر تھے: قومی اتحاد، اسلام اور کمیونزم۔ اس کے زریعے سہارتو کی وطن پرست حکومت لبرل سامراجی نظام سے انڈونیشیا کی جان چھڑا کر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر خود مختار قومی معیشت قائم کرنا چاہتی تھی۔ اس مقصد کے تحت انڈونیشیا نے 1955 میں "بندوگ کانفرنس” بھی منعقد کی جس میں پاکستان بھی شامل تھا۔ 
دسمبر 1957 میں انڈونیشیا کی کمیونسٹ پارٹی نے ٹریڈ یونیوں کے زریعے ڈچ کنٹرول میں موجود کمپنیوں کو مزدوروں کے کنٹرول میں لینا شروع کردیا۔ 1958 میں کمیونسٹ پارٹی کے بڑھتے ہوئے عوامی اثر کے ردعمل میں امریکی ایماء پر فوج اور دائیں بازو نے حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کردی اور ایک متوازی حکومت کا اعلان کرکے کمیونسٹ پارٹی کے لیڈروں اور ممبروں کو قید اور قتل کرنا شروع کردیا۔ تاہم حکومت نے فوج اور مذہبی انتہا پسندوں کی اس بغاوت پر قابو پالیا۔ 
1955 کے انتخابات کے بعد سے لبرل ازم کے سرخیل امریکہ کوپورا یقین ہو گیا کہ وطن پرست صدر سوئیکارنو انڈونیشیا کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی غلامی اور لبرل سرمایہ دارانہ نظام کی ماتحتی کی لعنت سے بچا کر اسے خود کفیل و خود مختار ریاست بنانا چاہتے ہیں اور کمیونسٹ پارٹی کا عوامی دباؤ ان پر بڑھتا جا رہا ہے۔ چنانچہ امریکہ نے سوئیکارنو کی حکومت اور کمیونسٹ پارٹی کے خاتمے کے منصوبوں پر کام کرنا شروع کردیا۔ انڈونیشیا کا امدادی پروگرام صرف فوجی امداد تک محدود کر کے امریکہ نے فوج میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔ 1965 تک سوئیکارنو نے انڈونیشیا میں تیل اور ربڑ کی غیر ملکی فرموں کو ریاستی تحویل میں لینے کا عمل تیز کردیا تھا۔ اسی دوران دوسری جانب ملک میں مہنگائی میں 600 فیصد اضافہ ہوچکا تھا۔ دارالحکومت جکارتہ سمیت تمام بڑے شہر کمیونسٹ پارٹی آف انڈونیشیا کے طلباء اور خواتین محاذ کی ریلیوں سے لرزرہے تھے۔ کمیونسٹ پارٹی انڈونیشیا پرامریکی تسلط کے خاتمے، معیشت کومزدوروں کے کنٹرول میں لینے اورکسانوں میں زمینوں کی تقسیم کا مطالبہ کررہی تھی اوراسے زبردست عوامی حمایت حاصل تھی۔ 
سال 2001 میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود ڈی کلاسیفائی ہونے والی دستاویزات سے یہ بات پایہِ ثبوت کو پہنچ گئی کہ لبرل امریکی سرمایہ دار حکومت سہارتو کے ہاتھوں انڈونیشیا میں کمیونسٹوں کے قتلِ عام میں براہِ راست ملوث تھی۔ اس معاملے پر تحقیق کرنے والے محققین کے مطابق 1959 سے 1965 کے دوران امریکہ نے انڈونیشی فوج کو 64 ارب ڈالر مالیت کے فنڈز دیے۔ فوجی امدادی پروگرام کے تحت 4 ہزارفوجی افسروں کی ٹریننگ کی گئی اور سوئیکارنو کی حکومت کا تختہ الٹنے اور کمیونسٹ پارٹی کا صفایا کرنے کا منصوبہ بنایا گیا جسے عملی جامعہ پہنانے کے لیے جرنل سہارتو کا انتخاب کیا گیا۔ 1957 اور 1958 میں سلاویسی اور سماترا میں جہاں کالٹیکس اور دوسری امریکی تیل کمپنیوں کے اثاثے تھے وہاں دائیں بازو کے گروہوں کے زریعے علیحدگی کی مہمیں چلائی گئیں اور مذہبی فسادات کروائے گئے۔ امریکی سفارتخانے کی جانب سے سہارتو کو 5 ہزارکمیونسٹوں کی فہرستیں دی گئیں جن پر، سی آئی اے کی دستاویزات، کے مطابق ایوانِ صدر کو ہر روز کارروائی سے مطلع کیا جاتا تھا اور قتل کیے جانے والے یا گرفتار کر لیے جانے والے کمیونسٹوں کے ناموں کو نشان زد کیا جاتا تھا۔ 
امریکی نیشنل سیکیورٹی کونسل کی دستاویز کے مطابق 1954 میں یہ فیصلہ کیا جا چکا تھا کہ سوئیکارنو کی حکومت گرانے کے لیے "۔۔۔ ہرممکن خفیہ زرائع استعمال کیے جائیں جن میں بلحاظِ ضروت فوجی قوتوں کا استعمال بھی شامل ہے تاکہ انڈونیشیا کے بہترین وسائل رکھنے والے علاقے کمیونسٹوں کے ہاتھوں میں نہ جا سکیں۔۔۔”۔ 
سوئیکارنو کی حکومت کو ختم کر کے جرنل سہارتو کے زریعے انڈونیشیا کی معیشت کو لبرل بنانے کے لیے "برکلے مافیا” کو تشکیل دیا گیا جن میں وہ انڈونیشی ماہرِ معیشت شامل تھے جنہیں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے، میں لبرل معیشت کے ہتھکنڈے سکھائے گئے۔ ان ماہرین کا فوج کی اعلی قیادت میں کافی اثرونفوذتھا۔ اس پروگرام میں فورڈ فاؤنڈیشن، رینڈ کارپوریشن، راکفیلر فاؤنڈیشن، کونسل آف فارن ریلیشنز اور بعض تعلیمی ادارے شامل تھے۔ محقق پیٹر ڈیل اسکاٹ نے اس پروگرام کی تفصیلات کو اس معاملے پر اپنے تحقیقی مطالعے میں قلمبند کیا ہے۔ 
سہارتو کے زریعے کمیونسٹوں کے قتل عام سے اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کے بعد ہارورڈ یونیورسٹی کے ان ماہرینِ معیشت کے تعاون سے جو تب جنوبی کوریا کی بینکنگ پالیسی بنا کر فارغ ہوئے تھے، جنیوا کانفرنس میں انڈونیشیا کی اقتصادی پالیسی کو طے کیا گیا۔ اس پالیسی کی مانیٹرنگ کے لیے فورڈ فاؤنڈیشن کے تعاون سے ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرینِ معیشت پر مشتمل ایک ٹیم کو انڈونیشیا کی اقتصادی پالیسی پر ہموارعلمدرآمد کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس کانفرنس میں سہارتو کی کابینہ کے نمائندوں نے جن ٹرانس نیشنل کمپنیوں سے اقتصادی، مالیاتی و تجارتی معاہدے کیے ان میں راکفیلر فاؤنڈیشن، آئی سی آئی، سیمینز، برٹش لے لینڈ، ہائنز، جنرل موٹرز، برٹش امریکن ٹوبیکو، امریک ایکسپریس، چیس مین ہٹن بینک، ڈنلوپ، اسٹینڈرڈ آئل، یو ایس اسٹیل، ایلومینیم کمپنی آف امریکا، انٹرنیشنل پیپر کمپنی، سوئس بینک وغیرہ شامل تھے۔
تاہم وقت کا پہیہ گھوما اور بالآخر 31 سال انڈونیشیا پرلبرل امریکی آشیرباد سے آمرانہ حکومت کرنے والے سہارتو کو عوامی بغاوت کی وجہ سے اقتدار چھوڑنا پڑا۔ جاتے جاتے وہ اپنا نام سفاک ترین آمر، کرپٹ ترین لیڈر اورانسانیت کے مجرم کے طور پر تاریخ کے کچرے دان میں ڈال گیا۔
پچھلے سال نومبر میں ہیگ کے بین الاقوامی عوامی ٹریبونل نے امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کو 1965 کے اس قتلِ عام میں سہارتو کا شریکِ جرم قراردیا۔ برطانیہ اور آسٹریلیا کو میڈیا کے زریعے اس قتلِ عام کو سہارتو کے حق میں استعمال کرنے کے لیے اورامریکہ کو براہِ راست اس میں شامل ہونے کی بناء پر۔ ٹریبونل نے ان تینوں ملکوں کو مقدمے میں شامل ہونے کی دعوت دی لیکن سب نے انکار کردیا۔ گواہوں کے بیانات اور دستاویزی ثبوتوں کے جائزے کے بعد ٹریبونل نے تمام شریکِ جرم لبرل ریاستوں سے جرم کے اقرار اور اس کے لیے ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ 
انڈونیشیا کے اس قتلِ عام کے بارے میں جن بنیادی باتوں پر سب کو اتفاق ہے وہ یہ ہیں کہ جرنل سہارتو کا ہدف کمیونسٹ پارٹی، اس کے عوامی محاذ، تنظیمیں اور ہمدرد تھے۔ سہارتو نے اقتدار پر قبضے کے لیے نومبر 30 کی وہ سازش خود رچائی تھی جسے جوازبنا کراس نے قتلِ عام کیا کیونکہ کمیونسٹ پارٹی کے اس میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آسکا جبکہ سہارتو کے خود ملوث ہونے کی کافی شہادت موجود ہے۔ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا اس قتل عام میں سہارتو کے شریک تھے اور امریکہ ان کا سرغنہ تھا۔ سہارتو کے زریعے امریکی و یورپی لبرل سرمایہ داروں نے انڈونیشیا کی معیشت پر اپنا تسلط قائم کیا۔
جنرل سہارتو لبرل ازم اور کمیونزم کے درمیان سرد جنگ میں کوئی "غیرجانبدار مہرہ” نہیں تھا۔ اشتراکیت، یعنی محنت کش عوام کے اقتدار کے خلاف اس نے لبرل ازم کا یعنی سرمایہ دار طبقے کا دکھایا ہوا راستہ اختیار کیا اور اس انسانیت سوز عمل میں لبرل سرمایہ دار ریاستوں نے اس کی تربیت، سرپرستی اور مدد کی۔ 
سوشلزم کے لبرل ناقدین سوشلزم پر یہ الزام لگاتے نہیں تھکتے کہ اشتراکیت "جبر” کے نظام کو پیدا کرتی ہے جبکہ لبرل ازم جبر سے آزادی کا نقیب ہے۔ انڈونیشیا میں لبرل ریاستوں کے سدھائے ہوئے جرنل سہارتو اوراس کے اتحادی مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھوں اشتراکیوں کے اس ہولناک قتلِ عام کا الزام وہ کس کو دیں گے؟

Views All Time
Views All Time
294
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   حرفِ دُعا
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: