Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ماؤں کی سات اقسام

by مئی 14, 2016 بلاگ
ماؤں کی سات اقسام
Print Friendly, PDF & Email

Maaida Mahmoodمدرز ڈے پر جہاں مجھ جیسوں نے صرف ماں کے لیے نیک تمناؤں سے کام چلایا، وہیں کئی دوستوں نے اپنی اماں کے ساتھ سیلفی سوشل میڈیا پر لگا کر اظہار محبت کیاکچھ نے تحفے دیے، تو کچھ نے خوبصورت نظمیں اور سٹیٹس لکھ کر ماؤں کو خراج تحسین پیش کیا۔
ہماری امی کہتی ہیں کہ ماؤں کی سات قسمیں ہوتی ہیں۔ اور ایک کتیا ماں بھی ہوتی ہے جو پیدا کر کے چھوڑ دیتی ہے، بچہ قریب آے تو بھونک بھونک کر اسے بھگا دیتی ہے۔
ماؤں میں سے ایک ماں خرم زکی کی ماں‌بھی ہے جس کو مدرز ڈےپر اپنے 40 سالہ بیٹے کا وجود کفن میں لپٹا ملا۔
سنا ہے شہید کی ماں کو صبر آسانی سے آتا ہے، سنا ہے خدا کی رحمت اسکا احاطہ کیے ہوتی ہے، سنا ہے قیامت کے روز شہید اپنی ماں کی شفاعت بھی کرے گا۔ کچھ بہادر مائیں خود اپنے جوان بیٹوں کی شہادت کی دعائیں مانگتی ہیں. میدان کربلا میں مائیں اپنے بچوں کو دولہا بنا کر میدان میں جنگ کے لیے بھیجتی تھیں ،اور بے اولاد عورتیں روتی تھیں کہ ان کی طرف سے کوئی نذرانہ پیش نہ ہوا۔ سلام ہے ان ماؤں پر جو الله کی رہ میں اپنی سب سے قیمتی شے قربان کرتی ہیں۔
ایک ایسی بدنصیب ماں بھی ہے جوشاید کتیا ماں کہلانے کے لائق بھی نہیں۔ قاتل کی ماں۔۔سوچتی ہوں اسے مدرز ڈے پر کیا تحفہ ملا ہو گا؟ نائن ایم ایم کی 19گولیوں کے خول؟
اماں نے وہ میڈل کی طرح ڈرائنگ روم کی دیوار پر سجاے ہونگے اور ہرآئےگئے کو فخر سے دکھاتی ہونگی۔
یا شاید اس نے ڈانٹا ہو گا "تم 4 اور وہ ١…19 گولیوں میں صرف 5 لگیں؟ اگلی دفعہ دل ۔جمعی کے ساتھ کام کرنے کی تلقین کی ہو گی۔
اپنی سہیلیوں میں بیٹے کے کارنامے فخر سے بتاتی ہو گی "ایک ٹھکائی کے دس ہزار لیتا ہے میرا چاند۔۔۔”
اپنی بہن کو سونے کے کنگن دکھا کر کہتی ہو گی "ابھی پچھلے سال سکول کے معصوم بچوں پر فائرنگ کی تھی ناں… اسی کمائی کے ہیں۔۔۔”
نہ جانے اور کیا کہتی ہو گی وہ بدبخت۔
میری خواہش ہے کہ خونی کی ماں یہ سب پڑھے اور بیٹے کا اصل چہرہ دیکھ کر روئے اور کوسے اس وقت کو جب کوکھ میں ایک قاتل کو لیے وہ سیڑھیاں اس ڈر سے آہستہ اترتی تھی کہ ہونے والے بچے کو تکلیف نہ ہو۔ ” کاش میں سیڑیوں سے گر ہی جاتی۔
دائی نے جب بیٹے کی پیدائش پر لال ریشمی جوڑا مانگا تھا تو اس دائی سے بچے کا گلہ کیوں نہ گھٹوایا۔۔۔اس سالن میں زہر ملا دیتی جس کی بوٹی میں نے بیٹے کے لیے بچا کررکھی اور دیگچی کی کھرچن سے روٹی لگا کر کھائی۔۔۔”
خیر ایک قصّہ لکھوں؟
پھانسی دیے جانے والے ایک مجرم کو جب پھانسی گھاٹ لایا گیا تو وہاں کے افسر نے اس سے آخری خواہش پوچھی۔ مجرم نے کہا مجھےمیری ماں سے ملا دو۔ ماں روتی پیٹتی پھانسی گھاٹ تک آئی۔
بیٹے نے ماں سے کہا کہ وہ اپنا کان قریب کرے۔ جوں ہی ماں اپنا کان بیٹے کےمنہ کے پاس کرتی ہے بیٹا اس کا کان اپنے دانتوں سے کاٹ دیتا ہے اور اپنے آخری الفاظ کہتا ہے:
"میرے ہاتھ پیر بندھے ہیں اور اس وقت میں تجھ سے یہی بدلہ لے سکتا ہوں۔ کاش جب میں پہلی بار پڑوسی کی مرغی کے انڈے چرا کر لایا تھا تو تو نے مجھے تھپڑ لگادیا ہوتا
تو آج میں اس جگہ نہ کھڑا ہوتا۔”
کتنی تلخ حقیقت ہے کے ہم بری صحبت، تنظیموں اور مدارس کو دہشت گرد کی جائے پیدائش سمجھتے ہیں۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ راحیل شریف اورصولت مرزا میں فرق ان کی طریقہ تربیت سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔
کوئی شبہ نہیں کہ ایک بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہی ہے۔

Views All Time
Views All Time
908
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   اگر زینب زندہ ہوتی
Previous
Next

One commentcomments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: