Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

شریکۃ الحسینؑ و ام المصائبؑ کا کوفہ میں دیا گیا خطبہ

by اکتوبر 13, 2016 اسلام
شریکۃ الحسینؑ و ام المصائبؑ کا کوفہ میں دیا گیا خطبہ
Print Friendly, PDF & Email

نوٹ : یہاں جن اہل کوفہ سے خطاب ہے وہ ،ایسے لوگ ہیں جنھوں نے عہد کرنے کے بعد توڑ دیا ، وہ عبیداللہ ابن زیاد کے سامنے ٹھہر نہ سکے اور جنھوں نے لالچ میں آکر عبیداللہ ابن زیاد کا ساتھ دیا۔اس میں سلیمان بن صرد الخزاعی سمیت وہ تمام شیعان علی شامل نہیں ہیں جنھوں نے قید و بند کی صعوبتیں کاٹیں ، جیل چلے گئے یا زیر زمین انھوں نے قافلہ حسین کی مدد کرنے کی کوشش کی۔زینب بنت علی ابن ابی طالب کا یہ معرکۃ الآراء خطبہ ہے

الحمد للہ والصلاة على أبي محمد وآلہ الطيبين الاخيار، اما بعد يا أہل الكوفة، يا أہل الختل والغدر، أتبكون فلا رقأت الدمعة، ولا ہدات الرنة، انما مثلكم كمثل التي نقضت غزلہا من بعد قوة انكاثاً، تتخذون أيمانكم دخلا بينكم، الا وہل فيكم الا الصلف والنطف، والعجب والكذب والشنف، وملق الاماء، وغمز الأعداء، او كمرعى على دمنة، او كقصة على ملحودة، ألا بئس ما قدمت لكم انفسكم ان سخط اللہ عليكم، وفي العذاب انتم خالدون۔
أتبكون وتنتحبون، اي واللہ فابكوا كثيراً، واضحكوا قليلاً، فلقد ذہبتم بعارہا وشنارہا، ولن ترحضوہا بغسل بعدہا ابداً، وأنى ترحضون، قتل سليل خاتم النبوة، ومعدن الرسالة ومدرة حجتكم، ومنار محجتكم، وملاذ خيرتكم، ومفزع نازلتكم۔ وسيد شباب أہل الجنة الا ساء ما تزرون۔
فتعساً ونكساً وبعداً لكم وسحقاً، فلقد خاب السعي، وتبت الايدي، وخسرت الصفقة، وبؤتم بغضب من اللہ ورسولہ، وضربت عليكم الذلة والمسكنة۔
ويلكم يا أہل الكوفة، أتدرون أي كبد لرسول اللہ فريتم؟
وأي كريمة لہ أبرزتم؟
وأي دم لہ سفكتم؟
وأي حرمة لہ انتہكتم؟
لقد جئتم شيئاً اداً، تكاد السماوات يتفطرن منہ، وتنشق الأرض، وتخر الجبال ہدّاً!
ولقد أتيتم بہا خرقاء، شوہاء كطلاع الأرض، وملء السماء، افعجبتم ان مطرت السماء دماً، ولعذاب الآخرة اخزى وہم لا ينصرون، فلا يستخفنكم المہل، فانہ لا يحفزہ البدار، ولا يخاف فوت الثار، وان ربكم لبالمرصاد
سب تعریفیں خدا وند ذوالجلال و الاکرام کے لئے ہیں اور درود و سلام ہو میرے نانا محمدؐ پر اور ان کی طیب و طاہر اور نیک و پاک اولاد پر۔ اما بعد! اے اہلِ کوفہ!اے اہل فریب و مکر !کیا اب تم روتے ہو؟ (خدا کرے) تمھارے آنسو کبھی خشک نہ ہوں اور تمھاری آہ و فغان کبھی بند نہ ہو ! تمھاری مثال اس عورت جیسی ہے جس نے بڑی محنت و جانفشانی سے محکم ڈوری بانٹی اور پھر خود ہی اسے کھول دیااور اپنی محنت پر پانی پھیر دیا تم (منافقانہ طورپر) ایسی جھوٹی قسمیں کھاتے ہو۔جن میں کوئی صداقت نہیں۔ تم جتنے بھی ہو، سب کے سب بیہودہ گو، ڈینگ مارنے والے ، پیکرِ فسق و فجور اور فسادی ،کینہ پرور اور لونڈیوں کی طرح جھوٹے چاپلوس اور دشمنی کی غماز ہو۔ تمھاری یہ کیفیت ہے کہ جیسے کثافت کی جگہ سبزی یا اس چاندی جیسی ہے جو دفن شدہ عورت (کی قبر) پر رکھی جائے۔ آگاہ رہو! تم نے بہت ہی برے اعمال کا ارتکاب کیا ہے۔ جس کی وجہ سے خدا وند عالم تم پر غضب ناک ہے۔ اس لئے تم اس کے ابدی عذاب و عتاب میں گرفتار ہو گئے۔ اب کیوں گریہ و بکا کرتے ہو ؟ ہاں بخدا البتہ تم اس کے سزاوار ہو کہ روؤ زیادہ اور ہنسو کم۔تم امام علیہ السلام کے قتل کی عار و شنار میں گرفتار ہو چکے ہو اور تم اس دھبے کو کبھی دھو نہیں سکتے اور بھلا تم خاتم نبوت اور معدن رسالت کے سلیل(فرزند) اور جوانان جنت کے سردار، جنگ میں اپنے پشت پناہ ،مصیبت میں جائے پناہ، منارۂ حجت اور عالم سنت کے قتل کے الزام سے کیونکر بری ہو سکتے ہو۔ لعنت ہو تم پر اور ہلاکت ہے تمہارے لئے۔تم نے بہت ہی برے کام کا ارتکاب کیاہے اور آخرت کے لئے بہت برا ذخیرہ جمع کیا ہے۔ تمھاری کوشش رائیگاں ہو گئی اورتم برباد ہو گئے۔تمہاری تجارت خسارے میں رہی اور تم خدا کے غضب کا شکار ہو گئے ۔تم ذلت و رسوائی میں مبتلا ہوئے۔ افسوس ہے اے اہل کوفہ تم پر، کچھ جانتے بھی ہو کہ تم نے رسول ؐ کے کس جگر کو پارہ پارہ کر دیا ؟ اور ان کا کون سا خون بہایا ؟ اور ان کی کون سی ہتک حرمت کی؟ اور ان کی کن مستورات کو بے پردہ کیا ؟ تم نے ایسے اعمال شنیعہ کا ارتکاب کیا ہے کہ آسمان گر پڑیں ، زمین شگافتہ ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔ تم نے قتلِ امام کا جرم شنیع کیا ہے جو پہنائی و وسعت میں آسمان و زمین کے برابر ہے۔اگر اس قدر بڑے پر آسمان سے خون برسا ہے تو تم تعجب کیوں کرتے ہو ؟ یقیناً آخرت کا عذاب اس سے زیادہ سخت اور رسوا کن ہوگا۔اور اس وقت تمہاری کوئی امداد نہ کی جائے گی۔ تمہیں جو مہلت ملی ہے اس سے خوش نہ ہو۔کیونکہ خدا وندِ عالم بدلہ لینے میں جلدی نہیں کرتا کیونکہ اسے انتقام کے فوت ہو جانے کا خدشہ نہیں ہے۔ ”یقیناً تمہارا خدا اپنے نا فرمان بندوں کی گھات میں ہے”۔ِ

 

Views All Time
Views All Time
695
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   عقیلہ بنی ہاشم زینبؑ بنت علیؑ : أنتِ بحمد الله عالِمةٌ غيرُ مُعلَّمة، فَهِمةٌ غيرُ مُفهَّمة - مستجاب حیدر
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: