Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

شہرِ وبال، احساسِ زیاں کی موت، اور میڈیا

by مئی 28, 2016 بلاگ
شہرِ وبال، احساسِ زیاں کی موت، اور میڈیا
Print Friendly, PDF & Email

qasim aliباہرآسمان پر وسط مارچ کا اُدھورا چاند بجھا بجھا سا چمک رہا تھا۔ چند سرمئی بدلیاں ،دن بھر آسمان کی وسعتوں میں آوارہ گردی کرنے کے بعد، تن پھیلائے سورہی تھیں۔ اندر کمرے میں موجود گھر کے تمام افراد کی نظریں ٹی وی اسکرین پر مرکوز تھیں۔ ٹی وی پر نیوز اینکر سپاٹ چہرے کے ساتھ مسافروں سے بھری کسی بس کے گہری کھائی میں گرنے کی خبر سنا رہا تھا۔ تمام افراد لاتعلق سے انداز میں یہ خبر سن رہے تھے جیسے یہ معمول کی بات ہو۔ ویسے اب یہ معمول ہی کی بات بن گئی ہے۔ کون روز روز مرنے والوں کا ماتم کرتا پھرے ؟
اِس ملک میں انسانی جان کی حُرمت اتنی پامال ہوئی ہے کہ کسی آدمی کے جان سے چلے جانے کا واقعہ کوئی بڑی خبر رہا ہی نہیں۔ ایک دور تھا کہ بڑے بوڑھے جب دیکھتے تھے کہ ہلکی سی لالی مغربی افق سے شروع ہو کر، پورے آسمان کے دامن پر پھیل گئی ہے، تو استغفار پڑھتے ہوئے بچوں کو بتاتے تھے کہ ضرور دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں کسی انسان نے کسی دوسرے انسان کی ناحق جان لی ہے۔ اب تو مائیں گھروں میں بیٹھی جگر گوشوں کی راہ تکتی رہ جاتی ہیں مگر اُن کی زندہ صورت دیکھنا نصیب نہیں ہوتی۔ بھائی سرد خانوں میں بھائیوں کی لاشیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں ۔ بوڑھے باپ کی آنکھیں اپنے پیارے، جیون کے سہارے ،کی راہ تکتے تکتے پتھرا کر ساکت ہوجاتی ہیں۔ سہروں کے پھول قبروں کی زینت بنتے ہیں۔ بچوں کے بستے الماریوں میں دھرے رہ جاتے ہیں۔پھر بھی نہ تو آسمان کا رنگ لال ہوتا ہے نہ ہی زمین شق ہوتی ہے۔
جس طرف نظر کریں ہر شخص نے بے حسی، سنگدلی اور بے اِعتنائی کی دبیز چادر اوڑھ رکھی ہے۔ اس پُر آشوب دور میں، اگر ایک گھر کے آنگن میں عورتیں لاش پر بین کرتی ہیں، تو اسی محلے کے کسی دوسرے گھر میں لوگ بڑی بے فکری سے، کسی شادی بیاہ کی خوشی منا تے ہیں۔ اس میں ان لوگوں کا بھی کچھ زیادہ دوش نہیں۔ اگر کوئی شخص اپنی آنکھوں کے سامنے خون کے اتنا دریا بہتے دیکھے، جسموں کے چیتھڑے اُڑتے دیکھے ، بچوں کے ننھے جسم گولیوں سے چھلنی ہوتے دیکھے، سرعام عورتوں کی عصمت دری ہوتی دیکھے، ماں باپ کو پیٹ کی خاطر اولاد کی بولی لگاتا دیکھے، رزق کے ایک لقمے کی خاطر خاندان کے خاندان اینٹو ں کے بھٹوں اور جاگیرداروں کی زمینوں اور سرمایہ داروں کی دھواں اُگلتی فیکڑیوں میں ،کڑی مَشقت کی اَگنی میں جلتے دیکھے، تو پھر وہ بے حس ہو جاتا ہے۔ وہ ہر شے سے لاتعلق ہو کر اپنی عافیت کے جزیرے میں، اُس وقت تک زندہ رہنا چاہتا ہے ،جب تک ایسی ہی کوئی آفت اُسے بھی فنا کی پاتال میں نہ کھینچ لے۔
کسی بھی انسان کے لیے،اِبتلا میں مبتلا ہونےکا احساس ہونا، بذاتِ خود ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ جب تک انسان کو یہ احساس رہتا ہے کہ وہ مصیبت کے نرغے میں آ گیاہے، تو وہ اُس سے نجات حاصل کرنے کی کوشش بھی کرتا رہتا ہے۔ اگر کسی مصیبت زدہ آدمی کا دل اس احساس سے، کہ وہ مصیبت سے دوچار ہے ، خالی ہو جائے، تو وہ اس مصیبت سے چھٹکارے کی تدبیر کیوں کر کرے گا؟ وائے قسمت ! کہ ہمارے معاشرے سے یہ انمول احساس اُٹھ گیا ہے۔ اگر روشنی کی پونچی لٹتی رہے اور لوگ اندھیرے سے مفاہت کرنے کی سوچنے لگیں ،تو پھر شہر کی فصیلوں پر جلنے والا آخری چراغ بھی بجھ جا یا کرتا ہے۔ یہ لٹ جانے ، خانماں برباد ہو جانے ، افتاد کے شکنجے میں پھنس جانے،کا احساس ہی ہے جوامید کےاس آخری چراغ کی حفاظت کرتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں ،احساسِ زیاں کی موت کیا صرف پے درپے آنے والی مصیبتوں کے سبب سے ہوئی ہے؟ ہرگز نہیں۔ حالات تو اس کے ذمہ دار ہیں ہی ،مگر الیکٹرونک میڈیا نے بھی اس احساسِ زیاں کو مارنے میں بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ایسا تو ممکن نہیں کہ میڈیا تمام تر تلخ حقائق سے چشم پوشی کر کے ‘سب اچھا ہے’ کا راگ الاپتا رہے مگر جس انداز سے خبر نشر کی جاتی ہے، وہ ایک مہذب معاشرے کےلیے کسی طوربھی قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ ہر دو چار ثانیوں کے وقفے کے بعد وہی سرخ اسکرین،بریکنگ نیوز ، کڑکتی بجلیاں، اینکر کی جذبات سے لبریز آوازاور اُکھڑی ہوئی سانسوں کے ساتھ کسی کے مرنے، کسی عورت کی عصمت دری، کسی کمزور پر کسی طاقتور کے قہر بن کر ٹوٹنے کی خبر۔ ۔ ۔ تو ایسا کس مہذب معاشرے میں ہوتا ہے؟ ایسی سنسنی پر مبنی صحافت کا ڈول ڈال کر آپ نے خبر اور خبریت کے ساتھ جو کھیلواڑ کیا وہ ایک طرف، مگرآپ نے لوگوں کی نفسیات کو جس طور تبدیل کیا ہے، وہ اپنی جگہ پیشہ ورانہ جرم سے کم نہیں۔
مغربی ذرائع ابلاغ بلخصوص ٹی وی چینلزکا طرزِ صحافت ہمارے ہاں مروجہ انداز سے قدرے مختلف ہے۔تہذیب یافتہ ممالک میں جب کوئی ایسا دلخراش واقعہ رونما ہوتا ہے ، تو ٹی وی اینکر کی آواز مذید دھیمی پڑ جاتی ہے، لہجے میں مذید سنجیدگی اور متانت در آتی ہے۔ آپ نمونے کے طور پر یوٹیوب سے 11/9 کے پرانے نیوز کلپ نکال کرملاحظہ کریں۔ آپ دیکھیں گے کہ مسافروں سے بھرے دو طیارے فلک بوس جڑواں ٹاوروں سے ٹکرا دئیے گئے ، مگر مجال ہے کہ کسی ٹی اینکر کے لہجے میں مصنوعی جذباتیت کی ذرا سی جھلک بھی نظر آ جائے یا آواز خبر پڑھتے ہوئے بلند ہو جائے۔ اب تصور کریں کہ خدانحواستہ اگر اسی نوعیت کا کوئی واقعہ ہمارا ملک میں پیش آ جاتا تو نیوز چینلز کا کیا ردعمل ہوتا۔نیوز اینکر تو ضرور اسٹوڈیو کی چھت پھاڑ کر نکل جاتا، یا کم از کم اُس کا سر ضرور بھک سے اڑ جاتا۔ اگر یہ دونوں صورتیں ظہور پذیر نہ ہو تیں تو اینکر کی چنگھاڑتی ہوئی آواز سے کم از کم اسٹوڈیو کی چھت ضرور نیچے آن رہتی۔ سارا دن ٹی وی اسکرین کے ایک کونے میں، دو جہازوں کے بلند عمارتوں کے ساتھ ٹکرا کر پھٹ جانے کا بیہودہ سا اینی میشن ،ناظرین کا منہ چڑھاتارہتا۔ اسی اندازِ صحافت نے خبر اور احساسِ زیاں کا جنازہ نکال دیا ہے۔ کیا میڈیا خود احتسابی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسی روش ترک کرنے پر غور کرے گا؟ واللہ اعلم
مشہور افسانہ نگار اور کالم نویس انتظار حسین صاحب نے اپنے شہکار ناولٹ ‘بستی’ میں سروں کی فصل پک کر تیار ہو جانے کا مژدہ سنایا تھا۔ سروں کی اس فصل کا بیج ہمارے پرکھوں نے اس ارضِ پاک کے چپے چپے میں کاشت کیا تھا۔اب ہم چاہیں یا نہ چاہیں، اس فصل کی کٹائی کا ناخوشگوار فریضہ اسی بدقسمت نسل کو سر انجام دینا ہوگا۔ بس اب اتنی سی تمنا کہ ہے جب ہم اس خونچاں رات کے اختتام تک پہنچیں تو ہماری روحیں سلامت ہوں تاکہ ہم مستقبل کی تعمیر نو کرنے کے قابل ہو سکیں۔ روحوں کو موت کی ٹھنڈی آغوش میں سونے سے روکے گا احساس زیاں۔ اس احساس کو جلا بخشنے کو اب ایک عیسیؑ درکار ہے۔ اُس عیسیؑ کی ‘قم’ کا مسکن ہماری اپنی ذات کا حصار ہے۔ کسی نہ کسی طور ہمیں اس احساسِ زیاں کو زندہ رکھنا ہے تاکہ جو کھو گیا اسے پانے کی سعی کرتے رہیں۔

Views All Time
Views All Time
420
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   بیٹے کے نام خط – پانچویں سالگرہ | مصلوب واسطی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: