زخموں کا حساب

Print Friendly, PDF & Email

zakhmo ka hisaabعالمی افسانوی میلہ 2016 ۔۔
عالمی افسانہ فورم ۔۔۔
افسانہ نمبر 12 ۔۔ ” زخموں کا حساب ”
معین ا لا سلام صوفی بستوی ؛ خلیل آباد …….سنت کبیرنگر (انڈیا)
********************************************
میں دفترمیں بیٹھا ایک کیس کی فائل کا مطالعہ کر رہا تھا کہ سفید پوشاک میں ملبوس ایک لحیم شحیم شخص بلند آواز میں مخاطب ہوئے-السلام علیکم –
میں نےبھی وعلیکم السلام کہااورآنے کا مقصد دریافت کیا-بولے میرا کیس ذرا پیچیدہ ہے-آپ خالی ہو جائیں تومیں اپنی داستان سناؤں -کچھ دیرخاموشی کے بعد میں نے کہا کہیئے آپ کی کیا داستان ہے-”مجھے رجب علی بیگ کہتے ہیں میں کلکٹریٹ میں٣٥ سال نوکری کرنے کے بعد ٢سال قبل ریٹائر ہوا ہوں-جب تک نوکری میں رہا میں نے شادی نہیں کی-شادی نہ کرنے کی کوئی وجہ بھی نہیں تھی-بس یوں سمجھ لیں میں ایک آزاد خیال انسان ہوں مجھے کسی بھی بندش میں رہنا پسند نہیں-”
ریٹائرمنٹ کے بعد میرے دوست احباب نے جینا دشوار کردیا-باربار یہی کہتے ”میاں جوانی تو جیسے تیسے کاٹ لی اب بڑھاپا تنہا کاٹنا بہت مشکل ہوگا -گھر میں عورت ہو تو دووقت کی روٹی نصیب ہو جائے گی ورنہ دوسروں کے دروازوں پر کب تک پیٹ کی آگ بجھاؤ گے وغیرہ وغیرہ -دوستوں کی باتیں میری سمجھ میں آگئیں-اور میں نے شادی کر لینے پر رضا مندی ظاہر کر دی -دوستوں نے میرے لئے رشتے دیکھنا بھی شروع کر دیا –
پاس کے محلے میں ایک لڑکی چند ماہ قبل بیوہ ہوگئی تھی-جس کی عمر ابھی بمشکل ٢٤ سال تھی اسکا شوہر کسی دہشت گرد واقعہ کا شکار ہو گیا تھا -کچھ ماہ بعد اسکے گھر والوں نے اسکی دوسری شادی کر نے کا فیصلہ کیا-یہ بات میرے دوستوں کو پتہ چلی تو انہوں نے میرا ذکر چھیڑدیا- اسکے گھر والوں نے میری عمر جان کر خاموشی اختیار کر لی-اور کسی دوسرے رشتے کی تلاش شروع کر دی- لیکن مالی حالت خراب ہونے کی وجہ سے منا سب رشتہ ملنا مشکل تھا-ہر جگہ سے مایوس ہو جانے کے بعد اس لڑکی کا رشتہ مجھ سے طے کر دیا گیا-اور اس طرح میری شادی ہو گئی-
دو سال کا وقت ٹھیک سے گزرا -ناصرہ نے بیوی کے فرائض بخوبی نبھائے-میں بھی اپنی قسمت پر خوش اور گزشتہ زندگی کے ایّام بغیر شادی کے گزار دینے پر مایوس تھا کہ مجھے عمر کے فرق کا غم ستانے لگا -مجھے ناصرہ کی زندگی پر رحم سا آگیا -ایک دن مجھے خیال آیا کہ میں زندگی کی اس دہلیز پر کھڑا ہوں جہاں موت کا فرشتہ کبھی بھی آکر میری روح قبض کر سکتا ہے-اس بات کا خوف مجھ پر اس قدر طاری ہو گیا کہ میں نے مکان ناصرہ کے نام لکھ دیا-اور بینک میں ناصرہ کے نام کا اکاونٹ کھول کر اپنی آمدنی کی ساری رقم اس میں جمع کر دی -ناصرہ کو یہ سب دیکھ کر مجھ پر اور پیار آنے لگا -اور وہ میری خوب خدمت کرنے لگی -میں اپنی اس نئی زندگی سے بےحد خوش اور مطمئن تھا کہ یک بیک میری زندگی میں ایسا موڑ آیا جس نے میری زندگی کا رخ ہی بدل دیا—-
میں پوری طرح لٹ چکا تھا -میری بیوی مکان بیچ کر اور بینک میں رکھی دو لاکھ کی رقم لے کر فرار ہو چکی تھی -کافی جستجو کے بعد مجھے پتہ چلا کہ وہ کولکتہ میں کسی کے ساتھ شادی کر رہ رہی ہے –
میں آپ کے پاس اسی کیس کے سلسلے میں آیا ہوں کہ اب میں اپنی بیوی کو کس طرح حاصل کر سکتا ہوں؟رجب علی بیگ کی داستان سن کر میں خود حیرت میں پڑ گیا-میں نے سوچا یہ تو تعزیرات ہند کی دفعہ ٤٢٠ کا معاملہ ہے -مجھے اس لڑکی کی اس حرکت پر کافی غصہ آیا- آخر اسے یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی-اسے کم از کم رجب علی کی عمر کا تو خیال رکھنا چاہئیے تھا -اب انکی زندگی کے دن ہی کتنے بچے تھے -مجھے اس بزرگ ہستی سے ہمدردی سی ہو گئی-میں نے ان سے کہا آپ میری فیس جمع کرا دیں اور چار روز بعد تشریف لائیں -مجھے اس کیس میں دلچسپی پیدا ہو گئی تھی -لہذا مجھے آفس کے کام سے جب کولکتہ جانا ہوا تو میں اس لڑکی کے پتہ پر اس سے ملنے گیا-
ایک خستہ بوسیدہ سا مکان جس کے درودیوار حزن و یاسیت کا دلگداز منظر کسی بےکس اور مجبور کی حالت زار کی نمناک داستان پیش کر رہے تھے-میں کچھ دیر کے لئے ٹھہر گیا-میری ہمّت جواب دینے لگی مجھ میں آگے بڑھ کر دستک دینے کی طاقت نہیں رہی -میں یہیں سے لوٹ جانے کی سوچ رہا تھا کہ میرے اندر کا انسان جاگ اٹھا- اسنے میری ہمّت بڑھائی -میں آگے بڑھا اور میں نے مکان کے دروازے پر دستک دی ایک نحیف سی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی اور دروازہ کھلنے پرایک دبلی پتلی سی لڑکی میرے سامنے تھی – جسے دیکھ کر میرے منہ سے آہ نکلتے ہی رہ گئی -میں نے اپنا تعارف دیا -وہ تھوڑی دیر ٹھٹھکی پھر اسنے مجھے اندر آنے کے لئے کہا –
میں نے اس سے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا وہ گھبرائی ہوئی رو پڑی اور اتنا روئی کے اسکا دامن آنسوؤں سے تر بتر ہو گیا -مجھے ایسا لگا یہ کافی دنوں کے اکٹھا آنسو تھے جو میرے سامنے اپنے گہرے غم کا اظہار کر رہے تھے -میں نے اپنی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا آخر تم نے ایسا کیوں کیا؟
اسنے پھر روتے ہوئے بیان کیا ” وکیل صاحب میں تو پہلے ہی بیوہ ہو چکی تھی -گھر والوں نے میری دوسری شادی باپ کی عمر کے آدمی سے کردی -زیادہ عمر کا شوہر پا کرمیرے دل پر جو چوٹ لگی ہوگی اسے آپ محسوس کر سکتے ہیں -پھر بھی میں نے اسے اپنی قسمت سمجھ کر صبر کیا -لیکن میرا سوچنا غلط تھا رجب علی بیگ بے حد غصے والے انسان ثابت ہوئے –
وہ اوپر سے جتنا شریف دکھتے ہیں اندر سے اتنے ہی شیطان صفت انسان ہیں-آپ میرے چہرے کو غور سے دیکھیں جگہ جگہ آپ جو جلنے کے نشانات دیکھ رہے ہیں یہ ان کے درندگی کی نشانی ہے -ان زخموں میں کچھ زخم ایسے بھی ہیں جو ابھی تک ٹھیک نہیں ہو رہے ہیں ان سے آج تک خون اور ریم نکل رہے ہیں کچھ ایسے گہرے زخم بھی ہیں جسے میں دکھا نہیں سکتی – میں انہی زخموں کے علاج کے واسطے ان سے دور بغیر اجازت کولکتہ آئی ہوں -کیوں کہ ان کے پاس رہ کر میں ان زخموں کا علاج نہیں کرا سکتی تھی –
دن میں تو سب کچھ ٹھیک چلتا تھا -لیکن رات کے اندھیرے میں وہ اپنی سگار میرے جسم پر ہی بجھاتے تھے – میں ان کے اس عتاب سے بھاگ بھی نہیں سکتی تھی -میں نے کسی سے اس کا تذکرہ کرنا مناسب نہیں سمجھا کہ اس سے دونوں کی بدنامی ہوتی اور میرے ساتھ رجب علی صاحب کی باقی زندگی بھی دشوار گزرتی- میں نے بہت غوروفکر کے بعد یہ قدم اٹھایا کہ ان کی زندگی سے دور چلی جاؤں -لوگ کچھ دن مجھے برا بھلا کہیں گے اور پھر بھول جائیں گے –
ہاں میں نے ان کی رقم ضرور لے لی ہے جس کی میں گنہگار ہوں -لیکن بغیر رقم کے میں اپنا علاج بھی تو نہیں کروا سکتی تھی –
رجب علی صاحب تو اچّھی خاصی پنشن لے رہے ہیں -پھر ان کے پاس تو ابھی کئی مکان ہیں جس کا کرایا بھی اچّھا خاصا وصول کرتے ہیں -اگر میں نے ایک مکان جسے انہوں نے تحفے میں مجھے دیا تھا بیچ دیا تو کون سا جرم کر دیا -ان کے دیے گئےزخموں کے آگے کیا میرا جرم زیادہ سنگین ہے؟؟
ناصرہ کی درد بھری داستان سن کر میرا کلیجہ منہ کو آگیا -مجھے اس سے ایک سگی بہن جیسی ہمدردی ہو گئی- میں ناصرہ کو لیکر گھر چلا آیا-اس کی پوری ڈاکٹری جانچ کروائی اور رجب علی بیگ کے خلاف کریمنل ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کروایااورپولس کی مدد سے رجب علی بیگ کو سلاخوں کے پیچھے ڈلوا دیا-
آسمان پر شفق کی لالی چھائی ہوئی تھی -آج کا سورج غروب ہو رہا تھا – پرندوں کا جھنڈ سامنے گھنے پیڑوں پر اپنے بسیروں پر آرام کرنے کے لئے اکٹھا ہو رہا تھا – مسجد کے میناروں سے حی علی ا لفلاح کی صدا بلند ہو رہی تھی -میں بارگاہ الہی میں سر بسجود ہو گیا اور قسم کھائی کہ میں رجب علی بیگ سے اپنی بہن کے ایک ایک زخم کا حساب لیکر ہی دم لونگا –
میرا دل ناصرہ کے زخموں پر مرہم لگا کر پر سکون ہے -آج آسمان کے تاروں نے بھی کل کے امید صبح نو کی نوید سنادی ہے-سونے سے قبل میں ناصرہ کے کمرے میں اسکی خیریت لینے گیا وہ کچھ زیادہ ہی غمگین نظر آ رہی تھی میں نے وجہ پوچھی تو وہ رو پڑی اور بولی مجھے رجب علی بیگ صاحب کی سلاخوں کے پیچھے کی سسکیاں سنائی دے رہی ہیں …

Views All Time
Views All Time
419
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   انجانا احساس

3 thoughts on “زخموں کا حساب

  • 18/08/2016 at 7:41 صبح
    Permalink

    muntazmeen qalmkar hazrat ka afsana ”zakhmon ka hisaab”shaya kerne k liye bahut bahut shukriya.

    Reply
    • mm
      18/08/2016 at 8:27 صبح
      Permalink

      معین السلام صاحب ویلکم۔ امید ہے مستقبل میں بھی آپ کے افسانے قلم کار کے لئے ملیں گے۔

      Reply
      • 28/08/2016 at 3:55 شام
        Permalink

        انشا الله ضرور

        Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: