سیلف میڈ

Print Friendly, PDF & Email

Self Madeعالی افسانہ میلہ 2016 عالمی افسانہ فورم ۔۔۔۔
افسانہ نمبر 3 ۔۔ سیلف میڈ
افسانہ نگار: صبیحہ گیلانی ۔۔۔۔ ملتان ۔۔۔
میں سیلف میڈ ہو ں ۔،زندگی کی بساط پر،عقل و فہم سے میں نے بڑی بازیاں جیتی ہیں۔ذہانت اور محنت کے امتزاج سے میں نے دولت وعزت کو اپنی باندی بنا لیا ۔
مجھے یاد ہے ،ہوائی چپل پہنے جب میں امتحانی سنٹر میں گھستا تو میرا قلم تین گھنٹے فراٹے بھرتے ہانپنے لگتا۔پرچے کے آخری لمحے تک میرے اطمینان میں کوئی کمی نہ آتی۔میرے دائیں بائیں بیٹھے لڑکے مجھے منہ بھر بھر کے گالیاں دیتے چونکہ اس سمے میں بہرہ ہوجاتا۔مجھے اس بات کا کوئی غم نہیں کہ میرے اس رویے سے شاید ہی میرا کوئی دوست رہا ہو۔ویسے بھی وہ سب میرے دوست تھے بھی نہیں،وہ سب غرض کے مارے تھے میری محنت اور ذہانت کے نقیب، یہ اور بات کہ میری بیداری نے انہیں کبھی نقب لگانے کا موقع نہ دیا۔
سکول جاتے سمے ،اکثرمیری ہوائی چپل اپنے ہاتھ پاؤں چھوڑ دیتی۔لہذا مجھے کئی بار رکنا بیٹھنا پڑتا۔میں پنسل سے چپل کے ٹوٹے حصے کوتلوے کے سوراخ میں دباتااور چل پڑتا۔گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں سکول واپسی پر،آسمان پر جب کہیں کہیں کالے بادل نمودار ہوجاتے۔اینٹوں سے بنے سولنگ پر،کبھی دھوپ ہو جاتی تو کبھی چھاؤں۔۔دورفاصلے پرجب یہ چھاؤں کھیتوں پہ ہوتی تو وہ اور سر سبز دکھنے لگتے۔چھاؤں کے حصول کے لیے میرے قدموں میں تیزی آجاتی تومیں بستے کی پتلی سی تنی کو ماتھے پرٹِکا کربھاگ پڑتا۔
میرا باپ کبھی بھی میری پڑھائی کے حق میں نہ تھا۔ وہ وڈیری عمرکا تھا، میری ماں اس سے اٹھائیس سال چھوٹی تھی ۔لہذاوہ چاہتا تھا میں محنت مزدوری کر کے جلد از جلد کمانے لگوں۔میرے اول آنے اور ملنے جلنے والوں سے میری تعلیمی کارکردگی کا سن کر اس کے کان پر جوں تک نہ رینگتی۔وہ اپنی با ت پہ اڑارہا اور میں اپنی مطالبے پہ ڈٹا رہا۔والدین کے درمیان اگر کوئی اختلافی موضوع تھا بھی تووہ تھی میری پڑھائی۔اسی سبب ،میری ماں اکثر میری ڈھال بنے میرے باپ کے ہاتھوں پٹتی ۔جب کبھی میں ہتھے چڑھ جاتا تو اگلے روز کھیتوں کو پانی لگا دیتا یا اسپرے کر دیتا،اس سے اگلے دن پھر میں ہوتا اورمیرے سکول کا رستہ۔۔ہاں کبھی کبھی میں ڈر کے مارے گھر سے بھاگ جاتااور بابا فرزند شاہ کے ڈیرے پہ لگے برگد کے چاروں جانب پھیلے درخت کے نیچے گھنٹوں بیٹھا رہتا۔پھر میری ماں دوپٹے سے سر باندھے ،اسکے ایک پلو سے ناک پونچھتی ،بڑبڑاتی،میری جانب چلی آتی۔اسے پتہ ہوتا تھا کہ گھر سے بھاگا اس کا بیٹا اسے یہیں ملے گا ،ٹانگوں میں سر دئیے،مٹی پہ جمع تفریق کرتے۔۔
میں نے کبھی دعا نہیں کی تھی ۔کی تھی تو بس محنت ۔میری ماں میرے لیے ہر وقت دعائیں کرتی رہتی ۔وقت گزرتا گیا۔میڑک بورڈمیں پہلی پوزیشن لینے پر میرے تمام اساتذہ میرے گھر آئے،مبارکبادکے بعد وہ سب کالج اور پھر فرسٹ ائیر میں رکھے جانے والے مضامین پر بات چیت کرتے رہے۔حقہ پیتا میرا باپ ،زمین پہ نظریں گاڑھے جی جی کرتا رہا جبکہ اس کے ماتھے پہ نظر نہ آنے والے بل مجھے دکھائی دے رہے تھے۔ان سب کے رخصت ہوتے ہی میرے باپ نے طوفان کھڑا کر دیا۔شعلہ بنے میرے باپ کو میر ی ماں نے یہ کہہ کر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی کہ وہ میرا خرچہ خود اٹھا ئے گی۔رزلٹ کارڈ آنے پر سر ریاض نے میری فیس ادا کی ۔ماں نے عید کے جوڑے کی بجائے مجھے یونیفارم دلا دیا۔جبکہ رمبے تانگے والے نے میری لیاقت کو سراہتے ہوئے ہوائی چپل سے نجات دلا دی۔باوجود اس کے میں نے کالج کے چار سال بڑی تنگیاں کاٹیں۔پھر بھی میرا جنون کم نہ ہوا۔ویسے بھی میں اساتذہ کی گڈ بک میں تھایوں فیس میرا مسئلہ نہ بنی۔کچھ مل ملا کر وظیفے کے پیسے،ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ثابت ہوتے۔سٹوڈنٹ کارڈ مجھے کرائے کی فکر سے آزاد کر دیتا۔مگراس دوران میرے ماں باپ میں جھگڑوں کی آنکھ مچولی جاری رہی۔۔
بی اے میں میں نے ضلع بھر میں اول پوزیشن لی۔اساتذہ کے مشورے سے میری اگلی منزل سی ایس ایس طے ہوئی۔میری ماں کو اس بلا کا پتہ نہ تھا۔اس نے اپنے بھائیوں کے گھر چھوڑا بکرا بیچااور پیسے مجھے تھما دئیے۔جب میں ماں کو ملنے گھر آتا تومجھے اپنے باپ کی آنکھوں میں جو دیکھنے کو ملتا وہ برہمی سے کچھ آگے کی چیز تھی ہاں قہر۔پھر جب مقابلے کا امتحان دے کرمیں گاؤں واپس آیاتو سارا دن میں آٹے کی چکی کی آواز سنتا رہتا یا کوٹھے میں تنکے لانے والی چڑیوں کو دیکھتا رہتا۔وہ دن مجھے توے سے اتری روٹی کی طرح یاد ہے۔جب رمبے تانگے والے نے خبر دی کہ نتیجہ آگیا ۔زندگی میں پہلی مرتبہ میرا دل زور زور سے دھڑکا تھا۔۔میں امتحان پاس کرگیا۔۔انٹرویو سے دو دن قبل میں ماں سے ملنے آیا۔دھوتی کی ڈھابیں کستے میرے باپ نے مجھے حقارت سے دیکھا۔ماں نے مجھے آنکھوں ہی آنکھوں میں چپ رہنے کا عندیہ دیا۔جب میں جانے لگا تو دوری میں چٹنی سے روٹی کھاتی میری ماں کومیرے باپ نے دھر لیااور دوری کے پاس دھرا ڈنڈا میری ماں کی کمر پہ دے مارا۔وہ لمحہ آج بھی میری آنکھوں میں پیوست ہے۔میرا باپ مجھے مارنے کے لیے کچھ ڈھونڈ رہا تھا ،ماں نے مجھے روتے اوردھکا دیتے ہوئے کہا
جلدی جاپتر۔۔جلدی ۔۔۔گلی کی نکڑ تک میں گھر سے آنے والی آوازیں سنتا رہا۔۔۔
انٹر ویو دیا اور میری سلیکشن بھی ہو گئی۔میں والدین کو لے کر شہر آگیا۔میری ماں کو فالج کا اٹیک ہوا تھا۔وہ بول نہ سکتی تھی۔بہت بیمار رہنے لگی تھی۔خصوصا جاڑوں میں میری ماں کم درد سےبستر پہ بری طرح تڑپتی۔باوجود علاج کے وہ بے حد تکلیف میں دنیا سے چلی گئی۔میں اتنا جانتا ہوں وہ مجھ سے خوش تھی۔اسکی آنکھوں کی لُو مجھے دیکھ کربڑ ھ جاتی۔میرا باپ چپ رہنے لگا تھا۔شاید اسے گاؤں یاد آتا تھا۔وہ گرمی میں بھی لان کے درختوں تلے چارپائی پر پڑا رہتا۔
میر ی بیوی حوریہ پڑھے لکھے اور ویل سیٹلڈ گھرانے سے ہے۔اس نے مجھ سے پسند کی شادی کی۔اس لیے کے اسے میرے جیسے لوگ پسند ہیں۔سیلف میڈ!وہ ہر تقریب میں ،ہر ملنے جلنے والے کو بھی فخر سے بتاتی ہے کہ میرے شوہرایک سیلف میڈ انسان ہیں۔روزانہ آفس جاتے جب میں تیار ہوتا تو آئینے میں میرا،عکس مجھ سے سرگوشی کرتا،سیلف میڈ۔۔۔میرے ہونٹوں پہ مسکراہٹ بکھر جاتی۔
ایک روز میں آفس میں تھاجب حوریہ کا فون آیا۔وہ بوکھلائی ہوئی تھی،پیچھے بہت چیخ وپکارتھی۔میں محض اسکا ٹوٹا جملہ سن پایا،،وہ وہ ،ابا جان،،میں آناََ فاناََ گھر پہنچا۔سبھی نوکر ،میری بیوی میرے باپ کے گرد جھمگھٹا بنائے کھٹرے تھے۔اور میرا باپ ساکت و جامد میری ماں کی تصویر کو دیکھ رہا تھا۔وہ یہ دوپہر کو اچھے بھلے تھے،مجھے کہتے سیلف میڈ کیا ہوتا ہے۔ابھی میری بیوی کی بات مکمل نہ ہوئی تھی کہ میرا باپ جیسے کسی گہری نیند سے جاگا۔اس کی ساکت پتلیوں میں جنبش ہوئی،ایک نظر مجھے دیکھا،انگلی کا اشارہ میری جانب کیااور میری ماں کی تصویر کو دیکھ کر بُری طرح چیخنے لگا۔
سیلف میڈ!سیلف میڈ!۔

Views All Time
Views All Time
406
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   سمجھوتا (جاپانی افسانہ)-تاسوزو ایشیکارا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: