خود اگائے پودے اور خود رو طلباء

Print Friendly, PDF & Email

irfanمیں اسلام آباد کے ایک کالج میں کنٹریکٹ پر بھرتی ہوا تھا۔ پرنسپل صاحب ساری زندگی بیوروکریسی میں گزار کر، 19 گریڈ حاصل کرنے کے بعد، اب شعبہ تعلیم کو اپنے تجربات سے مستفید کرنے کے لیے اپنی چاہت سے بطورِ پرنسپل تعینات ہوئے تھے۔ پاکستان میں یہ بڑی سہولت ہے کہ بیورکریسی کے اعلی عہدیداران اپنی مرضی سے شعبہ تعلیم میں جب چاہیں کود سکتے ہیں، اور وہ بھی براہِ راست پرنسپل یا صدرِ شعبہ کی حیثیت سے۔ تجربہ کی کوئی ضرورت، نہ ہی کوئی پوچھتا ہے، بلکہ لوگ ممنون ہو رہے ہوتے ہیں کہ آپ جیسے اعلی افسر نے شعبہ تعلیم کو اس قابل سمجھا کہ اپنے غیر تعلیمی تجربات سے تعلیم کی دنیا کو سیراب کرنے کے لیے اپنے عہدے کی معراج سے نیچے اتر آئے۔
پرنسپل صاحب پوٹھوہار سے تعلق رکھتے تھے۔ اپنی ثقافت سے بہت زور سے جڑے ہوئے تھے۔ پیڑ، پودے، کھیتی باڑی ان کے دل و دماغ کی آماج گاہ تھے۔ ادھر کالج کےتعلیمی اور ظاہری دونوں ہی حالات دگرگوں تھے۔ پرنسپل صاحب نے (صرف) ظاہری حالت کو ٹھیک کرنے کی ٹھان لی۔ شاید ان کا خیال تھا کہ جیسے ایک صحت مند دماغ ، صحت مند جسم میں ہوتا ہے اسی طرح کالج کی خوبصورتی سے معیارِ تعلیم خود بخود اچھا ہو جاتا ہے ۔ جیسے ہمارے حکمران سمجھتے ہیں کہ سڑکیں بنانے، میڑو بس چلانے، اور طلباء کو سفری سہولتین دینے سے طلباء کا معیارِ تعلیم اورعوام کا معیارِ زندگی خود بخود بہتر ہو جاتے ہیں۔ خیر پرنسپل صاحب نے آتے ہی کالج کی آرئش و زیبائش پر خصوصی توجہ مرکوز کر دی۔
پرنسپل صاحب کا ذوق دیکھتے ہوئے، اساتذہ نے بھی پینترے بدل لیے۔ سٹاف میٹنگز میں پودوں، ان کی مختلف اقسام، مختلف موسموں کے مختلف پودوں، ان کے مزاج، بیماریوں اور ان کے علاج وغیرہ جیسے’ تعلیمی’ موضوعات زیرِ بحث رہنےلگے۔ طلباء کے کسی مسئلہ کا ذکرآتا بھی تو وہ یا تو نظر انداز کر دیا جا تا یا کسی اور کے حوالے کر دیا جاتا۔ کیاریوں کے سینچنے، گھاس کی کٹائی، ان کے لیے درکار تلواروں اور ان کی اشکال اور کارکردگی پر معرکۃ الآرا مباحث ہوتے۔ جنرل میٹنگزمیں اساتذہ کے سپاس نامے، پرنسپل صاحب کی ان ہی شاندارخدمات کے تذکروں سے بھرے ہوتے، اس کے علاوہ انہیں کوئی بات سوجھتی بھی تو نہ تھی۔
کالج کے مالی تو کام پرلگائے ہی ہوئے تھے، مگر پرنسپل صاحب کو اطمینان نہ ہوتا تھا۔ چنانچہ ان کی نگرانی کے لیے اعلی تعلیم یافتہ اساتذہ کومقررکردیا جاتا لیکن ان میں بھی صرف جونئیراساتذہ کو۔ یہ اساتذہ سارا دن مالیوں کے اوزار پورے کرنے، مرمت کروانے اوردھوپ میں ان کی نگرانی کرنے میں لگے رہتے۔ یوں، کالج دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگا۔
ایک دن پرنسپل صاحب نے کالج کے مختلف شعبہ جات، اساتذہ کے حوالے کرنے کے لیے میٹنگ بلوائی۔ ہرایک سے پوچھا گیا کہ آپ کونسا شعبہ لینا چاہیں گے۔ بات جب مجھ تک آئی تو میرے دل کی بات میری زبان تک آ گئی۔ میں نے عرض کیا ، ” مجھے سٹوڈنٹ افئیرز کا شعبہ دے دیا جائے۔ مجھے طلباء کے تعلیمی، جذباتی اور نفسیاتی مسائل حل کرنے میں دلچسپی ہے۔ میں ان خود رو پودوں کی تراش خراش کرنا چاہتا ہوں (یہ آخری جملہ میں نے دل میں کہا)”۔ پرنسپل صاحب کو مجھ سے اس جواب کی امید ہر گز نہیں تھی۔ مالیوں کے ساتھ پھول، پودوں کی دیکھ بھال اور گھاس کٹائی کے سلسلے میں میری عمدہ کارکردگی کے مشاہدہ کے بعد انہیں توقع نہیں تھی کہ میں پودوں سے بے وفائی کر کے خود رو پودوں (طلباء) کو چنوں گا۔ انھوں نے اس غیر متوقع جواب پر کچھ دیر توقف کیا اور پھر کسی دوسرے شریکِ محفل استاد سے مخاطب ہو کر بولے، ‘ اچھا، آپ یہ بتائیں کہ اگر کالج کے پچھلی طرف والی زمین جس پر جھاڑ جھنکار اگ آیا ہے، وہ اگر ٹھیکے پرکھیتی باڑی کے لیے دے دی جائے تو کتنی گندم اور مکئی پیدا ہو سکتی ہے؟”

Views All Time
Views All Time
522
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   جنرل راحیل شریف کی خدمات پر ایک نظر - بنتِ لیاقت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: