Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

داغ دل ہم کویاد آنے لگے

داغ دل ہم کویاد آنے لگے
Print Friendly, PDF & Email

Gurmaniبھلے مچھروں, دن میں زیاده سونے یا گرمی کی وجہ سے نیند نہ آ رہی ہو مگر ہماری پاکستانی قوم اس میں بھی عشق کا پہلو نکال لیتی ہے کہتے ہیں غم کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو نیند سے پہلے تک ہے گویا نیند تو غم میں جاۓ پناه ہے پھر ایسا کونسا محبوب یا محبوبہ ہے جسے عشق میں ناکامی کے ساتھ ہی انسومنیا کی بیماری لاحق ہو جاتی ہےایسا کچھ نہیں ہوتا عشق تو ہمارے زمانے میں ہوا کرتا تھا
میرے زمانے میں جب میں چھوٹا بچہ تھا مجھے اک لڑکی سے عشق ہو گیا جب وه سامنے آتی تو میری گھگھی بندھ جاتی اور اس کے جاتے ہی سانس بحال ہوتی..
میں اپنے حصے کے فروٹ آدھے کھا کر یا کبھی کبھی پورے بھی زور سے اس کے گھر کی جانب پھینکا کرتا تھا کہ یہ اس کو مل جاۓ گا
اس چکر میں ملنوریشٹ (غذائی کمی کا شکار) ہو گیا
بس جی اک دن وه میرے گھر آئی تو میں کھانا کھا رہا تھا اس کے سامنے اک نوالہ تک نہ نگلا گیا کہ وه کیا سوچتی ہوگی کہ یہ کھانا بھی کھاتا ہے
مجھے لگتا تھا کہ مجھے غلط بنایا گیا ہے وه ضرور سوچتی ہو گی کہ اس کا پیٹ ہے اس کی انتڑیاں بھی ہوں گی اسے بھوک بھی لگتی ہو گی یعنی انسان کے فطری ضروریہ کے تمام عوامل مجھے اس کے سامنے شرمنده کر دیتے تھے عید کے دن میں اس کے گھر میٹھا دینے گیا دیکھا تو محترمہ چارپائی پہ آلتی پالتی مارے اتنا بڑا منہ کھول کر دونوں ہاتھوں سے سویاں ٹھونس رہی تھیں
بس میرا عشق اس سے ختم ہو گیا
اس کے بعد تھوڑا بڑا ہوا لڑکپن میں خاندان کی اک شادی میں اس پری چہره لڑکی کو دیکھا سفید فراک میں جچ رہی تھی وه میں دیکھتا گیا اور حواس کام چھوڑتے گئے بس پھر کیا مجھے کام نہیں بھی ہوتا تھا تو اس کے آس پاس کی آنٹی کے پاس جا کے پوچھتا کہ آپ کا بیٹا کہاں ہے فلاں آنٹی آپ کو ڈھونڈ رہی سنیں آپ کے منے نے پشی کی ہوئی ہے وه کمرے میں رو رہا ہے اور..
اس شادی پہ نظریں ملیں نام کا تبادلہ ہوا کہانی کچھ بڑھنے لگی تو شادی ختم ہو گئی وه شہر چلی گئی اور میں دیہات میں گھاس کاٹتے ہوۓ اکیلا خیالوں میں زور زور سے اس سے باتیں کرتا اسے بتاتا کہ میں اسے کتنا یاد کرتا ہوں تصور ہی تصور میں مجھے وه جواب دیتی نظر آتی
ہمارا اک ملازم ہوتا تھا منا نام کا اس نے مجھے دو چار بار ایسے خود سے باتیں کرتے ہنستے ہوۓ دیکھ لیا اور اس نے میری دادی کو بتا دیا
دادی نے سمجھا بچے پہ سایہ ہے تو جی علاقے کا کوئی بابا پیر بزرگ نہیں چھوڑا گیا
جس بزرگ کے پاس گئے اس نے کہا اس پہ تو چڑیل عاشق ہو گئی ہے یہ یہ چیزیں صدقه کریں اور دم کرانے آیا کریں جس دن دم درود کرانے لے جانا ہوتا سکول سے بھی چھٹی ہوتی لہذا میں بھی خوشی سے اس ڈرامے میں حقیقت کا رنگ بھرنے کیلیے دادی کو آتا دیکھتا تو جان بوجھ کے زور زور سے بولنے لگ جاتا
اک دن گھاس کاٹتے ہوۓ میں تصور جاناں کیے ہوۓ بولے جا رہا تھا اس بات سے بے خبر کے پیچھے بڑا بھائی کھڑا سب سن رہا ہے بس جناب اس کے بعد مجھے خوب مار پڑی مگر میں دل میں ڈٹا رہا کہ سچا عاشق ہوں ہار نہیں مانوں گا کہ خبر ملی پری چہره کا اس کےچچا زاد سے نکاح کر دیا گیا ہے اور وه بہت خوش ہے پہلے پہل میں نے بھی غمگین ہیرو جیسا ری ایکٹ کرنے کی کوشش کی کھانا کھانے سے انکار کرنا چاہا رات کو جاگنے کی کوشش کی که عشق میں ناکامی کے بعد نیند اڑ جانی چاہیے مگر ناکام ہوا میں بھی اس کی خوشی میں خوش ہو گیا اس کے بعد پڑھائی کتابوں سے عشق جاب اور صحافت نے کبھی کسی مہوش مہ جبیں سے عشق کرنے کا وقت ہی نہیں دیا اب شعور کے ادراک کے بعد کوئی اچھا بھی لگے تو اپنی امیج کے ڈر سے کچھ کہہ نہیں پاتا
لیکن مستورات سے اتنا کہنا چاہوں گا کہ اگر لکھاری کو آپ سے پیار ہو جاۓ تو آپ کبھی نھیں مر سکتے.

Views All Time
Views All Time
763
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

One commentcomments2

  1. حامد علی زیدی

    بچپن کے معصوم یکطرفہ معاشقے بھی
    عجیب ہوتے ہیں حافظے پہ ایسے نقش
    ہوتے ہیں کہ مٹ کے ہی نہیں دیتے ،،، اگر آپ کی طرح تسلسل ہو تو کیا کہنے،،،
    جوانی میں تو یہ توفیق ہر کسی کو بقدرِ ہمت ودیعت ہوتی ہے ،،، کبھی خیالوں میں اور کبھی سچ میں پھر کبھی تو جیسے جیسے یہ عشق کی افطاری کا وقت قریب آتا ہے پیاس بھڑک اُٹھتی ہے
    ماں باپ اور ظالم سماج بچے کی مدد کرتے ہیں اور اُس کے ساتھ وہ کرتے ہیں کہ وہ زندگی بھر یاد کرتا ہے،،،
    یعنی
    عاشقی قیدِ شریعت میں جب آجاتی ہے
    جلوہِ کثرتِ اولاد دکھا جاتی ہے
    اور
    کبھی وہی اک خُواب
    کہ یہ لو دس کروڑ روپے اور نکل جاؤ میری بیٹی کی زندگی سے ،،،،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: